آج پوری دنیا کرونا وائرس کے نرغے میں لاک ڈاؤن ہوئی پڑی ہے۔دنیا کے متعدد ممالک کے لاکھوں افراد کو نئے کرونا وائرس (SARS CoV-2)  نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔کہتے ہیں کروناوائرس ایک طرح کا نسلی گروپ وائرس ہے۔ جس کی متعدد شکلیں گزشتہ برسوں میں دیکھی جا چکی ہے۔ اس کی ایک شکل 2003 میں بھی SARS کے طور پر ظاہر ہوئی تھی۔ اس لیے موجودہ کرونا وائرس کو نیا کروناوائرس یا COVID-19  اور SARS CoV-2 کا نام دیا گیا ہے۔ ایسا ہی ایک وائرس اپنے اردو معاشرے میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ SARS CoV-2 سے متاثر افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جبکہ اردو معاشرے میں پھیلے وائرس سے متاثر اشخاص علمی اور ادبی خدمات سے محروم ہو جاتاہے۔ اس کے دفاعی تدابیر کا بھی ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ SARS CoV-2 سے نمٹنے کے لیے سماجی دوری کے فارمولے تو اپنایا جا سکتا ہے لیکن اردو معاشرے میں پھیلے وائرس سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی تدبیریں بھی کارگر نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ SARS CoV-2سے متاثر افراد سماجی دوری قائم رکھنے کے باوجود دوسرے افراد کے ساتھ اپنے احساسات اور تعاون کرنے کے جذبات کو بدستور قائم رکھتا ہے۔ سماجی دوری کے تحت دوسرے لوگوں سے عدم مصافحہ اور عدم معانقہ کے باوجود ان کے دل ملے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دل صاف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے افراد کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش بھی ہوتے ہیں تاکہ انہیں وائرس سے لڑنے کا حوصلہ ملے۔ اس کے برخلاف اردو معاشرے میں پھیلے وائرس کی زد میں آنے والے افراد ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ تو کرتے ہیں۔لیکن ان کے دلوں میں دوریاں ہوتی ہیں اس لیے جذبات میں نہ تو ہمدردی نظر آتی ہے اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے حوصلوں کو تقویت پہنچانے میں کسی طرح کے تعاون سے کام لیتے ہیں۔ دراصل یہ وائرس ان کے ظاہری اعضاء پر حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ ان کے دلوں پر ضرب کاری کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں متاثر افراد دوسروں کے بڑھتے قد و قامت سے جل بھن جاتے ہیں۔

