اسلام آباد:پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں ایڈزکے پھیلاﺅ سے متعلق کیس کی سماعت میں جمع کرائی گئی رپورٹ پر پچھلے دنوں عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت صحت کو15روز میں رپورٹ بہترکرکے سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 15 روزکیلئے ملتوی کردی تھی. چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے ملک میں ایڈزکے پھیلاﺅ سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی۔اس موقع پر سیکرٹری وزارت صحت نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی تھی،جسٹس عمرعطابندیال نے سیکرٹری صحت کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیا کہ یہ رپورٹ توصرف کاغذکاضیاع ہے، سیکرٹری صاحب،15 روزمیں رپورٹ بہترکرکے لائیں۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ریمارکس دیا تھا کہ ایڈزکوئی موروثی بیماری نہیں ہے،اس سے بچاﺅ کی آگاہی کیلئے میڈیاپرمہم چلنی چاہئے۔جس پر سپریم کورٹ نے سیکرٹری وزارت صحت کو15روز میں رپورٹ بہترکرکے سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔اب اس کیس میں رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ بتیس ہزار ہے۔گزشتہ ایک سال میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں انتالیس ہزار کا اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ساٹھ ہزار، سندھ میں باون، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں سترہ ہزار مریض ہیں۔ ملک میں رجسٹرڈ ایڈز مریضوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہے۔ان تمام باتوں کے بیچ سب سے حیران کرنے والی سچائی یہ ہے کہ اس قسم کے مریضوں کے اعداد وشمار کافی تیزی کے ساتھ پاکستان میں بڑھ رہے ہیں ،جو پاکستان کیلئے نیا درد سر بن سکتاہے۔

Facebook Comments