نئی دہلی:آج ملک عزیز میں مذہبی  شرانگیزی اور مذہب کے نام پر گندی سیاست کا جو ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ کسی بھی سماج اور معاشرے کے حق میں بہتر نہیں ہے۔یہی کارن کے سماجی بھائی چارے اور آپسی محبت کو فروغ دینے والی جماعت اور ان کے نمائندے ان دنوں کافی پریشان ہیں ۔اسی سلسلے میں آج شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری نے کہاہے کہ میں اپنی قوم اور اپنے ملک کی نفسیات کو سمجھتاہوں۔ وہ کسی بھی قیمت ملک میں صدیوں سے چلے آرہے بھائی چارے کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دے گی۔ جولوگ آج سوال اٹھارہے ہیں وہ وقتی فائدہ شاید اٹھالیں جس پر بھی مجھے شک ہے لیکن اس سے جو صدیوں پر محیط نقصان ہوگا اسکی بھرپائی کیلئے پھر صدیاں ہی درکار ہوں گی۔امام بخاری نے کہااگرنظام عدل پر سے بھروسہ اٹھ جائے یا اس کو سوالیہ نشان میں تبدیل کردیاجائے تو پھر ملک جنگل راج کی طرف چلاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جذبات سے مجھے انکار نہیں لیکن وہ جذبات جو ملک کی جڑوں کو ہلادیں اور ملک کی سا لمیت پر آنچ لے آئیں یہاں دوراندیشی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا مجھے آج فقدان دکھائی دے رہاہے۔یہ وقت بیان بازی کانہیں کیونکہ مقدمہ کا عمل عملا فیصلہ سازی کا عمل ہے پھر اتنی جلدی کیوں؟ قومی مفاد اور حب الوطنی کے سر ٹیفکیٹ بانٹنے والی جماعت ملک کو آخر کہاں لے جاناچاہتی ہے؟انہوں نے کہاکہ ہم حالات پرنگاہ رکھے ہوئے ہیں اور جس فہم وفراست اور بالغ نظری کا مظاہرہ ان ساڑھے چاربرسوں میں مسلمانان ہند نے کیاہے میں اس کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ۔

Facebook Comments