نئی دہلی(رحمت کلیم)عام انتخابات کے دن بہت ہی قریب آچکے ہیں۔ایسے میں دہلی کی سیاست میں گہما گہمی کافی تیز ہوگئی ہے۔کچھ دنوں پہلے تک یہ قیاس لگایا جارہا تھا کہ دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں پر ہونے والے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کو روکنے کیلئے کانگریس اور عام آدمی پارٹی ہاتھ ملا سکتی ہے۔لیکن گزشتہ کل دہلی کانگریس کی میٹنگ سے یہ صاف ہوگیا کہ دہلی میں سہ رخی مقابلہ ہوگا،کانگریس ،بی جے پی اور عام آدمی پارٹی پوری طرح الگ الگ اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے ایک دوسرے کے خلاف جم کر نشانہ لگاتے نظرآئیں گی ۔اس بیچ ایک سب سے دلچسپ خبر یہ مل رہی کہ اب دہلی میں عام آدمی پارٹی کا سورج دھیرے دھیرے غروب ہونے  کی کوشش میں ہے۔

دراصل انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سےایک نیا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے دہلی کی سیاسی پارٹیوں کے اندر طوفان آنے کی امید ہے۔خبر ہے کہ عام آدمی پارٹی کے قریب ۹ رکن اسمبلی‘ آپ’ کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ پکڑنے کی تیاری میں ہیں۔وہ مسلسل کانگریس کی قیادت سے رابطے میں ہیں،ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی سندیپ کمار نے پانچ مارچ کو دہلی کانگریس صدر شیلا دکشت سے ملاقات کی تھی ۔حالانکہ سندیپ نے اس ملاقات پر کسی بھی طرح کا بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری طرف کانگریس لیڈر ہارون یوسف نے دعویٰ کیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے قائدین کے رویے سے ناراض  کئی رکن اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔فی الحال بات چیت جاری ہے لیکن آخری فیصلہ دہلی کانگریس کے جنرل سکریٹری پی سی چاکو اور شیلا دکشت لیں گے۔دہلی کانگریس کے ترجمان جتندر کوچر نے دعویٰ کیا ہے کہ قریب ۹ رکن اسمبلی ایسے ہیں جو کانگریس جوائن کرنا چاہتے ہیں۔بتادیں کہ عصمت دری کیس میں ضمانت پر چل رہے سندیپ کمار کو عام آدمی پارٹی نے اگست ۲۰۱۶ میں وزارت کی کرسی سے ہٹا دی تھی ،اس کے بعد ان کو پارٹی سے بھی باہر کردیا گیا تھا۔وہیں دوسری طرف اس پورے معاملے پر شیلا دکشت نے خاموشی برقرار رکھی ہے۔  

Facebook Comments