ازقلم ڈاکٹرمحمداسلم مبارک پوری

قلم ڈاکٹرمحمداسلم مبارک پوری

مذہب اسلام ایک فطری مذہب ہے ۔اپنے عقائد اور نظریات، احکام وتعلیمات کے لحاظ سے دوسراے تمام مذاہب میں ممتاز ومنفرد ہے،کیونکہ یہ اللہ رب العالمین کامحبوب مذہب اور بنی نوع انسانی کے فطری تقاضوں کے مطابق ہونے کی وجہ سے ان کا پسندیدہ مذہب ہے۔اسلام کے علاوہ دسرے مذاہب یا تو انسانی ذہن کے کی دریافت ہیں یا خود ساختہ اصولوں کا مرقع ہیں۔بنا بریں اسلام اپنی جامعیت اور ابدیت کے لحاظ سے اپنے متبعین اور پیروکاروں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے عقائد ونظریات ، تہذیب وتمدن، ثقافت وکلچر اور ظاہری شکل وصورت میں بھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے ممتاز ہوں ۔ان کی اپنی الگ شناخت ہو اور وہ ہر اعتبار سے اپنا تشخص قائم رکھیں۔دنیا کے کسی بھی گوشہ اور سمائے نیلوفر کے تلے کسی بھی چپہ میں ہوں ،اپناتشخص اور اپنی ثقافت وکلچر سے پہچان لیے جائیں ۔ان کے قول وگفتار ،عمل وکردار اس چیز کے غماز ہوں کہ ان پر صرف خالص اسلامی تہذیب کا رنگ چڑھا ہوا ہے ۔یہی وہ تہذیب ہے جسے الہ العالمین نے اپنے کلام معجز میں اشارہ کیا ہے: {صِبْغَۃَ اللّہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّہِ صِبْغَـۃً} (البقرۃ: ۱۳۸)اللہ کا رنگ اختیار کر لو اور اللہ کے رنگ سے اچھا کون سا رنگ ہو سکتاہے؟
یہود ونصاری کا دستور تھاکہ جب وہ کسی آدمی کو اپنے مذہب میں داخل کرنا چاہتے یا اپنے بچوں کو ایک خاص عمر میں پہنچنے کے بعد یہودیت ونصرانیت کی تلقین کرتے تو کہتے کہ ہم نے اس پر اپنے مذہب کا رنگ چڑھا دیا ہے ۔نصاری نے اس کے لیے ’’زرد پانی‘‘ ایجاد کیا تھا ،جس میں وہ اپنے بچوں کو اور ہر اس شخص کو جو ان کے مذہب میں داخل ہونا چاہتا تھا (اصطباغ )غوطہ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اس سے آدمی پاک ہوجاتا ہے اور اس کام پربڑائی اور فخر کرتے کہ ہمارے مذہب میںرنگت ہے اور دوسروں کو یہ رنگت نصیب نہیں ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے نزول قرآن کے زمانہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ تمہارا یہ عمل کوئی معنی نہیں رکھتا اور پروردگار عالم کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اصلی رنگ تو اللہ کا رنگ ہے ،یہی رنگ دین اسلام اور دین فطرت ہے اس لیے تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اسلام کے رنگ میں رنگو ۔اس کو اپنی زندگی میں جاری وساری کرو ۔اسی کے سانچے میں ڈھلو،کیونکہ جس طرح رنگ کپڑے کے ہر جزء میں پیوست ہوجاتا ہے اسی طرح اسلام اپنے ماننے والوں کے قلب وجگر میں پیوست ہو جاتا ہے اور اس کی حالت کو یکسر بدل دیتاہے ۔زمانہ خیر القرون میں مسلمانوں نے اسی تشخص کو باقی رکھا ۔بعد کے ادوار میں بھی اسی تہذیب وثقافت پر قائم رہے اور اپنی دینی وقومی خصوصیات کو باقی رکھا۔
متعدد نصوص شرعیہ میں غیروں کی مشابہت اختیار کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے ۔لین دین ، رہنے سہنے ، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے ، سونے جاگنے حتی کہ کپڑا پہننے ، بال رنگنے اور پیشاب وپاخانہ کرنے میں بھی ان کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کا الگ کلچر ہو ۔الگ تہذیب و تمدن ہو۔دوسروں کی تہذیب وکلچر کو دیکھ کران کے اندر احساس کمتری کی تخم ریزی نہ ہو اور نہ ہی اہل مغرب کی پیروی کا وہ شوق پروان چڑھے جو حس جنون کو پہنچا ہو اہو۔یاد رکھیے دوسروں کی تہذیب وثقافت کو اپنانے میں جہاں کی ان کی تعظیم وتکریم ہے وہیں یہ خاموش پیغام بھی پنہاںہے کہ ہم نے اسلام کو فرسودہ سمجھ لیا ہے اور پوری امت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جب تک ہم مغرب کے شانہ بشانہ اور ان کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چلیں گے ہم ترقی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہو گا۔
