احسان بدر تیمی
ڈائرکٹر القرآن اکیڈمی ،جے پور ،راجستھان

یہ بات عرصۂ دراز سے پوری دنیا میں عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دشمنوں کے لگاتار حملوں سےاب مسلمانوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں،وہ ٹوٹ کر بکھرچکے ہیں اور عنقریب ہی صفحۂ ہستی سے مٹنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر واقعی مسلمان تھک کر نڈھال ہوچکے ہیں اور منظر نامے سے غائب ہونے والے ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ جب بھی اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف ذرا سی بھی انگشت نمائی ہوتی ہے تو سارے مسلمان “قرآن ڈیفنڈرس” اور “غازیان دین” بن کر ایک ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔جب بھی انسانی معاشرے میں تعصب ،ظلم اور نا انصافی کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو زمین کے ہر کونے میں “شاہین باغ،خلافت باغ اور سبزی باغ” کے مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔اور جب بھی انسانی سماج کسی ناگہانی تشویش اور جبر وتشدد سے دوچا ہوتا ہے تو یہی مسلمان امیدوں کے افق پر نمودار ہوتے ہیں اور چہار دانگ عالم کو ایک نئے انقلاب سے آشنا کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں جو باتیں کہی جارہی ہیں وہ یا تو جہالت کا نتیجہ ہیں یا عالمی سازش کا حصہ۔دراصل اعدائے اسلام چاہتے ہیں کہ وہ ظلم و ستم کے کارنامے انجام دے کریا جھوٹی افواہیں پھیلا کر مسلمانوں کو ڈرادیں اور انھیں نفسیاتی بیماری کا شکار بنا دیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی ‘عبداللہ بن حذافہ’ اور ‘خالد بن ولید ‘ کی قوم سے ہیں بھلا ہم ان گیدڑ بھپکیوں اور طفلانہ سازشوں سے کب ڈرنے والے۔۔۔۔۔۔۔!ہاں ! خدائی قانون ‘ فتح وشکست اور عروج وزوال کے دن بدلتے رہتے ہیں ‘(آل عمران:140) کے تحت ہم بہت سے موقعوں سے شکست خوردہ ہوئے ہیں،غلام بنائے گئے ہیں اور ظلم وستم کے خوفناک مناظر بھی دیکھے ہیں لیکن کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ناامیدی اور بے بضاعتی جیسی کوئی چیزہماری ذکشنری میں ہے ہی نہیں۔مشکلوں نے ہمیں سنوارا ہے ،آزمائشوں نے نکھاراہے اور مخالفت کی سازشی ہواؤں نے مزید اونچا اڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔صادق حسین نے کہا تھا :
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کےلئے
(صادق حسین کاظمی)
مخالفتوں میں جینا اور خطروں کو چیلنج کرنا ہماری تاریخ ہے۔ آزمائشیں تقدیر ہیں اور پریشانیوں کو جھیلنا ہماری شناخت ۔ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مشکلیں آسانیوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں ،اسی طرح جس طرح شب تاریک کے ساتھ صبح پر نور متصل ہوتی ہے۔یہی مدبر کائنات کا ابدی قانون ہے،ارشاد ہے’’ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔انشراح :5
مسلمانوں کے ساتھ یہ کرامت ہر دور میں رہی ہے کہ جب بھی انھیں دبانے اور عالم زیست سے مٹانے کی کوشش کی گئی ہے ،وہ اور مضبوط و مستحکم ہوکر اٹھے ہیں اور پوری دنیا میں چھاگئے ہیں۔مسلم قوم کی یہ بھی ایک امتیازی شان ہے کہ جب جب مخالفین نے انھیں قلع قمع کرنے اور مٹانے کی کوشش کی ہے تو قدرت کی جانب سے ایسے ‘اتفاقیہ اسبا ب’ ضرور پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نےنفسیاتی اور مادی دونوں سطح پر ‘خیر امت’ کی حفاظت کی ہے اور انہیں از سرے نو فتح وکامرانی کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔دراصل یہ خالق کائنات کا لازوال اصول ہے ،ارشاد ہے’’یہ مخالفین اپنی سازشوں اور منافرانہ حرکتوں سےشمع اسلام کو بجھا دینا چاہتے ہیں لیکن رب العالمین اس کی لویں کائنات کے ہر گوشے میں پھیلا دینے پر مصر ہے۔گرچہ کہ یہ عمل منکرین اسلام کو ناگوار گذرے۔
