نئی دہلی:کینسر کی شکار رمشہ کا جسم دھیرے دھیرے کمزور ہوتا جارہا ہے لیکن ہمت مزید جوان ہوتی جارہی ہے۔اس کی آنکھوں میں مسلسل درد ہورہا ہے ،اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ اب اکیلئے بیت الخلا بھی نہیں جاسکتی ،لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ وہ آج بھی پوری توانائی کے ساتھ پانچ وقتوں کی نماز پڑھ رہی ہے،ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کررہی ہے اور رمشا کا ماننا ہے کہ واحد یہی راستہ ہے جو اس کی جان کو بچاسکتا ہے اور وہ کینسر سے جنگ اسی کی مدد سے جیت سکتی ہے۔

رمشا کی ماں آسماں پروین کا کہنا ہے کہ میری کمزور بیٹی اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کو ایڈوانس کینسر ہے،وہ یہ بھی جانتی ہے کہ اس کے علاج کی استطاعت اس کے والدین نہیں رکھتے،لیکن جب کبھی وہ میرے چہرے پر مایوسی اور اداسی دیکھتی ہے ،وہ مجھ سے کہتی ہے ،امی جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ میری حفاظت کرے گا ،وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو کچھ میرے ساتھ ہورہا ہے،وہ یقیناً مجھے کینسر سے بچا لے گا۔رمشا کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کا یقین بہت مضبوط ہے۔لیکن میں ڈر رہی ہوں کہ کہیں میں پیسوں کی کمی کے سبب رمشہ کو کھو نہ دوں ،

 

آپ کوبتادیں کہ رمشا کو ۲۰۱۷ میں کینسر ہوا تھا جب وہ درجہ چھ میں تھی،اہل خانہ فوراً رمشہ کو علاج کیلئے ممبئی لے گئے،چھ ماہ بعد ڈاکٹروں نے اس کو کینسر فری بتادیا۔اور پھر وہ عام زندگی جینے کیلئے اپنے شہر لوٹ گئی۔لیکن جنوری میں پھر سے اسے بخار آنا شروع ہوگیا ،نزلہ زکام بھی شروع ہوگیا،اور ایک بار پھر کینسر کی زد میں رمشہ آگئی۔

مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاوں کی رہنے والی رمشہ کا خاندان ایک غریب پریوار ہے جس کو آپ تمام کے مدد کی سخت ضرورت ہے تاکہ انہیں اپنی معصوم بچی کا اعلاج کرانے میں آسانی پیدا ہوسکے۔

Facebook Comments