تحریر:عابد انور

جب ملک کے لوگ جمورے کے ہاتھوں جمہوریت سونپیں گے تو ملک کا یہ حال ہونا لازمی ہے۔ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے لئے عوام ذمہ دار ہیں۔حکمرانوں کو گالی دینے پہلے انہیں گالی دینی چاہئے جنہوں نے ایسے لال بھجکڑں کو حکمراں بنایاہے۔ ان لوگوں نے اپنے حقوق کی بازیابی،جمہوریت کی بقاء،سیکولرزم کی صحت اور ملک کے وقار کو بچانے کے لئے ووٹ نہیں دیا تھا بلکہ جمہوریت کو تہس نہس کرنے، عدلیہ کو تہ و بالا کرنے، سسٹم سے انسانیت کو جڑ سے اکھاڑنے، مقنہ، انتظامیہ کو برباد کرنے، مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے اور میڈیا کو ناکارہ بنانے کے لئے ووٹ دیا تھا جسے حکمراں طبقہ نے بخوبی انجام دیا ہے۔ اس لئے تارکین وطن مزدوروں کی حالت پر آنسو بہانہ بے معنی سا لگ رہا ہے کیوں کہ یہی لوگ جانوروں کی طرح ٹرینوں میں ٹھس کرووٹ دینے کے لئے گئے تھے۔ اسی لئے حکومت انہیں اب ٹھس کر ہی بھیج رہی ہے۔ جو جس لائق ہوتا ہے اسے وہی دیا جاتا ہے۔اگر یہ مزدور لائق ہوتے اور اپنے حقوق کا احساس ہوتا تو پیدل چلنے، بھوکے پیاسے مرنے، سڑکوں پر مرنے، حاملہ عورتوں کا سڑکوں پر بچہ کو جنم دینے اور پولیس کی لاٹھی کھانے کے بجائے پولیس کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے اور حکمرانوں کو بنکروں میں چھپنے پر مجبور کرتے جس طرح ٹرمپ کو بنکر میں چھپنے پر مجبور ہونا پڑا تھا لیکن جب روم روم میں غلامی ہو، مسلمانوں کے تئیں نفرت ہو، جمورے کے تئیں اندھ بھکتی ہو،دماغ میں گوبر بھراہو اور گوبر پیشاب پر ایقان ہو تو ایسے میں کسی حق کی بات کیسے ممکن ہے، تیور تو انسانوں کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کی منہ سے انسانیت کی بات کرنا انسانیت کے منہ پر طر زناٹے دار طمانچہ ہے۔کیرالہ کے ضلع پلکڑ میں ہتھنی کو پٹاخے بھرے انناس کھلاکر مارنے کے واقعہ نے ہندوستانی سماج کو سرے بازار ننگا کردیا۔ اس کی سوچ کو برہنہ کردیا۔اس کے دماغی فتورکو بے نقاب کردیا۔سارے مین اسٹریم میڈیا یہاں تک کے مرکزی وزراء، سابق مرکزی وزراء اور بی جے پی لیڈران اس واقعہ کو ملاپورم سے جوڑ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اور قتل عام کا ماحول بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ جب کہ ڈی ڈی ملیالم نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ گرفتار ہونے والے کا نام ولسن ہے اور یہ واقعہ ضلع پلکڑ کا ہے لیکن اس کے باوجود سارے میڈیا اسے ملاپورم سے جوڑتے رہے اور گرفتار شدگان کا نام امجدعلی اور تمیم شیخ بتاکر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتے رہے۔ پرشانت پٹیل نے ٹوئٹ کرکے یہ بتایا کہ محمد عظمت علی اور تمیم شیخ کو ہتھنی قتل معاملے میں گرفتار کیاگیا ہے۔ یہ دونوں مدرسہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس میں مدرسہ جوڑ کر پورے مدارس اسلامیہ کو نشانہ بنایا گیا۔اسی طرح امر پرساد ریڈی نے اسی طرح کا ٹوئٹ کیا اور دونوں مذکورہ نام لیا۔اسی طرح گودی میڈیا صحافی دیپک چورسیا نے امجد علی تمیم شیخ کا نام لیا ہے۔شدرشن چینل نے اور دیگرنے ملاپورم سے جوڑتے ہوئے بھی اسی طرح نفرت انگیز ٹوئٹ کیا۔ یہاں تک کے سابق مرکزی وزیرمینکا گاندھی نے ملاپورم کوسب سے زیادہ فساد زدہ علاقہ قرار یتے ہوئے ملاپورم کے بہانے مسلمانوں پر نشانہ لگانے کی کوشش کی اور وہ سلطان پور کے جرائم کو بھول گئیں۔سوال یہ ہے کہ ہندوستانی قانون اتنا اندھ ہوگیا ہے جو صرف مسلمانوں کو ہی پکڑ سکتاہے، ہندوؤں اور اس طرح کے فیک نیوز پھیلانے اور نفرت انگیز ٹوئٹ کرنے والے نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی محسوس کرسکتا ہے۔ ان لوگوں کو ہتھی کے حاملہ ہونے کا درد معلوم ہے لیکن جیل میں بے قصور بند صفورہ زرگرجو حاملہ ہے ان کا درد معلوم نہیں ہے۔یہ ہندوستانی معاشرے کا پیمانہ ہے۔
جس کی شرشت میں نفرت ہو وہ اسے کیسے چھوڑ سکتا ہے خواہ وہ کتنے ہی بڑے آئینی عہدے پر کیوں نہ پہنچ جائے۔نفرت پھیلائے اور جھوٹ بولے بغیر چین نہیں آتا ہے۔ یہی کام وزیر اطلاعات و نشریات اور ماحولیات و جنگلات پرکاش جاؤیڈکر نے کیا ہے۔ ”مسٹر جاوڈیکر نے جمعرات کو یہاں ٹوئیٹ کرکے کہا کہ مرکزی حکومت نے کیرالہ کے ملا پورم میں اس ہتھنی کی موت کے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس نے اس کی جانچ کرواکر قاتل کو سخت سے سخت سزا دلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی ثقافت نہیں ہے کہ پٹاخے سے کسی جانور کو مار دیا جائے“۔
