زیر تبصرہ کتاب، عامرہ احسان صاحبہ کی تصنیف ہے۔ مصنفہ ایک کہنہ مشق لکھاری ہیں۔ ان کی تصانیف دینی اور دنیاوی علم کا ایک خوبصورت امتزاج ہیں۔ کتاب اکیسویں صدی اور مسلمان عورت مغرب کے زیر سایہ پلنے والی جدید جاہلیت اور دور قدیم کی پروان چڑھائی ہوئی ہندوانہ قدیم جاہلیت کو بے نقاب کرتے ہوئے عورت کے لیے اسلام کی روشن اور فطری زندگی کو اکیسویں صدی کی ہر باشعور عورت کے سامنے رکھتے ہوئے اسے غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
مصنفہ نے اس کتاب میں مغرب کی حقوقِ نسواں کی چکا چوند کے پیچھے چھپا مجبور، بے کس، تشنۂ لب اور استحصال شدہ عورت کا نقشہ مغرب کی اندھی تقلید کرنے والوں کے لیے کھول کر رکھ دیا ہے۔ اسلام میں عورت کا باوقار مقام اور رشتوں کی محبت و عافیت جو اسلام نا آشنائی کی بدولت معاشرہ کہیں کھو چکا ہے، کو مصنفہ بخوبی کتاب کے اوراق میں کھوج لائی ہیں۔

اسلام کا مطلوب گھر کا عنوان اس کتاب کا بہترین حصہ ہے۔ عورت کی گواہی، عورت اور طلاق کا حق، عورت اور تعدّد ازواج جیسے موضوعات کو لے کر آج کی مسلمان عورت کو خوب بہکایا جاتا ہے۔ اسلام سے دوری کے باعث اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھنے والی خواتین ان مسائل پر گڑبڑا جاتی ہیں اور معذرت خواہانہ اور شرمندہ سا رویہ لے کر رہ جاتی ہیں۔ مصنفہ نے ان موضاعات پر نہایت خوبی سے بحث کرتے ہوٸے ہر طرح کے معذرت خواہانہ رویے کو رد کر دیا ہے۔ ان مسائل پر اسلام کے مبنی برحق موقف کو واضح کر دیا ہے۔

مصنفہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نیز مختلف تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے دے کر مذہبی و غیر مذہبی اذہان دونوں کو دعوت دی ہے کہ وہ عورت کا اصل کردار و مقام اور زندگی میں اس کا اصل محاذ، جو کہ اس کا اپنا گھر اور معاشرے کی اہم ترین اکائی ہے، کو پہچانیں۔ عورت کو اس کے فطری مقام سے ہٹانا نہ صرف عورت بلکہ پورے معاشرے پر ظلم ہے۔ کتاب اس آفاقی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام ہی کا نظامِ حیات سسکتی ہوئی عورت اور بکھرتے ہوئے معاشروں کے دکھوں کا مداوا ہے۔ اس کتاب کو پاکستان اور اسلامی معاشرے کی خواتین کے لیے عام ہونا چاہیے۔ نوجوانی کی جانب گامزن بچیوں کو یہ کتاب درسی کتب کی طرح پڑھنی اور سمجھنی چاہیے کہ انہیں اپنے مقام و مرتبے اور فرائض سے آگاہی ہو۔ اس کتاب سے استفادے کے لیے اس کا انگلش میں ترجمہ بھی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی اس کتاب کی مصنفہ اور دیگر معاونین کو ان کی اس بہترین کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments