نئی دہلی:اپنے متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان دے کر اکثر سرخیوں میں رہنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی نے کہا کہ وہ مسلسل صحت کی خرابی کے سبب ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آخری الیکشن ہو،انہوں نے کہا کہ کڈنی خراب ہونے کے کارن وہ مسلسل بیمار رہتے ہیں،اس لئے ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں میں کوئی دوسرا الیکشن نہ لڑ پاوں۔یعقوت پور میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اکبرالدین اویسی نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے میں کافی بیمار ہوگیا ہوں،میری دونوں کڈنی خراب ہوگئی ہے۔کچھ دن پہلے حالت کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئی تھی،ڈاکٹروں نے مجھے ڈائلیسس  کیلئے دباو ڈالا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب میرے پاس اپنی ذات کیلئے وقت نہیں ہے،اپنے اسکولوں ،اسپتال وغیرہ کی نگرانی کےساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا،ایسے میں میرے لئے یہ آخری اسمبلی انتخاب ہو سکتا ہے۔شاید میں آگے انتخابات کا حصہ نہ بن پاوں۔یاد رہے کہ ۳۰ اپریل ۲۰۱۱ میں اکبرالدین اویسی پر گولی چلائی گئی تھی اور چاقو سے حملہ بھی کیا گیا تھا۔وہیں دوسری طرف انتخابی مہم میں مصروف ایم آئی ایم اور بھاجپا کے بیچ زبانی جنگ بھی کافی تیز ہوگئی ہے۔تلنگانہ کے ایک جلسہ میں یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ دیا تھا کہ اگر یہاں بھاجپا کی سرکار بنتی ہے تو اویسی کو یہاں سے ویسے ہی بھاگنا پڑے گا جیسے نظام بھاگے تھے۔اس پر جواب دیتے ہوئے جہاں اسدالدین اویسی نے یہ کہا کہ یوگی جی انگوٹھہ چھاپ ہیں ،تاریخ سے ان کا کوئی لینا دینا ہے ،اگر ذرہ برابر بھی تاریخ جان رہے ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ نظام بھاگے نہیں تھے ،وہیں اکبرالدین اویسی نے یوگی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے جیسے ۵۶ آئے اور گئے ،ہم کیا ہمارے ۱۰۰ نسلیں اس ہندوستان میں رہیں گے اور ہم تمہیں بھگا کر دم لیں گے۔وہیں انہوں نے پی ایم پر بھی زبردست حملہ کیا جس میں انہوں نے پی ایم مودی کے چائے والے بیان کا مزاق اڑایا گیا ہے اور اس پر فی الحال میڈیا میں ہنگامہ جاری ہے۔

Facebook Comments