اترپردیش کے بھدوہی کے رہنے والے آکاش شکلا کو ان کی نظموں اورغزلوں نے دلائی مقبولیت

عمر میں بھلے ہی آکا ش شکلا نوجوان ہوں، لیکن ان کی قلم کی طاقت ، نظمیں اورغزلیں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ ادبی دنیا میں قدم رکھتے ہی آکاش شکلا کی پہلی کتاب “آکھر” نے عالمی کتاب میلے میں زبردست مقبولیت حاصل کی۔ آکا ش شکلا کی کتاب تو ہندی زبان میں ہے، لیکن وہ اردو زبان سے انتہائی متاثرنظرآتے ہیں اوراردو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ ہردوئی کے محلہ آزاد نگر کے باشندہ اورآکاش شکلا کے والد وجے کمار شکلا آئی ٹی آئی میں کام کرتے ہیں، ان کے بیٹے آکاش شکلا کی ابتدائی تعلیم شہرکے ‘بال ودیا بھون میں ہوئی۔ درجہ 9 کے بعد انہوں نے لکھنو اورکانپور یونیورسٹی میں اپنی گریجویشن اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ وہ بچپن سے ہی مختلف موضوعات کولے کرکافی سنجیدہ رہے ہیں۔ ان کی سنجیدگی کو دیکھ کر ان کے گارجین اکثرفکرمند رہتے تھے، لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان کے بیٹے کی سنجیدگی اورجنون انہیں ادبی دنیا میں مقام دلائے گی۔

آکاش شکلا نوئیڈا کے ایک نیوزچینل میں دو سالوں سے کام کررہے ہیں، لیکن وہ غزل اورنظم پراپنی دلچسپی کوبنائے ہوئے ہیں۔ آکاش شکلا کا کہنا ہے کہ وہ شعر وشاعری بہت پہلے سے کرتے آرہے ہیں، دوستوں کے درمیان توکرتے ہی ہیں، لیکن جب محفلوں میں موقع ملتا ہے تووہاں بھی اپنی نظموں اورغزلوں کے ذریعہ خوب تعریفیں ملتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل میرے ایک دوست نے اسے کتابی شکل دینے کا مشورہ دیا، اس کے بعد میں نے اس پرکام شروع کردیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘آکھر میں ان کی تمام نظمیں شامل ہیں اوریہ ان کی پہلی کتاب ہے۔ عالمی کتاب میلے میں اس کتاب کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی، اس پرانہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری 2018 کویہ کتاب شائع ہوئی تھی۔ ان کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی بازارمیں آگیا ہے۔

آکاش شکلا کے والد وجے کمارشکلا کا کہنا ہے کہ مجھے بچپن سے ہی بیٹے کی شاعری متاثرکرتی تھی، انہیں فخرہے کہ وہ اپنے بیٹے کی کتاب کی شاعری اورنظمیں پڑھ رہے ہیں۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اپنی زبردست تحریریوں کے بعد آکاش کو ادبی دنیا میں ‘استتو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب استتوکے نام سے ہی ہے۔ ادبی دنیا میں ایک اہم مقام رکھنے والی اورشاعرہ ڈاکٹر سریتا شرما سمیت کئی شاعروں نے ان کی حصولیابی پرخوشی کااظہار کیا ہے۔

Facebook Comments