        جھارکھنڈ کے اردو معاشرے میں یہ وائرس گزشتہ کئی مہینوں سے متحرک نظر آ رہا ہے۔ دراصل یہ وائرس اسی وقت حرکت میں آ گیا تھا جب انجمن جمہوریت پسند مصنفین کے سرگرم کارکن جناب ایم زیڈخان نے رانچی میں 15 مارچ 2020کو آل انڈیا اردو کنونشن کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ واضح ہو کہ جناب ایم زید خان اردو اور ہندی زبان کی مشترکہ تنظیم انجمن جمہوریت پسند مصنفین کے ایک بے حد سرگرم رکن کی حیثیت سے صوبہ جھارکھنڈ میں کام کر رہے ہیں اور رانچی میں ہونے والے آل انڈیا اردو کنونشن کے کنوینر بھی منتخب کیے گئے۔ ان کی سرگرمی سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جناب خان صاحب اس کنونشن کے روح رواں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر ش اختر کو کنونشن کے چیرمین کا عہدہ سپرد کیا گیا ہے۔ ذرایع سے یہ بھی معلوم ہواکہ یہ عہدہ پہلے پہل پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب کو پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اپنی دیگر مصروفیات اور خصوصی طور پر انجمن ترقی اردو کی چوکیداری کے باعث اس عہدے سے معذرت کرنی پڑی۔ حالانکہ خبروں کے ذریعے معذرت کا جو طریقہ معلوم ہوا، اس سے اردو ادب میں مجھ جیسے نووارد کو بھی ان کی اردو دوستی کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ ویسے کتنی دلچسپ بات ہے کہ اردو ادب میں اپنا ایک خاص مقام ومر تبہ رکھنے والے معزز پروفیسران اور ذمہ داران، جھارکھنڈ میں سکونت اختیار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حضرات قومی سطح تو درکنار ریاستی سطح کا بھی کوئی ایک ادبی پروگرام کرانے سے اب تک معذور نظر آئے ہیں۔ دراصل ان کے باہمی روابط و رواداری ہی کچھ ایسی ہے کہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر آنے سے روکتی ہیں۔ ایسے میں طلبہ کے ادبی ذوق اور جھارکھنڈ میں اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرنا، ان کے لیے کوہ گراں کی مانند ہے۔ ممکن ہے ان کی نظر میں اس طرح کے ادبی پروگرام کی اہمیت اجتماعی شکل میں چائے نوشی یا مرغ مسلم توڑنے سے زیادہ کی نہ ہو، لیکن ایک طالب علم کے نزدیک اس کی اہمیت اس طور ہے کہ اس طرح کے ادبی پروگرامز سے نہ صرف ان کے ادبی ذوق کی تسکین ہوتی ہے بلکہ ان کے حوصلے کو بھی تقویت ملتی ہے۔ طلبہ اپنے من پسند ادبا و ناقدین اور دانشوروں سے مل کر ترغیب پاتے ہیں۔ ان کی تقریروں سے مستفیض ہوتے ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ اس طرح کے پروگرامز زبان و ادب سے رغبت پیدا کرنے کے لیے ماحول سازکا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے اساتذہ کو ان سب باتوں سے کیا مطلب۔ انہیں تو صرف اپنے کلاس روم کے فرائض انجام دینے ہیں اور بری الذمہ ہو جانا ہے۔ بعض تو ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی تنخواہ کو حلال کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔ اور خادم اردو کے لقب پانے کے لیے بیتاب ہوئے پھرتے ہیں۔ اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی بخوبی سے کر لیں تو غنیمت، خادم بننے کے لیے اپنے فرائض کے دائرے سے الگ جاکر بے لوث کام کرنا پڑتا ہے۔ نہ کہ محض عالمی، قومی اور صوبائی سطح کے پروگرامز میں شرکت کرنے اور مسند صدارت پر متمکن ہونے سے۔

        دراصل فرصت،اخلاص اور رواداری سے محروم ان پروفیسران کے باعث ہی جھارکھنڈ جیسی زرخیز زمین، اردو ادب کی فصلوں سے محرو م ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اپنے وجود کے بیس برس بعد بھی صوبہ جھارکھنڈ میں نہ تو اردو اکادمی کے قیام کی کوئی صورت نکل پائی ہے اور نہ ہی ادبی پروگرام کے نام پر کوئی قابل ذکر ادبی اجتماع ہی ہو سکا ہے۔ جس میں ادبی ذوق رکھنے والے عام طالب علموں کی بھی شمولیت ہو۔ چہ جائے کہ اردو معاشرے کے کچھ”قدآور اشخاص“ اپنے شعبے کے کمرے میں تصویریں کھنچوالے کے قابل ایک آدھ اجتماعی شکل بنانے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ اس کامیابی میں بھی ان کی ذاتی کوششوں کا دخل کتنا رہا ہے، یہ تو شعبہ سے منسلک افراد ہی بتا سکتے ہیں۔ خیر! خدا بھلا کرے جناب ایم زید خان کا کہ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں (مختلف ذرائع سے اطلاعات کے مطابق) سے گزشتہ 15 مارچ کو اردو معاشرے پر ایک احسان کرنے کا پروگرام بنا لیا تھا لیکن خدا غارت کرے اس نئے کروناوائرس کا کہ اس احسان کو بھی اس نے بلائے جان سمجھ کر ٹال دیا۔ ان سب کے درمیان انکشاف یہ ہوا کہ دراصل ٹال مٹول تو اس پروگرام میں شرکت کرنے والے اور خیر سے نہ کرنے والے کی جانب سے بھی ہو چکا تھا۔ پھر اسے ایم زید خان کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ نہ کہیں تو کیا کہ اس کے باوجود  پروگرام مقررہ تاریخ پرمنعقد ہونا طے تھا۔ چاہے عثمانی سلطنت کی شمولیت ہو یا نہ ہو۔ ویسے معلوم ہوا کہ صدارت کی خواہش میں قادریہ سلسلے کی جانب سے بھی کچھ کم گل نہیں کھلائے گئے۔ اس کے باوجود خان صاحب نے کسی سپہ سالار کی مانند اردو کے اس قومی اجتماع کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا۔

