تحریر:غلام مصطفیٰ ضیا

ہم عیاش ہوئے علم وقتی سکون اور گزر بسر کا وسیلہ بن گیا ۔ ہمارے لیےخدا کا تصور مطلق نہیں رہ کر عارضی سا کردار بن چکا تھا ۔ مجھے جسٹس کاٹجو کا ایک مضمون آج بھی یاد ہے کہ ہمارے اذہان کرپٹ ہوچکے ہیں موجودہ سماجی ڈھانچے کا زوال ہی صبحِ نو کی وجہ بن سکتا ہے خیر اس کے آثار تو ہیں یقین نہیں ۔ کیا ہم آج خود نہیں دیکھ رہے کے کرونا وائرس ایک بے جان شے ہوتےہوئے بھی عالمی طاقتوں کو سینہ دکھانے کی ضد میں ہے اور اس کی یہ ضد کتنی طویل ہے کوئی اس کے متعلق ابھی  کچھ نہیں جانتا ،ہندوستان ہی کا مشاہدہ فرما لیں مکمل لاک ڈون تک ہم پانچ سو کے قریب تھے اور لاک ڈون کے تین دنوں میں ہزار کا عدد پار کرنے جارہے ہیں۔تو پھر کیا ہمیں اب بھی بھونڈی ہنسی پر اور ٹھٹھول کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ میں یہاں کسی مذہب کا پرچار کرنے کی بات ہی نہیں کروں گا لیکن یہ سچ ہے کہ انسان جب جب خود کو بے لگام سمجھنے کی خطا کرے گا نکیلنے والی طاقتوں کا جنم ضرور ہوگا۔ کیا آپ سب کرونا دیکھنا چاہتے ہیں مجھے یقین ہے آپ سب کی یہ خواہش ہے کیونکہ آپ اس سے دوڑا دوڑا کر مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہونگے اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ سائنسی طریقہ کار سے نفرت کی حد تک بیزاری آپ کی ایک خواہش یعنی کرونا سے ملاقات پورا کرا سکتی ہے ۔ہم اس قوم اور جنس سے ہیں کہ اللہ مالک جنت کے میدانوں میں ٹہلنے کا موقع بھی عنایت فرما دے تب بھی ہم جہنم کنارے اس دیکھنے کی خواہش سے آزاد نہیں ہوسکتے ۔جس قوم میں  فکر و عمل کی قوتوں کا فقدان ہو اور اس سے جینے کی خاطر صاف مستقبل کی امید بھی باقی نہ رہی ہو وہاں چولیں پیدا ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔ لسانیات کے ماہرین ہوں یا سماجی پارکھ پنجابی زبان کے لفظ چول کے متعلق اس امر لا حاصل پر متفق ہیں کہ چول دکھائی جا سکتی ہیں سمجھائی نہیں جا سکتیں ۔ تو آپ میں سے جن کی حرکتیں چولوں جیسی ہوں انہیں بس چول ہی کہا جا سکتا ہے ۔ملک ہندوستان موجودہ دنیا میں ایک بڑی آبادی اور گرتی معیشت کے ساتھ  سیاسی چولوں کا جیسے محلہ بن چکا ہے۔ جس سے کسی بھی حکومت سے جوڑنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کرونا وائرس ایک وبا یا مرض کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی کے لیے نا قابلِ تسخیر و شکست  آفت بنتا جا رہا ہے آپ یا ہم سب سمجھدار لوگ بھی انسان نامی جنس کے پورے حصار کی حیثیت نہیں رکھتے یا سائنس تاحال اس قابل ہی نہیں ہوپائی ہےکہ انسانی معالج بن کر ہر ایک قدرتی آفت کوجواب دینے کی صلاحیتیں پیدا کر سکے۔کرونا وائرس کے بعد تمام عالمی طاقتوں کواس بات کی خبر ہو چکی ہے اور مزید اس کے نتائج اس بات کا احساس کراتے جائیں گے۔  سب اپنے اپنے  ملکی حالات پر قابو پانے کی کوشش بھی کررہے ہیں ۔ بعض جگہوں پر امدادی کاروائیاں بھی شروع ہو چکی ہییں اور کچھ موقع ملتے ہی غریبوں کے ٹھیکدار بننے کی دوڑ میں ہیں ۔ہیں نا ہم سیاسی چولیں آپ تصدیق فرما دیں گے تو ہاتھ پر ہاتھ کی تالی کا مزا آ جائے گا ۔ یہ غربت نامی وائرس کافی پرانا اور سماجی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے بلکہ یہ جو اس وائرس کے نام پر مددگار بننے کی ہوڑ میں رہتے ہیں ان کی خرشاہی نے اس ادارے کو جنم دیا ہوتا ہے ۔ بہت اتاولے نہ ہوں ان غریبوں کی مدد ضرور کریں لیکن اپنی شخصیت کا رعب جمانے کے لیے نہیں اور دوسروں سے واو واہی کے لیے بھی نہیں بلکہ صرف ان کی گزر بسر کے لیے جو کہ ان کا حق ہے اور آپ نے ہم نے مار رکھا تھا  یہ بھی یاد رکھیں کہ قدرت اپنے  فطری انداز میں کسی معمولی سطح کے انسانی خلل کو برداشت نہیں کر ے گے اور نہ ہی انسان کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع دے گی ۔ لہذا یہ  موجودہ دنیا جس طرح ہے ویسے ہی ٹھیک بھی نہیں کہی جا سکتی قدرت کی نظر میں ضرور کچھ گڑ بڑ ہوچکی ہے جس سے وہ ٹھیک کیے بغیر دنیا سے الگ نہیں ہوسکتی۔ ہوسکتا ہے کہ غزہ کی پٹی پر افغانستان میں شام یا مصر کی گلیوں سے یا پھر کشمیر کی یخ بستہ ہواؤں پر تیرتی کسی معصوم بچے کی صدا اس کی بکھرے لتھڑوں سمیت ناظم اعلیٰ کے پاس پہنچ گئی ہواور اس ناظم یا خالق نے بھی نوٹس میں لے کر تھوڑے بیلینس کی عالمی ہوا چلا دی ہو ۔اور ہم اس سے وائرس سمجھنے کی غلطی کر رہے ہوں ۔ویسے  اب تک ہم انسانوں نے قدرت کے ساتھ عمل دخل میں صرف مزہ ہی نہیں لیا بلکہ یہ عادت بنا لی ہے۔انسانوں کے اپنے اصول جہاں وقتی ہیں وہیں یہ اپنے موجودہ ڈھانچے میں  بالکل مکمل بھی نہیں سمجھے جا سکتے۔  آپ اور ہم سب  شاید پچھلے د وسو برس سے واقفیت رکھتے ہوئے انسانی ترقی اور مشینی قوتوں کے دم خم کے قائل ہوئے ہوں لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ان دو سو سالوں نے انسانی زندگی کے کروڑوں سال بغیر کسی ڈکار کے ہضم کر لیے ہیں اور نا معلوم اس کی شکم سیری تک یہاں اس کرہ ارض پر انسانی زندگی ممکن بھی ہوسکے گی یا نہیں۔انسان کی حیثیت و اوقات ہی کیا ہے پوری کائنات خطرے کی زد میں ہے اورآثار اس بات کے بھی ہیں کہ سائنسی معذورین میڈیکل کے نام پر شاید خود کو تسلی دیتے ہوئےتھکنے کی بعد مختلف موذی و لاعلاج صورتحال سے نمٹنے کے بجائے اعلان دستبرداری پیش کرنے کے در پہ نہ ہو جائیں میں انسانی زندگی کے سارے نمونے اور ماڈلز کے پیشِ نظر حوزے ساراماگوکے ایک اقتباس کی مثال سے اسی طرح سمجھتا ہوں جیسے وہ لکھتے ہیں
” بچپن میں پہلی بار میں گیس کا غبارہ ہاتھ میں تھامے ایک سڑک پر ڈورتا چلا جا رہا تھا۔۔ میں بہت شاد اور مگن تھا کہ غبارہ ایک آواز کے ساتھ پھٹ گیا۔۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ، سڑک پر قابل رحم انداز میں ایک پچکی ہوئی ربڑ کی لجلجی سی شے پڑی ہوئی تھی۔۔۔اب اس عمر میں آکر مجھے یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ وہ پچکی ہوئی شے دنیا تھی ۔
ہم اس ہچکی ہوئی شے سے بھی کم تر لوگ ہیں جب کہ دنیا کا سارا نظام بقول میر
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگاہ شیشہ گری کا۔
آپ اور ہم اس وبا کو اپنی زندگی میں ناقابلِ علاج دیکھتے ہوئے بھی سائنس کے بھروسے فطرت کی تاویلوں میں رخنہ کے قائل ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم خود معذور ہیں اور بد بختی سے ہندوستانی ہونے کا شرف بھی رکھتے ہوں تو خود کو دنیا کی عظیم چولوں کے چنگل میں پھنسا پا کر نہایت ہی ہوشیاری اور عقل مندی کے ثبوت فراہم کریں۔ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ رہے گی داستانوں میں ۔کرونا سے اس لیے بچنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ سرکاری پابندیوں کے باوجود بھی پھیلتا چلا جارہا ہے بلکہ آپ کی زندگی کسی کام کی ہے اور آپ خود کو دنیا کے لیے نعمت سمجھتے ہیں تو کرونا پھیلانے کا سبب نہ بنیں کہ یہ خرتری ہے یا خر دماغی ہے اور دوسروں سے دور رہیں کہ گدھا کوئی بھی ہوسکتا ہے اور کرونا تو خیر کرونا ہے تکلیف ضرور پہنچائے گا۔۔۔

Facebook Comments