بہار ٹیٹ۲۰۱۹ میں عربی فارسی اور اردو کے ساتھ ساتھ بی ایڈ سال دوم کے طلبا کے ساتھ سوتیلا برتاﺅ نہیں چلے گا: صدر یونین

بہار میں سکینڈری اور ہائر سکینڈری اسکولوں میں نوکری کے لیے بہار ٹیٹ کا فارم آیا ہے۔ جس میں اپلائی کرنے کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جو طلبا بی ایڈ مکمل پاس کرچکے ہوں وہی امتحان میں شامل ہوسکتے ہےں۔ یعنی جو طالب علم ابھی بی ایڈ کے دوسرے سال میں ہیں وہ بھی اس ٹیٹ میں شامل نہیں ہوسکتے (جب کہ سی ٹیٹ، یوپی ٹیٹ، بنگال ٹیٹ اور جھارکھنڈ ٹیٹ وغیرہ میں بی ایڈ سال دوم کے طلبا کو بھی شامل ہونے کی اہلیت دی گئی ہے) یہ سراسر طلبا کے ساتھ زیادتی ہے۔ ان کے کیریئر کے ساتھ کھلواڑ ہے کیوں کہ ایک تو بہار میں نوکری نکلتی نہیں ہے اور جب نکلتی ہے تو اتنے شرائط لگا دیے جاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ طلبا امتحان میں شریک ہی نہ ہوپائےں پہلے ہی چھٹ جائےں۔ اس سلسلے میں ’آل انڈیا بہار اسٹوڈنٹس یونین‘ کے صدر جناب عبدالباری برکاتی نے کہا ہے کہ بی ایڈ سال دوم کے طلبا کو بھی بہار ٹیٹ ۹۱۰۲ میں شامل ہونے کی اجازت ملنی چاہیے۔ ورنہ ہماری یونین نہ صرف پٹنہ اور بہار میں بلکہ پورے ہندوستان میں احتجاج کرے گی اور بہار حکومت کو اپنا نوٹیفکیشن تبدیل کرنا ہوگا اور بی ایڈ سال دوم کے طلبا کو بہار ٹیٹ میں شامل ہونے کی اجازت دینی پڑے گی۔ دوسری بات یہ کہ عربی اور فارسی کی سیٹوں پر سرکار نے کوئی توجہ نہیں دی ہے یہی وجہ ہے کہ ان سبجیکٹ کے لیے آسامی نہیں نکالی گئی۔ اس سلسلے میں بھی ہم بہار حکومت کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ بھید بھاﺅ نہیں چلے گا اور جلد سے جلد ان سبجیکٹ کی خالی سیٹوں کو بھرنے کے لیے آسامی نکالے ورنہ آل انڈیا بہار اسٹوڈنٹس یونین اس لڑائی کو پورے ہندوستان میں مضبوطی سے لڑے گی اور ملک بھر میں طلبا کا آندولن کھڑا کرے گی۔ اس لیے ہم بہار حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کرے اور ان زبانوں کی خالی سیٹوں کو بھرنے کے ساتھ ساتھ بی ایڈ سال دوم کے طلبا کو بھی بہار ٹیٹ میں شامل ہونے کی اجازت دے۔ورنہ سڑک سے لے کر عدالت تک اس معاملہ کو اٹھایا جائے گا۔

Facebook Comments