تحریر۔رحمت کلیم

عہد حاضر کےمعاشرے کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ سچ جان کر آنکھیں موند لی جاتی ہیں ۔ہم اور آپ اسی سماج کے اندر رہتے ہیں جہاں لاکھوں قسم کی برائیاں روز جوان ہوتی ہیں ،ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں لیکن جب وہ برائی ہمارےدروازے پر دستک دیتی ہے تو پھرہمیں شرمندی کے ساتھ پچھتاوے کا احساس ہوتا ہےاور تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔مسائل اور فقدان وسائل کا ہر سماج کو سامنا ہے ،لیکن ان تمام چیزوں کے باجود اگر احساس زندہ ہے تو ایک روش خیال معاشرے کی تشکیل ممکن ہے ۔یوپی بہار کی بات ہو یا وادی کشمیر کی ،معاشرے کے اندر انسان نما جانور ہر جگہ ہیں لیکن اس چیز سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آج بھی انسانیت زندہ ہے ،ہاں یہ ضرور ہے کہ انسانیت کو بچائے رکھنے والے کم ہوگئے ہیں اور اس کی بڑی وجہ ہے  سماج کے اندر پھیل رہی ہر قسم کی برائیوں اور مذہب کی اونچی ہوتی دیواروں کو لیکر بے فکر ہوجانا۔
جب ایک معاشرے کی ایسی تصویر ہوجائے تو پھر سمجھیئے کہ وہ معاشرہ مردہ ہوچکا ہے ،چونکہ وہاں نفرت،دشمنی ،بغض وعناد اپنے شباب پر ہوتی ہے ،ایسے میں ہر سماج کو آئینہ دکھانے والوں کا انتظار ہوتا ہے،لیکن ایسے  معاشروں کی انتظار بہت جلد ختم بھی نہیں ہوتی چونکہ لوگ شدت کے ساتھ معاشرے کے اندر کی برائیوں کو ختم کرنے کیلئے آگے نہیں آتے اور آئینہ دکھانے کی کوشش نہیں کرتے،البتہ وادی کشمیر سے ان دنوں ایک ایسی کوشش کی گئی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔نوجوان سماجی کارکن اور مختلف صفات کی ملکہ چودھری رابعہ شفیق  نے وادی کشمیر کے اندر کے مسائل کے ساتھ ساتھ وہاں کے معاشرے کی ایک ایسی تصویر بنائی ہے جس کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو ہماری سوسائٹی کی تصویر ہے،فلم ڈائریکٹر چودھری رابعہ شفیق نے کم وسائل کے باوجود مختصر سی ٹیم کی مدد سے ایک خوبصورت فلم بنائی ہے جس میں آپ کو اور آپ کے معاشرے کوآئینہ دکھانے اور آپ کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔میں ذاتی طور پر رابعہ شفیق اور ان کی پوری ٹیم کو اس خوبصورت کاوش کیلئے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس آئینے کا اثرآج کے معاشرے پر ضرور ہوگا۔دعا ہے کہ آپ کی کوششیں رنگ لائے اور ایک خوبصورت معاشرہ پھر سے تشکیل پائے ۔بہت بہت مبارکباد

Facebook Comments