عرب اور مغربی میڈیا سمیت ہمارے بعض مشرقی ممالک کا میڈیا بھی ترکی کے آپریشن پر خوب پروپیگنڈہ کر رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے کہ اردوغان طاقت کا استعمال کرکے کردوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور سوریا کی سر زمین پہ قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی فضا سوشل میڈیا پہ بھی بنی ہوئی ہے۔
یہ ناقدین وہی لوگ جن کو ترکی کا علم ہیں نا کردوں کا صرف بغض اردوغان میں مفروضوں کی بنیاد پہ تحریریں لکھ کر لوگوں سے داد وصول کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ آپریشن کردوں کے خلاف ہے نہ سوریا کی سر زمین پہ قابض ہونے کے لیے بلکہ یہ اس عسکری تنظیم کے خلاف ہے جو ساٹھ [٦٠] کی دہائی میں سویت یونین نے خطے میں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کے لیے [پی کے کے] کے نام سے بنایا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے امریکہ کی گود میں چلی گئی ہے شواہد موجود ہیں کہ ان کو باقاعدہ اسلحہ، مالی امداد اور ٹریننگ امریکن فوجی دیا کرتے تھے۔ میرے ایک کرد طالب علم کے بقول یہ عام کرد ہیں نہ ان کو کردوں سے کو کوئی محبت اور ہمدردی ہیں بلکہ یہ ایسے ظالم لوگ ہیں جن کے ظلم سے خود کرد بھی تنگ ہیں مگر وہ ان کی قوت کے سامنے بے بس ہیں یہ بنیادی طور پر سیکولر اور اسلحہ کی زور پر کردستان بنانے پر یقین رکھتے ہیں جو گریٹر اسرائیل کا ایک ذیلی پراجیکٹ ہے۔ اس تنظیم کی حقیقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی ترک فوجیں ان کا صفایا کرنے کے لیے ان علاقوں میں داخل ہوتی ہیں تو کرد اور عرب ترک نسل کے بچے، بوڑھے، جوان ، مرد اور عورتیں ان کے استقبال کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں اور گھروں کی چھتوں پہ کھڑے ہوکر فوجی دستوں پہ گل پاشی کرتے ہیں اگر یہ آپریشن کرد قوم کے خلاف اور ان کی نسل کشی کے لیے ہوتا تو پھر وہ لوگ اتنی محبت کا اظہار اور والہانہ استقبال کیوں کرتے؟؟

اس آپریشن کی وجہ سے نہ صرف مغرب میں آگ لگی ہے بلکہ عرب لیگ کی جلنے کی بو بھی ارہی ہے۔ وہی عرب لیگ جس کے زمام سعودیہ اور امارات کے ہاتھوں میں ہے جنھوں نے گجرات اور کشمیریوں کے ہزاروں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو اپنے ملک کے اعلی اعزازات سے نواز ہے اور جن کے دل مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اور ہاں یہ وہی عرب حکمران ہیں جن کے ہاتھ مرسی اور اخوان المسلمون کے خون سے رنگے ہیں۔ یاد رہے! آپریشن صرف عسکری تنظیم [پی کے کے] کے خلاف ہے اور عام امن پسندوں کردوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اسکو عرب اور مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر لوگ کردوں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ اس آپریشن کی حقیقت کا اندازہ اس کے مخالفین سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل امریکہ اور فرانس جیسے ممالک اس آپریشن کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں اور ان کے تقلید میں مغربی غلام عرب لیگ ترکی کے خلاف نہ صرف اکٹھے ہو رہے ہیں بلکہ اردوغان اور ترکی کے خلاف میڈیا وار میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن فرزند عثمانی مرد حر رجب طیب اردوغان اقوام متحدہ یا عرب لیگ کے اجلاسوں سے ڈرنے والا انسان نہیں ہے کیونکہ اس کو اپنی قوم اور مقامی امن پسند کردوں کی نہ صرف مکمل حمایت حاصل ہے بلکہ اس آپریشن کی کامیابی کے لیے اجتماعی دعائیں اور قرآن خوانیاں بھی کرتے ہیں اس لیے اردوغان کی کامیابی اور ان کی ناکامی مقدر ہے۔

Facebook Comments