مغربی تہذیب کا ایک فیچر یہ بھی کہ وہ وہ ان چیزوں کو جن سے اسلام نے چودہ سو سال قبل منع فرمایا ہے ان کی ترویج اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔بے حیائی، بے حجابی، بد کاری، بد تمیزی،برائی اور زنا کاری اس تہذیب کی شناخت بن گئی ہے ۔ چودہ فروری کو منانے جانے والا ویلنٹائن ڈے اسی تہذیب بد کی عکاسی کرتا ہے جس میں محبت کے نام پر فحاشی کی تمام حدیں پار کردیجاتی ہیں۔میڈیا ، سو شل میڈیااور ابلاغی درائعاس فحاشی کو عام کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔یہود ونصاری تو در کنار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جو مغربی تہذیب سے چمبک کی طرح سٹا ہو اہے اور اپنے آپ کو لیبرل اور روشن خیال سمجھتا ہے ،نہ صرف ’’یوم عاشقاں‘‘ کو یوم عید کی طرح مناتا ہے ،بلکہ اس کے جواز کے دلائل بھی فراہم کرتا ہے۔
یاد رکھو! مذہب اسلام نے زنا اور رفث کو حرام کرتے ہوئے ان کے ممکنہ وسائل کو بھی حرام کیا ہے اور ان کے قریب ہونے سے سختی سے روکا ہے۔ ارشاد ہے: {لاَ تَقْرَبُوا الزِّنَا إنَّہُ کَـانَ فَاحِشَۃً وَّسَائَ سَبِیْلاً}(الاسراء: ۳۲)زنا تو دور، زنا کے قریب مت جاؤ ۔ یقیناً یہ فحاشی کا کام اور بہت برا راستہ ہے۔
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ مشرقی تہذیب جو اپنی سادگی میں تفوق اور امتیازی شان اور الگ پہچان رکھتی تھی وہ بھی اسی مغربی تہذیب کی دلدادہ اور رسیا بنتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس میں اس کے لیے کوئی کامیابی نہیں ،بلکہ اس کے اپنانے سے زناکاری اور عصمت دری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے مگر پھر بھی اس کے پیچھے آنکھیں بند کرکے بھاگتی جا رہی ہے۔
ہم مسلمانوں کوٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ اسلام نے جب ہمیں اتنی خوبصورت اور پیاری تہذیب دی ہے جو بنی نوع انسانی کی فطرت اور مزاج کے عین موافق ہے تو ہمیں دوسری قوموں اور ان کی تہذیبوں میں منھ مارنے کی کیا ضرورت ہے۔خصوصاً مغربی تہذیب میں،جہاںنہ مروت ہے نہ محبت ۔ جس کے برگ وبار میں نہ مٹھاس ہے اور نہ حلاوت،بلکہ عیاری ، مکاری ،خود غرضی اور بے اعتنائی کی وجہ سے زمانہ جاہلیت کی تہذیب سے بھی بد تر اور نکمی نظر آتی ہے۔
جاہلیت کے دبیز پردہ کو چاک کرتے ہوئے جب اسلام کی شعائیں پھوٹتی ہیں اور اسلامی تہذیب وا ہوتی ہے تو ان ناخواندہ سماج کو جو جانوروں سے بد تر زندگی گزارتے تھے ،انہیں بہترین زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کیااور ان کے دلوں میں ایسی روح پھونک دی جس نے پتھر دل اور قاسی القلب انسان کو موم سے بھی نرم اور ’’رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ‘‘ کا پیکر بنا دیا ۔اسلامی تہذیب پاکیزہ اور نیچرل تہذیب ہے جو اختلاط اور اختلال کی آمیزش کو سخت نا پسند کرتی ہے ۔احساس کمتری کو دور کرکے نفس کی عزت،خود شناسی اور احساس خودی کو اجاگر کرتی ہے ۔ خود آرائی اور خود نمائی سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی غیروں کی تہذیب وثقافت کو اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے اس لیے مسلمانوں کو تہذیب دیگراں کی نقالی کی چنداں ضرورت نہیں ،بلکہ خود کو اسلامی تہذیب وتمدن کے سانچے میں ڈھال کر اچھی زندگی گزارنا چاہیے اور اسی کا خوگر بننا چاہیے۔

Facebook Comments