عبدالمالک محی الدین رحمانی کٹیہاری

محترم قارئین کرام! ہم آج ایک سلگتا ہوا عنوان لے کر آپ سبھی احباب کی خدمت میں حاضر ہیں ۔امید ہے کہ اسے بھی عنایات و توجہات سے دید کریں گے ۔ آج جہاں ہمارے مسلم معاشرہ بے شمار دشناموں سے مزین ہے، ان گنت فسادوں سے جوجھ رہا ہے، برائیوں کے لا متناہی سلسلہ نے یہاں ڈیرا ڈال رکھا ہے، لاپرواہی کا ایسا سیلاب سا اُمڈ پڑا ہے کہ گویا اس پر بند لگانا ناممکن سا نظر آ رہا ہے، غموں و دکھوں کے عمیق بادل سے منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں، ہنسی و خوشی کو جیسے کسی کی بری نظر سی لگ گئی ہو، یہ ساری پریشانیاں اپنی جگہ اور اوپر سے امت مسلمہ کی یہ بے حسی نہ جانے کس چیز کا اشارہ ہے؟، کیا سنکیت ہے یہ؟ ۔
آج پورا معاشرہ ہر طرح کی برائیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، بری طرح فتنوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ،بد اخلاقیوں سے بری طرح لت پت اور ہر طرح کی تاریکیوں نے اپنا بسیرا رکھا ہے اور اس پر مستزاد اس امت کی لاپرواہی، غفلت وسستی، عدم توجہی، گریز و اعراض بہت خطرناک انجام کی طرف کھلا بیان ہے اور انسان کو اپنی طرز زندگی پر احتساب و اعتناء کا پیغام لیے لوگوں کے سامنے کھڑا ہے ۔
آج نہ جانے کتنے ہی فتنہ پرست افراد و جماعتوں کی جہد مسلسل ہے کہ کس طرح سے امت مسلمہ کو اس کے حقیقی نشان راہ سے بہلا پھسلا کر اپنے من چاہی شاہ راہ پر لگایا جا سکے اور اس کے لیے ایڑی چوٹی کی بازی لگا رہے ہیں، فسادات کے وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہوا جا رہا ہے، نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، باطل ہاتھ دھوکر پیچھے پڑا ہوا ہے، پوری باطل برادری آپ کے آگے اپنے تمام آپسی انتشار و افتراق کو بھول کر صرف حق کے خلاف کارروائی کے لیے متحد ہو ایک صف میں کھڑے ہیں ۔جہالت و بے دینی کا رواج عام کیا جا رہا ہے، تعلیم کے نام پر اخلاقیات سے ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے، اس پر مزید یہ ان ساری خرافات و سازشی نظریات کو تعلیم اور جہالت کے خلاف مہم کا خوشنما نام پہنایا جا رہا ہے اور مسلمان بڑے شوق اور پوری فراخ دلی سے ان کا استقبال کرتا جا رہا ہے اور اسے ذرا بھی بھنک اور احساس نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یا کیا کیا جا رہا ہے؟ بس مزے میں سکون و امان کی سانس میں خراٹے لینے میں بد مست و مگن اپنے انجام بد سے بے خبر، فکر و نظر سے عاری محض ایک تماشا بنا بیٹھا ہے ۔
اس پر مزید حسرت و ندامت کہ اگر کوئی اصلاح کی، ارشاد کی کوشش کر رہا تو اسے دوسرے نہیں اپنے ہی بے وقوف یا پرانے خیال کا تصور کر اس کا استہزا بنا یا جاتا ہے، سمجھانے بجھانے کی تمام مساعی کو یک لخت ملیامیٹ کرنے کے درپے پیش پیش نظر آتے ہیں، کوئی شخص ان سازشی نظریات و خطرناک افکار کا پردہ فاش کرنے و گمراہیوں کے عمیق غار سے نکالنے کے لیے پیہم کرے تو بے فکری و عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ عوام کو ایسے افراد ناپسند اور ناگوار معلوم ہوتے ہیں ۔