اس نے (اپنے اسی لازوال منصوبے کے مطابق )پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ انھیں دین حق سمیت تمام مذاہب پر غالب کردے ۔گرچہ کہ اس فیصلے سے مشرکین نالاں ہوں‘‘۔۔۔توبہ:32,33
گویا ہزار ناکامیوں اور ہزیمتوں کے باوجود مسلمانو ں کے تئیں یہ نظریہ قائم کرنا کہ ‘یہ ہار کر ایک دن ختم ہو جانے والی قوم ہے’،نہ صرف مسلمانوں کی جفاکش اور فاتحانہ تواریخ سے اغماض ہے بلکہ اس کائنات میں قدرت کے نافذ شدہ قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔مسلمانوں نے اس عالم عروج وزوال میں خورشید کی سی زندگی گزاری ہے ،کبھی ادھر نکلے توادھر ڈوبے اور کبھی ادھر ڈوبے تو ادھر نکلے,اقبال نے کہا تھا۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر نکلے ادھر ڈوبے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے
(اقبال)
تاریخ شاہد عدل ہے کہ اسلام لانے کی پاداش میں اہل اسلام نے ابتدا ہی سےبڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور ناقابل تصور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو بیچوں بیچ سے چیر دیا گیا۔حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو انگارے پر رکھا گیا ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو گلیوں گلیوں گھسیٹا گیا اور تپتی ریت پر لٹایاگیا ۔حضرت عبداللہ بن حذافہ کو تیر سے چھلنی کیاگیا۔الغرض نئے نئے ستم ایجاد کرکے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائےگئے اور انہیں یاتو جلاوطن ہونے پر یا زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور کیاگیا۔لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کیا مسلمان اپنے مشن سمیت ناپید ہوگئے،کیاان کے اثرات ونشانات اس دنیا سے ختم ہوگئے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں بلکہ وہ برعکس طور پر پھلے پھولے اور چند سالوں میں 10,000کی فوج لےکر اپنے مجرمین کے سروں پر سوار ہوگئے۔نظارۂ فتح مکہ بھی عجیب و غریب تھا۔مظلومین فاتح بن کر کھڑے تھےاور بڑے بڑے جبابرہ عفو ودرگذر کی بھیک مانگ رہے تھے۔۔۔یعنی وقت کا پہیہ پوری طرح گھوم گیا تھا ۔جگہ وہی تھی مگر فریقین (ظالم و مظلوم )کی حیثیتیں بد چکی تھیں۔دراصل یہی ہے مسلمانوں کا قدرتی منصب کہ وہ لگاتار ہزیمتوں کےبعد بالآخر فتحیاب ہوتے ہیں۔
سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر تاتاریوں نے مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پکی فصل کی طرح کاٹ کر ان کی لاشوں کو کوچہ و بازار میں بکھیر دیا ۔ تاتاریوں نے مادی سطح پر یہ جنگ جیت لی تھی لیکن نفسیاتی اور اخلاقی سطح پر وہ دھیرے دھیرے مسلمانوں سے پسپا ہورہے تھے ۔آخر کار پانسہ پلٹا ،کہانی بدلی اور یورش و یلغار کرنے والے تاتاری مسلم تہذیب و ثقافت کے محافظ بن گئے ۔تاریخ کی اسی کرشماتی اتھل پتھل پر تںصرہ کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا:
