ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

چیئر مین،دہلی اقلیتی کمیشن

یکم سے ۳ ؍نومبر۸۴ ۱۹ کے دوران دہلی اور ہندوستان کے چند دوسرے شہروں میں سکھوں کی جان ومال سے تین دن مسلسل خونی کھیل کھیلا گیا۔اس کھیل میں نہ صرف حکومت وقت کے اہم لیڈران اور پولیس کے لوگ پوری طرح ملوث تھے بلکہ پلاننگ کے تحت باہر سے غنڈوں کو بلا کر یہ دردناک کھیل کھیلا گیا تھا اور اس کے بعد حکومت نے پوری کوشش کی کہ مجرموں کو سزا نہ ملے۔ میں اس وقت ملک سے باہر تھا۔چند دن کے بعد جب میں دہلی پہنچا تو ہر طرف جلی ہوئی کاریں ، اسکوٹر اور جلے ہوئے گھر نظر آئے۔
یہ پاگل پن تین روز مستقل چلتا رہا جس میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ۲۷۳۳ لوگ صرف دہلی میں مارے گئے، یعنی ہر منٹ میں ایک سکھ دلی کی سڑکوں پر ان تین دنوں کے اندر مارا گیا۔ ۵۰ ہزار لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبورہوئے۔ اس کے علاوہ بوکارو، دھنباد، ہزاری باغ، رانچی، جمشید پور، مظفر نگر، بھاگلپور، لکھنؤ، کانپور، غازی آباد اور دوسری جگہوں پر بھی منظم طریقہ سے سکھوں کو مارا گیا ، ان کی املاک لوٹی اور جلائی گئیں۔ پولیس اور انتظامیہ یہ سب دیکھتی رہی یا اس میں پوری طرح شریک رہی۔
یہ سب سکھوں کو سبق سکھانے کے لئے کیا گیاتھا۔ راجیو گاندھی نے اس وقت کہا تھا: ’’جب کوئی بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہل جاتی ہے‘‘۔حالانکہ جب مہاتما گاندھی کو کسی ہندو نے مارا تھا تو زمین نہیں ہلی تھی اور جب خود راجیو گاندھی کو ہندو ؤں نے مارا تو زمین نہیں ہلی۔
ان دردناک واقعات کے چھ ماہ کے بعد راجیو گاندھی کی حکومت نے ایک کمیشن آف انکوائری ( مشرا کمیشن ) بٹھا یالیکن اس کو صرف یہ معلوم کرنے کا کام دیا گیا کہ کیا وہ ’’ منظم تشدد‘‘Violence Organized تھا؟
بعد میں مشرا کمیشن کی سفارش سے تین اور کمیشن بنائے گئے تاکہ دوسرے امور کی جانچ ہومثلاً کون ذمے دار تھے اور کس کس کو سزا ملنی چاہئے؟ پھر پولیس کے رول کی چھان بین کے لئے وید مروہ کمیشن بنا لیکن اس کو اپنی سفارشات پیش کرنے سے منع کردیا گیا اور کہا گیا کہ مشرا کمیشن کو اپنے کاغذات دے دے جہاں سے بعد میں کچھ اہم کاغذات غائب ہوگئے۔
مشراکمیشن کی سفارش پر ایک اور کمیشن بنا یعنی آہوجا کمیٹی ۔اگست ۱۹۸۷ میں اس کمیٹی نے بتایا کہ صرف دہلی میں مرنے والے ۲۷۳۳ سکھ تھے۔ پھر کپور۔متّل کمیٹی بنی جس نے ۷۲ پولیس افسروں کا نام لے کر ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی اور ۳۰ پولیس افسروں کو نوکری سے نکالنے کی سفارش کی لیکن کسی کو نوکری سے نہیں نکالا گیا بلکہ سیوا داس اور نیکھل کمار جیسے افسروں کی ترقی بھی ہوئی اور وہ بعد میں با عزت طورسے ریٹائر بھی ہوئے۔ پھر بہت سی اور کمیٹیاں بنیں جیسے ڈھلون کمیٹی، جین۔بنرجی کمیٹی، پوٹی اوشا کمیٹی ، جین۔اگروال کمیٹی اور نرولا کمیٹی۔بالآخر کچھ معاوضے ملنے شروع ہوئے لیکن انصاف آج تک نہیں ملا ۔معاوضے کے ساتھ مجرموں کو سزااور مظلومین کو انصاف ملنا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی اس طرح کے جرائم دوبارہ کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔
سکھ مخالف ہولناک فسادات کے بعدآج۳۴ سال کے بعد بھی مجرم آزاد ہیں۔صرف ۳۰ لوگوں کو کچھ سزا ملی ہے جبکہ بڑے مجرمین مثلاً بھگت سنگھ، سجّن کمار اور ٹائٹلر کوکوئی سزا نہیں ملی۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ بھی اس جرم میں شریک تھے، بلکہ آر ایس ایس کو ایک بڑے لیڈر نانا دیشمکھ نے تو ایک مضمون بھی لکھا جس میں خود سکھوں کو مجرم ٹہرایا گیا ۔ اس مضمون کو جو رج فرنانڈیز نے اپنے ہفت روزہ پرچے پرتی پکش کی ۲۵ ؍ نومبر ۱۹۸۴کی اشاعت میں شائع کیا (اس کا انگریزی ترجمہ ملی گزٹ کی اشاعت۱۶ ؍نومبر ۲۰۰۴ میں دیکھیں)۔ روزنامہ پائنیر (۱۱ ؍اپریل ۱۹۹۴) نے مفصل رپورٹ چھاپی کہ کس طرح بی جے پی ۸۴ ۱۹ کے سکھ دشمن فسادات میں ملوث اپنے ارکان کو بچانے میں لگی ہے۔
سکھ مخالف فسادات، بابری مسجد کے ڈھانے سے قبل اور بعد کے فسادات اور پھر گجرات ۲۰۰۲ کے فسادات کے بعد امید بندھی تھی کہ ایک سخت فساد مخالف بل آئے گا۔ یوپی اے نے انتخابی وعدے کے مطابق ایک فساد مخالف بل کا مسودہ بھی تیار کیا لیکن دس سال حکومت میں رہنے کے باوجود اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کرسکی بلکہ یوپی اے اس بل کے مسودے کو نیشنل انٹگریشن کاؤنسل کے اجلاس میں بھی نہیں رکھ سکی ۔ نتیجۃ فسادات ہوتے رہے جیسے آسام کے بوڈو لینڈ اور مظفر نگر کے فسادات۔ مرکزی سطح پر بی جے پی کے دوبارہ آنے کے بعد فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ اب روزانہ دو؍تین فساد ہوتے ہیں لیکن یہ سب چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں تاکہ سنگھ کے غنڈے اپنا کام بھی کرتے رہیں اور پارٹی بدنام بھی نہ ہو۔ اگر کوئی سخت قانون نہیں آتا ہے تو یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ موجودہ سرکار کے آنے کے بعد ہجومی قتل (لنچنگ) کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو بتاتا ہے کہ سیاسی پشت پناہی ملنے پر مجرم قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور جب ان کے خود ساختہ مفادات اور غیر حقیقی خواب پورے نہیں ہوتے ہیں تو بالآخر وہ اپنے آقاؤں پر حملہ کرتے ہیں ۔

Facebook Comments