جب کہ یہ واقعہ ضلع پلکڑ کے منارکڑ فاریسٹ علاقہ میں پیش آیا ہے۔ ملاپورم کا یہ واقعہ نہیں ہے۔ حاملہ ہتھی ضلع پلکڑ میں مردہ پائی گئی ہے لیکن چوں کہ بی جے پی اور اس کے وزرائے کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا ہے اور نفرت پھیلانا ہے۔ اس لئے بار بار بی جے پی کے وزراء اور لیڈرن ملاپورم کا نام لے رہے ہیں کیوں کہ ملاپورم مسلم اکثریتی (تقریباً 70 فیصد) علاقہ ہے اور وہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ بھی ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا اور انہیں حیوان اور وحشی درندہ بناکرپیش کرنا ہے۔ مسٹر جاویڈکرکے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے کیوں کہ انہوں نے جان بوجھ واقعہ کو غلط طریقے سے غلط جگہ کو پیش کیا ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کیا جاسکے اور ان کے قتل کا راستہ ہموار ہوسکے۔اگر اس طرح کی بات کوئی اور کرتا تو اب تک پولیس دو فرقوں میں منافرت پھیلانے سمیت درجنوں دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیتی اور سلاخوں کے پیچھے سڑ رہا ہوتا۔جب ونود دوا،سدھارتھ وردراجن، آکار پٹیل اور دیگر صحافیوں انسانیت کی خدمت کرنے اور سچ بولنے کے لئے ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے تو ایسے بی جے پی کے لیڈر کے خلاف معاملہ درج کیوں نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ مشہور صحافی راجدیپ سردیسائی اور کوئنٹ نے بھی ملاپورم میں اس واقعہ کے ہونے کی تردید کی ہے۔
رہی بات ہندوستانی ثقافت کی تو یہ بالکل ہندوستانی ثقافت نہیں ہے لیکن مسٹر جاؤڈیکر آپ کی حکومت میں گجرات میں حاملہ عورت کا پیٹ چیر کراس کے بچے کو تلوار کی نوک پر اٹھانے والوں کو بھی کیرالہ میں حاملہ ہتھنی کی موت پر افسوس ہورہا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ ہندوستانی ثقافت نہیں ہے۔حاملہ ہتھنی کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے، یہ ہندوستانی ثقافت ہے؟سڑکوں میں متعدد حاملہ خواتین نے بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوئی یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔کورونا وائرس کے دوران درجنوں خواتین نے اسپتال میں علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال کے باہر، آٹو میں، گاڑی یا دیگر جگہ پر دم توڑ دیا، کیا یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔شرمک ٹرین میں کھانا پانی نہ ملنے کی وجہ سے 80سے زائد مزدوروں نے دم توڑ دیا یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔سیکڑوں مزدوروں نے پیدل چلتے راستے میں دم توڑ دیا یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔کورونا وائرس کے دوران بھی آپ کے اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ اور وزرائے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتے رہے یہ ہندوستانی ثفافت ہے۔مدھیہ پردیش میں مسلم خواتین کو بی جے پی کے عنڈوں نے پیشاپ پینے پر مجبور کیا تھا کیا یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔دہلی فسادات کے دوران عورتوں کی آبروریزی، زندہ جلاکر مار ڈالنا کیا ہندوستانی ثقافت ہے۔
جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کے کلیدی ملزم ا سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں حلقہ انتخاب ہیرا نگر کے سینکڑوں لوگوں بشمول خواتین نے گگوال سے سب ضلع مجسٹریٹ ہیرا نگر کے دفتر تک احتجاجی مارچ نکالاتھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کمسن بچی کی عصمت دری اور قتل کے ملزم کے حق میں نکلنے والے اس احتجاجی مارچ کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں ترنگے اٹھا رکھے تھے اور ریاستی پولیس کے اہلکار احتجاجیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتے ہوئے نظر آئے۔ یہ احتجاجی مارچ ہندو ایکتا منچ نامی تنظیم کے بینر تلے منظم کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر کرائم برانچ پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 9 فروری کو گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کے کلیدی ملزم ایس پی او دیپک کھجوریہ کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاتھا۔ 28 سالہ ملزم ایس پی او پولیس تھانہ ہیرانگر میں تعینات تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دیپک کھجوریہ اُس پولیس ٹیم کا حصہ تھا جو آصفہ کے اغوا کے بعد اسے تلاش کررہی تھی۔ ملزم ایس پی او کے حق میں احتجاجی مارچ کی قیادت مبینہ طور پر ایک بی جے پی لیڈر کررہا تھا۔ وہ مطالبہ کررہے تھے کہ کیس کو کرائم برانچ کے بجائے سی بی آئی کے حوالے کردیا جائے۔ لوگوں کے ایک مبینہ ریپسٹ اور قاتل کے حق میں احتجاج اور احتجاج کے دوران قومی پرچم ساتھ رکھنے کے معاملے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک سینئر کشمیری صحافی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’شیم۔ ہندو ایکتا منچ نے ایک آٹھ سالہ بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کے ملزم کے حق میں احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پولیس کو انہیں اسکارٹ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب جموں بار کونسل کے وکلاء نے خاطیوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے والے پولیس افسران کا راستہ اورانہیں فرد جرم عائد کرنے سے روکا۔ دنیا میں شاید کم ہی ہوتا ہوگا کہ مجرموں کے حق میں انصاف کے لئے لڑنے والوں نے راستہ روکا ہو۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر جموں و کشمیر کے بی جے پی کے دو وزیروں نے خاطیوں کے حق بیان دیا۔ دنیا میں کسی خطے میں ایسا ہوا ہوتا تو حکومت گرگئی ہوتی اور اس طرح کی حرکت کرنے والوں کو تختہ دار لٹکادیا جاتا۔ کیا یہ ہندوستانی ثقافت ہے۔
ہندوستان میں جمہوریت کا مطلب قانون بناکر مسلمانوں کے سارے اختیارات کو سلب کرنے کا نام سمجھ لیا گیا ہے۔حکومت نے دفعہ 370 اور 35 اے ختم کرکے، قومی شہریت قانون میں ترمیم کرکے، تین طلاق کو فوجداری بناکر اور بابری مسجد کو مسلمانوں سے سپریم کورٹ کے ذریعہ چھین کر یہ ثابت کردیا ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے اور پوری دنیا اس پر متفق نظر آرہی ہے۔ سوال یہ ہے جو ہتھنی کی موت پر جو حقیقت میں حیوانیت اور درندگی کی مثال ہے،ٹسوے بہا رہے ہیں، انہی میں سے ہر سال ملک میں ہزاروں دلت عورتوں کی آبرویزی کرتے ہیں، دلتوں کو گھوڑی پر چڑھنے پر درندگی کے ساتھ قتل کردیتے ہیں۔ ابھی ایک دور روز قبل گریٹر نوئیڈا میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ عورت 13گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی اورتین ہسپتالوں کا چکر لگاتی رہی لیکن اسپتال نے اسے بھرتی نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی ہے یہ کوئی مسلم خاتون نہیں ہندو خاتون تھی، رشتہ داروں نے کہاکہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے درمیان چکر کاٹتے رہے لیکن کسی نے بھرتی نہیں کیا۔ اسی طرح بہار کے ضلع گیا میں مٹھ کے مہنت پر ایک مسلمان محمد رفیق نے کرایہ پر دکان لی تھی اور اس کے ذریعہ وہ روزی روٹی چلا رہا تھا لیکن مٹھ کے مہنت نے لاک ڈاؤن کے دوران ہی ان سے دوکان خالی کرنے پر دباؤ ڈالا اور اس کی دوکان پر تالا لگادیا اور مہنت کے غنڈوں نے محمد رفیق کے ساتھ مار پیٹ کی اور اس کے ایک دن بعد سرے بازار اسے پھانسی پر لٹکا کر قتل کردیا۔ ان دو پر ان چندی چوروں کی انسانیت کہیں مرگئی،سو سے زائد ٹوئٹ کرنے والا بالی ووڈحیوانیت اور دیومالائی کے کس گٹر میں چھپا بیٹھا ہے۔پچاس ٹوئٹ کرنے والے کرکٹروں کی انسانیت کہاں دم توڑ گئی اور500سے زائدٹوئٹ کرنے والے سیلیبریٹی اور لبرلوں کی انسانیت کہاں مرگئی۔ ہتھنی کی موت پر انسانیت دکھانے والے سب کے سب کہاں مرگئے یا کس جہنم میں چلے گئے۔ انسانیت کہاں سے ہوگی جہاں انسانوں کی بلی دی جاتی ہو وہاں انسانیت تلاش کرنا یا انسانیت کی بات کرنا بے وقوفی کے سوا کیا اور کیا ہوسکتا ہے۔

Facebook Comments