دہشت گردوں کیلئے ‘جنت’ جیسا ہے سرینگر کا سینٹرل جیل

0

خصوصی رپورٹ

جموں:گزشتہ روز سرینگر کے اسپتال سے لشکر طیبہ کے دہشت گرد ناوید جٹ کے فرار ہوجانے کے بعد سے سیکورٹی انتظامات پھر سےسوالوں کے گھیرے میں ہے۔ٹائمس آف انڈیا کو ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق سری نگر سینٹرل جیل کے سارے قائدے قانون پس پشت ڈال دیے جاچکے ہیں ،وہ جیل دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کیلئے کشمیری وازوان،مٹن،انٹرنیٹ ڈیٹا پیک،ذائقہ دار کھانا اور دیگر تمام عیش و مستی کے سامان دستیاب ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے،اعلی افسران کی طرف سے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جیل کے اندر جس قدر دہشت گردوں کو آزادی حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قاسم الیاس فکتو جو کہ  سماجی کارکن ایچ این ونچو کے قتل کے الزام میں سرینگر جیل کے اندر سزا کاٹ رہا ہے،کشمیری میڈیا پوری آزادی کے ساتھ قاسم کے پریس ریلیز کو لے جاتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بڑے دہشت گرد جن کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے ،گزشتہ روز ایک درجن سے زائد لوگ جو ان کو نیک انسان تسلیم کرتے ہیں ،ان سے ملنے آئے اور ان کو تعویذ بھی دیا۔

ذرائع کے مطابق جیل کی سزا کاٹ رہے عسکریت پسندوں کے لیڈر کھلے عام موبائل فون استعمال کررہے ہیں اور اپنے باہر کے ہندوپاک کے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔سن 2010 میں کشمیرکے اندر جو بدامنی پھیلی تھی اس میں سب سے بڑا ہاتھ حریت پسند لیڈر مسرت عالم کا تھا جنہوں نے جیل کے اندر سے ہی بذریعہ فون سارا پروگرام طے کیا تھا۔

دہشت گرد ابو حنظلہ

قریب دس سال قبل ایک بار سینٹرل جیل کے اندر چھاپہ ماری کی گئی تھی جس میں مٹن کاٹنے والا بڑا چاقو،کباب بنانے والی چھریاں اور ایک درجن سے زائد موبائل فون برآمد ہوئے تھے ،لیکن اس کریک ڈاؤن سے بھی کچھ نہیں بدلا اور حالات فی الوقت اس سے کہیں زیادہ خراب ہوگئے ہیں ،جس کے بعد سری نگر کے اس سینٹرل جیل کو دہشت گردوں کیلئے جیل نہیں جنت کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔

بہر حال یہ کوئی واحد جیل نہیں ہے جو دہشت گردوں کیلئے جنت سےکم نہ ہو بلکہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں پولس نے بارہمولہ کے جیل سے قریب 20 موبائل فون اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا تھا۔ وہیں دوسری طرف خفیہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسپتال کے متعدد ڈاکٹر جو دس دس سال سے ایک ہی جگہ پر کام کررہے ہیں ان میں سے کچھ ڈاکٹر ایسے ہیں جن کی خاص مدد سے دہشت گردوں کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور شاید یہی کارن ہوسکتا ہے کہ گزشتہ روز لشکر کا دہشت گرد ناوید جاٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.