نئی دہلی:آندھرا پردیش میںسیاسی اتھل پتھل شباب پر ہے ۔ایک طرف جہاں مرکزی سرکار میں وزیر برائے سول ایوایشن پی اشوک گجپتی اور مرکزی وزیر برائے سائنس وٹکنالوجی سرجنا چودھری نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔وہیں دوسری طرف آندھرا پردیش کی کابینہ میں بی جے پی کے دو ریاستی وزیر نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ڈاکٹر کامینیی سرینواس اور پیڈیکونڈالہ منی کیالہ راو جو کہ ریاست میں بی جے پی کی طرف سے وزارت کی کرسی پر براجمان تھے ،انہوں نے بھی اپنی وزارت سے استعفی ٰ دے دیا ہے۔مرکزی وزارت سے استعفیٰ دینے والے دونوں وزراءتیلگو دیشم پارٹی سے ہیں۔وہیں اسمبلی میں آج ٹی ڈی پی کے سپریمو اور وزیرا علیٰ چندربابو نائیڈو نے کہا کہ ہماری سرکار کے اندر رہ کر بی جے پی کے دونوں وزراءنے اچھا کام کیا ہے۔ساتھ میں انہوں نے مرکزی سرکار پر نشانہ بھی لگایا اور کہا کہ انہوں نے وعدہ کرکے ہماری ریاست کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دیا ہے،اسی بنیاد پر ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں شامل ہوئے تھے ۔وہیں دوسری طرف سی ایم چندر بابو نے کہا کہ جب میں وزیراعظم کے یہاں اپنا فیصلہ بتانے گیا تو پھر وہاں پی ایم موجود نہیں تھے اور انہوں نے ہمارے ساتھ بے توجہی اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔

دوسری طرف ٹی ڈی پی کے رکن اسمبلی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے بیچ تلخیاں بڑھ گئی ہیں ،ہمارا مقصد صرف ریاست کو خصوصی درجہ دلانا ہے جس وعدے کے ساتھ ہم بی جے پی کے ساتھ تھے لیکن انہوں نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا ہے جس کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ بنے رہنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کو چاہیے کہ وہ ہمارے مطالبے میں ہمارا ساتھ دے اور راہل گاندھی کو اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر آندھراپردیش کی لڑائی میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔کانگریس سابق صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ عشائیہ کے حوالے سے رام موہن نے کہا کہ ہماری پارٹی ڈنر کیلئے نہیں جارہی ہے بلکہ ہم آندھرپردیش کی لڑائی کیلئے لوگوں سے رابطہ کررہے ہیں۔ وہیں شیو سینا کے لیڈر سنجے راوت نے بھی بی جے پی اور ٹی ڈی پی کے درمیان جاری جنگ پر حملہ کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔بی جے پی سے اور اور بھی پارٹیاں الگ ہوں گی۔بھاجپا ایک ایسی پارٹی ہے جس کے ساتھ زیادہ دنوں تک رہ نہیں سکتے۔اور ابھی جو آندھراپردیش میں ہوا وہ سب متوقع تھا۔

وہیں دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ جب اس کی پارٹی سرکار میں آئے گی تو وہ آندھراپردیشن کو ضرور خصوصی ریاست کا درجہ دیں گے ۔راہل کے اس آفر کے بعد مانا جارہا ہے کہ ٹی ڈی پی اب کانگریس پر ایک بار پھر اعتبار کرکے اس کا ہاتھ تھام سکتی ہے۔

Facebook Comments

6 COMMENTS

  1. Thanks, I’ve recently been searching for info about this subject for ages and yours is the best I’ve came upon till now. However, what about the bottom line? Are you sure in regards to the supply?

  2. Hey, you used to write excellent, but the last several posts have been kinda boring… I miss your great writings. Past few posts are just a bit out of track! come on!

  3. We are a group of volunteers and opening a new scheme in our community. Your site provided us with valuable info to work on. You’ve done a formidable job and our whole community will be thankful to you.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here