نئی دہلی:ممبئی میں ہوئے ۱۱؍۲۶حملہ پر وزارت داخلہ کے سابق انڈر سکریٹری آر وی ایس منی نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کے تاج ہوٹل پرہوا دہشت گردانہ حملہ ایک فکس میچ تھا۔منی  نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان اور اس وقت کی سرکار کے وزارت داخلہ کے مابین فکس میچ تھا،کیوںکہ اس دن مرکزی وزارت داخلہ کے زیادہ تر افسران دہشت گردی پرہونے والی سالانہ ہوم سکریٹری کی میٹنگ میں شامل ہونے کیلئےپاکستان کے اسلام آباد میں تھے۔پہلے یہ میٹنگ ۲۵ نومبر کو ہونی تھی لیکن جب ہندوتانی افسران وہاں پہنچے تو ایک دن کی تاریخ بڑھادی گئی ،آر وی ایس منی نے کہا کہ اس دوران مجھے لکھنو بھیج دیا گیا اور اسی درمیان آدھی رات کو حملہ ہوگیا۔

نیشنل سیکورٹی فورم کی طرف سے اپنی کتاب ہندو ٹیرر،انسائیڈر اکاونٹ آف منسٹری آف ہوم افیئر پر منعقد بحث میں شامل ہونے کیلئے منی بھوپال پہنچے ،جہاں انہوں نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا۔اس بیچ ان کی کتاب کا ہندی ترجمہ بھگوا آتنک ایک سازش پر بحث ہوئی اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ ممبئی حملہ ہندوستان سرکار اور پاکستان سرکار کے بیچ فکس تھا۔کتاب کے اجرا کیلئے وقت کے تعین پر جب سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک غیر سیاسی شخص ہیں اور کتاب کے پبلشر پر بھوپال آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندو دہشت گرد ایک تصور ہے جس کو جان بوجھ کر مرکزی سرکار میں موجود تب کے کچھ بڑے نیتاوں اور پولیس افسران کی ملی بھگت سے پھیلایا گیا،پھر اس کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت گڑھے گئے،ان کا مقصد کیا تھا یہ نہیں معلوم لیکن اس کی وجہ سے اصلی دہشت گرد ضرور بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

Facebook Comments