ہے عیاں یہ یورش تاتار کے فسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
(اقبال)
نائن ایلیون (9/11) کے وقت بھی ایسا کہا جا رہا تھا اور عالمی میڈیا کے ذریعے اس جھوٹ کو عام کرنے کی جی توڑ کوشش ہورہی تھی کہ ‘ اب مسلمانوں کی خیر نہیں ہے ،وہ بس دنیا کے پردے سے غائب ہونے ہی والے ہیں’لیکن ہوا کیا ؟۔۔۔۔۔۔۔عالمی سطح پر اسلام متعارف ہوا اور بڑی تعداد میں ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔یہ اسلام کی اپنی فطرت ہے کہ اسے جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی وہ اتنا ہی ابھرےگا۔
اسلام کی فطرت میں قدرت نےلچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرےگا جتنا کہ دباؤگے
(اقبال)
گذشتہ سال جب نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں حملہ ہوا اور 51 نمازی شہید ہوئے تب بھی مخالفین نےخوب رائتے پھیلائے لیکن اس موقع سے بھی ہواکیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے لوگوں نے مسلمانوں سے اپنی ہمدردی اور محبت وحمایت کا مظاہرہ کیا ۔کئی لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور نیوزی لینڈ کے وہ مسلمان جو دین بے زار تھے ،اس سانحے کے بعد اپنی تہذیب ( قران و سنت )سے قریب ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تاریخ کے ایک نئے پنے پر توجہ مرکوز کیجئے کہ 1947ء کے بعد مسلمانان ہند یعنی عالم اسلام کی تیسری سب سے بڑی آبادی کو مخالفین امن واسلام اور فرقہ پرست تنظیموں نے ہر چہار جانب سے گھیرنا شروع کردیا۔پہلے نفسیاتی طور پر کمزور کیا پھر سیاسی اور سماجی طور پر بے شمار خانوں میں تقسیم کر دیا۔اس تقسیم نے مسلمانوں کو تعلیمی،معاشرتی اوراقتصادی ومعاشی پسماندگی کے تحت الثریٰ تک پہنچادیا۔اس تنزلی اور بے بسی کا فائدہ اٹھا کر دایاں اور بایاں محاذ کی دونوں حکومتوں نے مسلمانوں کا خوب استحصال کیا ۔کانگریس نے پچھڑے پن کا راگ آلاپ کے مسلمانوں کی حمایت حاصل کی اور ‘مطلب ‘ نکل جانے پر انھیں یا تو دشمنوں کا لقمۂ تر بنادیا یابے بنیاد الزامات کے تحت جیلوں میں ٹھونس دیا۔ بی جے پی کا چونکہ وجود ہی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور مسلم مخالف ایجنڈوں کے ذریعے عمل میں آیا تھا،اسی لئے اس نے جب کبھی مسلمانوں کو سیاسی،سماجی،تعلیمی اور اقتصادی ومعاشی کسی اعتبارسے ابھرتے دیکھا،اس نے مسلم کشی اور فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا ۔نتیجتا مسلمان جس کھائی سے نکلے تھے ایک بار پھر اسی میں جاگرے۔انتخابی مقاصد کے پیش نظر کانگریس اپنے اس ‘سیاسی جرم’ کا اعتراف کرنے سے قاصرتھی۔ جبکہ بی جے پی کو اشارتا اپنے اس ‘سیاسی گناہ’ کے اعلان میں ہی فائدہ نظرایا ۔بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس کی پالیسی مسلمانوں کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی کیونکہ یہ دوغلی تھی۔اس انکشاف کے بعدمسلمانوں نے کانگریس کو مسترد کرنا اور نئی قیادت کوتلاشنا شروع کردیا،جس کے