        معاملہ یہاں تک پہنچ کر بھی بات براہ راست نہ کی جائے تو سب کچھ ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ براہ راست یہ کہ صوبہ جھارکھنڈ کی تمام یونیورسٹیز سے کشید کر کے کم از کم بیس ایسے اساتذہ کا نام ضرور نکالا جاسکتا ہے جن کی ادبی صلاحیتوں کے اعتراف میں سر خم کیا جا سکتا ہے۔ جن چند پروفیسران کے نام بلا کسی تامل کے لیے جا سکتے ہیں ان سینئر پروفیسران میں پروفیسر ش۔اختر، پروفیسر ابوذرعثمانی، ڈاکٹر مسعود جامی، سید احمد شمیم، پروفیسر قیوم ابدالی، ڈاکٹر عامر مصطفٰی صدیقی اور ڈاکٹر منظر حسین خاص طور سے ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر زین رامش، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، پروفیسر جمشید قمر، ڈاکٹر قیصر زماں، احمد بدر، اسلم بدر، افسر کاظمی، ڈاکٹر موصوف علیگ، ڈاکٹر وکیل رضوی، ڈاکٹر رضوان علی انصاری، ڈاکٹر سرور ساجد، ڈاکٹر جمال جیسے نام بھی قابل ذکر ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مذکورہ اساتذہ نے کسی ایک پلیٹ فارم پر آنے کی کوشش کی۔ کیا ان پروفیسران نے کسی ادبی پروگرام کے ذریعے آپسی رواداری کا مظاہرہ کیا ہے؟ شعبے کے کلاس روم سے باہر صوبائی سطح پر نہ سہی علاقائی سطح پر بھی کسی نے طلبہ کے ادبی ذوق کو پروان چڑاھنے کی کوشش کی ہے؟ کم از کم میں اپنے 12 سال کے مشاہدے میں ان سوالات کے جواب نفی میں پاتا ہوں۔ البتہ دوران مطالعہ کہیں ش۔اختر یا وہاب اشرفی کا ذکر ضرور پڑھا ہے کہ انہوں نے رانچی میں کبھی اردو ادب کے بڑے ناموں کو یکجا کرنے کی کوشش کی تھی۔ نفی کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مذکورہ ناموں میں میں نے ایکٹی وزم ہی نہیں دیکھا ہے۔ ویسے بھی ترقی پسند تحریک کے بعد اردو میں ایکٹی وزم رہا ہی نہیں۔ تو ظاہر ہے عمل کا میدان بنجر ہی نظر آئے گا۔

        ایسی صورت حال میں اگر جناب خان صاحب نے چند بڑے ناموں کو نظر انداز بھی کر دیا تو کیا برا کیا؟ ویسے ذرائع تو کہتے ہیں کہ عثمانیہ سلطنت کی بوسیدہ دیواروں نے مسند صدارت چھن جانے کے خوف سے چیخنا چلانا بھی شروع کر دیا تھا۔ جس کی صدا پر علی گڈھ سے کام دھرے گئے۔ لیکن ان کانوں کو یہ خبر کہاں تھی کہ آفتاب پر تھوکے گئے جراثیم چہرے کے راستے کانوں میں بھی داخل ہوتے ہیں۔ قادریہ سلسلے کی جانب سے بھی کچھ بہ بانگ دہل آوازیں سنائی دی گئیں لیکن صدارت کی کرسی کا تختہ پلٹ ہوا اور نہ ہی خان صاحب کی جن وادی میراث اثر انداز ہوئی۔ باقی خیر کرے ان حوصلوں کا کہ جس نے رانچی میں اردو کی اجتماعیت کو بشکل دیگر پیش کرنے کا عزم کر دکھا ہے۔

 

تحریر:ڈاکٹر عمران عراقی

Facebook Comments