نئی دہلی:مودی سرکار کیلئے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان ہی کی پارٹی کے سینیٗر لیڈران ان کے خلاف موقع بموقع بغاوت کردیتے ہیں ۔انہیں باغی لیڈروں میں ایک نام یشونت سنہا کا بھی ہے۔ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا ایک طرف جہاں اپنی پارٹی پر انگلی اٹھاتے رہتے ہیں وہیں کانگریس پر نشانہ لگانے میں ذرہ برابر بھی گریز نہیں کرتے ۔آج پھر انہوں نے اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے مغرور اور اکھڑ پن رویہ کو چھوڑ کر آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لئے ایک’متحدہ محاذ‘ بنائے اور ہم خیال نظریات والی پارٹیوں سے بات چیت شروع کرے۔

مسٹر سنہا نے ٹوئٹ کرکے کہا’’سیاست میں گھمنڈ اور اکھڑ پن خطرناک هوتا ہے اور پارٹی کو اس سے بچنا چاہئے، ہر پارٹی سے بات چیت شروع کر دینی چاہئے اور آئندہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنائے‘‘۔ان کا یہ بیان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی کے اس بیان کے بعد آیا ہے جن میں انہوں نے مدھیہ پردیش اور راجستھان اسمبلی انتخابات تنہا ہی لڑنے کی بات کہی تھی۔ سماجوادی پارٹی نے بھی مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔یہ تازہ واقعہ کانگریس کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے كيونکہ وہ 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوشش میں تھی لیكن ان دونوں پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات انفرادی طور پر لڑنے کی بات کہہ کر شاید اس محاذ کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کر دی ہے۔

Facebook Comments