کچھ فائدے بھی ہوئے اور کچھ نقصانات بھی۔فائدہ یہ ہواکہ کانگریس منظر عام سے غائب ہوگئی اور نقصان یہ کہ بحیثیت تنہا وبے مقابل اپوزیشن بی جے پی اقتدار پر قابض ہوگئی ۔اقتدار پذیر ہوتے ہی بی جے پی نے اپنے ایجنڈوں کو بروئے کار لانا شروع کردیا۔پہلے طلاق ثلاثہ ،پھر بابری مسجد اور اب سی اے اے مع این پی آر واین آرسی ۔اول الذکر دو معاملوں پر مسلمانوں کے ظاہری انتشار یا مصلحانہ خاموشی سے بی جے پی نے غلط معنی اخذ کر لیا اور یہ سمجھ لیا کہ ‘ اب مسلم دشمنی کے ایجنڈے کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ کیونکہ مسلمان مظلومیت اور بے بسی کی اتنی گہری کھائی میں جاگرے ہیں، جہاں سے ان کی آہیں اور کراہیں بھی نہیں سنی جا سکتیں۔ لہذا یہی موقع ہے کہ انھیں سی اے اے مع این پی آر و این آرسی کے ذریعے قانونی طور پر دھتکار دیا جائے اور اس قابل بنا دیا جائے کہ یا تو وہ ثانوی درجے کا شہری بن کر رہیں یا پھر ڈیٹینشن سنٹر کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہوا کیا ۔۔۔۔۔۔؟ بالکل برعکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقول شاعر
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
(مومن)
جب 10 اور11 دسمبر ،2019 کو شہریت ترمیمی بل سی اے بی لوک اور راجیہ دونوں سبھاؤں میں بالترتیب پاس ہوکر قانون بنا تو اس وقت اس کے خلاف سیاست ،مصلحت ،مسلک اور ذات برادری کے بےشمار خانوں میں محصور مسلمانوں کی مختلف جگہوں سے آوازیں اٹھنے لگیں،دھیرے دھیرے یہ آوازیں تیز ہوئیں اور آج یہ کیفیت ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے درمیان اٹھائی ہوئی تعصب اور اختلاف کی ساری دیواروں کو منہدم کر دیا ہے اور حنفی،وہابی شیخ ،سید،خان ،پٹھان اور انصاری و منصوری سب کے سب پوری ہم آہنگی اور یگانگت کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔آزادی ہند کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اتنی جرأت ،قوت اور شدت کے ساتھ مسلمان دشمنان ملک و ملت اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف چٹان بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔آج کے ہندوستانی مسلمانوں کو دیکھ کر مجاہدین جنگ آزادی کا تصور بار بار دل و دماغ کو انگیخت کرتا ہے۔یہ باور کراتا ہے کہ ہم انھیں مجاہدین کے اخلاف اور جانشین ہیں جنھوں نے غلامی کی زنجیر پہنانے والے انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے اور بالآخر میدان چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان کے ان نئے مجاہدین آزادی نے ‘کالے انگریزوں ‘ کے خلاف بغاوت کی جو مہم چھیڑی ہے اس نے ملک کے مظلوم، دہشت زدہ اور منتشر الخیال مسلمانوں کو ایک بار پھر سے جی اٹھنے اور انقلاب برپا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اس تحریک نے جہاں ایک طرف بحیثیت مجموعی مسلمانو ں کے سیاسی شعور کو اجاگر کیا ہے وہیں دوسری طرف ان کی افرادی قوت اور قومی دبدبے کو بھی نمایاں کیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے سیاسی اور سماجی مستقبل کی زمینی خاکہ بندی میں ہندوستانی مسلمان اس قوت کا کیا اور کتنا استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔
مذکورہ تمام واقعات اور حقائق سے یہ بات پائے ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مسلمانوں کےخلاف دشمنوں کی غارت گری اور ریشہ دوانی علامت تباہی یا زوال نہیں بلکہ مستقبل قریب کے عروج اور بلندیٔ اقبال کی پیشین گوئی ہے۔وجود و فنا کی اس کائنات میں یہی تقدیرمسلمانی ہے اور قانون الہی بھی۔ارشادربانی ہے:
‘اور ہم تمہیں دشمنوں کے خوف ودہشت ،بھوک وافلاس ،اتلاف جان ومال اور پھلوں کی کمی سےآزمائیں گے۔لیکن(کامیابی اور فتح ونصرت کی) بشارت ان لوگوں کے لئے ہے جو صبر کرنے والے ہیں:بقرہ:155

Facebook Comments