تحریر:عبد الرحمن عالمگیر 

آج پوری دنیا میں الحاد و لادینیت کے سایے تیزی سے دراز ہو رہے ہیں، لوگ دین و مذہب کو فرسودہ تہذیب کے نتائج خیال کرتے ہیں، جس کا اظہار گاہے بگاہے ذرائع ابلاغ کے توسط سے ہوتا رہتا ہے۔ کبھی جدت کی مانگ پر ، کبھی علماء کو جاہل اور شریعت ساز قرار دے کر، تو کبھی سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا فریب دے کر اسلام مخالف سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا ہے اور دین بیزاری کا اعلان کیا جاتا ہے۔ مغرب کی فلسفیانہ علوم کے ہمہ گیر غلبہ سے فریب کھا کر بعض حضرات سرے سے مذہب ہی کے منکر ہوگئے ہیں جن کا نظریہ ہے کہ مذاہب قدیم تہذیب اور قبائلی معاشرے کا پرتو ہیں، وہ جدید دور میں فٹ نہیں آسکتے اس لیے ادیان و مذاہب کے بقاء کے لیے ضروری ہے کہ عصری تقاضوں کی بنیاد پر ان میں اصلاحات کی گنجائش پیدا کی جائے، بعض احباب کا خیال ہے کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی خود ساختہ روایتوں کو ترک کرکے سائنس کی کھلی حقیقتوں کو اپنایا جائے اور مسائل کو سائنسی سطح پر سمجھا جائے، اگر کوئی کام کرنا ہے تو کیوں کرنا ہے، اگر نہیں تو کیوں نہیں کرنا ہے؛ یعنی کسی چیز کو الہی پیغامات سے پرے ذہنی طور پر خود مختار ہوکر عقلی تجزیہ، عمل، در عمل اور نتائج و عواقب پر اس کے رد و قبول اور رفض و انتخاب کا فیصلہ کیا جائے، بد قسمتی سے ایسے ہی لوگ عوام کے درمان دانشوران کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور پھر سہولت یہ ہے کہ بھولے بھالے اور سادہ لوح عوام جو مغرب کی حیرت انگیز انکشافات پر پہلے ہی سے لٹو ہوتی ہے اور جب اسی مغرب کی جانب سے سائنس و عقلیت کی بالادستی کی گہار لگائی جاتی ہے تو وہ اپنے عقل و شعور کو ثانوی خانے میں رکھ کر اس نظریہ کی جے جے کار کرنے لگتی ہے۔
ہر مکتب فکر ان آئیڈیالوجیز کو ایک دوسرے سے جداگانہ رنگ میں پیش کرنے کی مسابقت کرتا ہے۔ جدیدیت پسند مذہبی جماعتیں ترقی یافتہ ممالک کی ہم نوائی کی چاہ میں مغربی و لادینی افکار کو عوام کے درمیان مذہبی ٹیگ کے ساتھ متعارف کرواتی ہیں اور اسی جماعت کا دوسرا گروہ جو سیکولرازم اور جمہوریت کے اثر سے مذہب بیزار ہوگیا ہے وہ مکمل طور پر ان قوانین کا مذہب سے ناطقہ ہی بند کر کے اپنی دانشوری کا چورن بیچتا ہے۔ اگر اس عمل کو بے پردگی کے حوالے سے مسلمانوں کے پس منظر میں دیکھا جائے تو تجدد پسند حضرات اسلامی پردہ کے حدود و قیود میں تخفیف اور آزادئ نسواں کی حمایت میں پردہ کے پورے فلسفہ کو کپڑے کے ایک ٹکڑے میں سمیٹ دیتے ہیں تاکہ عورتیں ملفوف سر کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرے اور کرکٹ، ٹینس، فوج، محکمہء تعلیم و طب وغیرہ میں آزادانہ شرکت کرے تو دوسری طرف مزعومہ دانشوران مسلم عورتوں کو دور جدید سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پردہ کو مکمل طور پر مسترد ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ پردہ کبھی اسلام کا حصہ تھا ہی نہیں بلکہ اس قسم کا بوجھ علماء و فقہاء کی بے بصیرتی اور خیانت کی دَین ہے۔ ان کے اس طرح کے کھلے انکار سے اسلامی احکامات کو شرعی قوانین سے خارج نہیں کیا جاسکتا اور پھر یہ تصور کرنا کہ پبلک ان سخن سازیوں، جدیدکاریوں، علمی دعوے داریوں اور فقہی چودھراھٹ کو اصل اسلام سمجھ کر روایتی دین سے تائب ہوجائے گی یہ محض خام خیالی ہے کیوں کہ یہ ناممکن ہے الا یہ کہ کسی کی حماقت و جنونیت اور اندھ بکھتی سے گہری رستگاری ہو اس لیے کہ دنیا بھر میں دینی علوم کے مراجع و مصادر دستیاب ہیں جن کے ذریعے سے ان کے کھوکھلے دعوے کی بے ثباتی ظاہر ہوسکتی ہے۔
ضرورت ہے کہ ملی قیادت کا بھرم رکھنے والی تنظیمیں تجدد پسندوں کے فکری اعتزال اور ان کے اسلام کو سیکولر اور جدیدیانے پر کاری ضرب لگائیں، جدید ذہن کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان کی ترجیحات پر نظر رکھیں اور براہ کرم مذکورہ بالا افراد کو اسرائیلی و امریکی ایجنٹ یا مغربی فتنہ گھوشت کرکے اپنی ذمہ داری سے ہاتھ ہرگز نہ کھینچیں بلکہ دینی حمیت کے ساتھ اپنے فرض منصبی کو ادا کریں ۔

Facebook Comments