آج بری طرح سے عوام میں بے دینی، جہالت و ضلالت کی تاریکیاں عام ہوتی جا رہی ہیں، ظلمتوں کے اندوہناک سایے بڑی تیزی سے پھیلتے ہی جا رہے ہیں، لادینیت انہیں اپنے شکنجے میں بری طرح کستا جا رہا ہے اور تو اور عوام کو یہی ان کے خیر خواہ اور خیر اندیش دکھ رہے ہیں ۔شعور و آگہی سے پرے ،اپنے انجام افسوسناک سے بے خبر، عاقبت سے دور و مہجور اور حیرت و افسوس کی انتہا نہیں رہتی جب عوام کو صحیح رہنمائی کی غرض سے، جہالت کے دلدل سے باہر روشنی کی طرف لانے اور انجام بد سے نجات دلانے کی خاطر جب کوئی مجلس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ان کی کامیابی مقصود ہوتی ہے تو یہ اپنا دامن بڑی دلیری کے ساتھ جھاڑ دیتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ وقت نہیں ۔۔۔
ان کے پاس سب چیز کے لیے وقت ہے، ان کے پاس وقت تو ہے مگر ایک دوسرے کی برائی کے لیے، ان کے پاس وقت ہے مگر غیبت و چغلی کے لیے، وقت ہے بکواس کرنے کے لیے، وقت ہے بد تمیزی کے لیے، وقت ہے جہالت سے پر بے فائدہ، لغویات و ہفوات بات سننے کے لیے، وقت ہے گذارنے کے لیے، وقت ہے دنیا کے حصول کے لیے، وقت ہے لیکن دوسروں کے عیوب کی ٹوہ میں رہنے کے لیے، الغرض ان کے پاس وقت سب چیز کے لیے ہے اور اگر وقت کسی چیز کے لیے نہیں ہے تو وہ ہے دینی علم، قرآن مجید کی تلاوت کے لیے، ذکر و اذکار کے لیے، علمی مجالس میں شرکت کے لیے، رب کی پسند و ناپسند جاننے کے لیے، نماز ادا کرنے کے لیے، دشمنوں کی سازشوں سے واقفیت کے لیے، دروس و خطبات میں شامل ہونے کے لیے، دین داری کی گفتگو کے لیے وقت نہیں، دینی و علمی تبادلۂ خیال کے لیے، الغرض دین کے لیے آدمی کے پاس کچھ بھی وقت نہیں ہے ۔
اگر یہ صورتحال ہو تو ان سے خیر کی امید کیسے لگائی جا سکتی ہے اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا ایسی سوچ رکھنے والے کسی کے سامنے دینی گفتگو کریں گے ؟الا من رحم الله ۔اکثریت آپ کو ایسے لوگوں کی دکھے گی جو صرف دنیا کے لیے بات کرنے کا وقت تو ہے لیکن دین کے لیے ایک سیکنڈ بھی نہیں ۔اللہ رحم وکرم فرمائے ۔
میرے مسلم بھائیو! کب تمہاری یہ حالت ہو گئی تم تو ایسے کبھی نہیں تھے، تم تو ایک زندہ قوم تھے کب سے مردوں میں اپنے آپ کو شمار کرلیا، تمہارے پاس تو ایک انقلابی کتاب موجود ہے، تم تو ایک متحرک و بیدار برادری سے متعلق ہو پھر یہ خواب خرگوش میں بد مستی تمہیں زیب نہیں دیتا ، کب سے تم بے ہوش گئے؟ تمہارا تو کام ہی تھا بے ہوش لوگوں کو ہوش میں لانا، مردے افراد کو جلا بخشنا، تاریک زدہ افراد کو ہدایت کی روشنی دکھانا، بھٹکے ہوئے افراد کی ارشاد و رہنمائی کرنا آج تمہیں ہی ضرورت پڑ رہی ہے آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیا چاہتے ہو دنیا کی لھو و لعب میں پھنسے ہوئے اپنی تباہی و بربادی اور ہلاکت کو دعوت دے رہے ہو سوچو کیا انجام ہونے والا ہے اس بدحواسی کا، عدم توجہی کا اور اس غفلت و لاپرواہی کا؟ یہ تو ویسے ہی ہوگیا ۔۔۔۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
تم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

Facebook Comments