تحریر:غلام مصطفیٰ ضیا

مجھے اس بات میں کوئی تامل نہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں علم کے سوا سب کچھ موجود رہتا ہے۔ بلکہ اس پوری اصطلاح کو طالب اور علم کی نظر سے دو مختلف مگر جدا جدا آئینوں میں دیکھا جاناچاہیے آپ نہیں دیکھ سکتے تو سنیے نہیں سن سکتے تو محسوس کیجیے اور یہ بھی نہیں کر سکتے تو جھک ماریے لیکن وہ جو علم ہے اس میں طلب نہیں دکھتی، اور جوطلب ہے وہ علم نہ رہ کر نوکری کی ہوس ہوچکا ہے خیر اس بات کو چھوڑیے ایسی صورت میں  تسلی بخش نتائج کی امید بھی محض قیاس سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی اور آپ نہیں کہتے تو کرونا کا ویسا مریض بننے کی مکمل  اجازت ہے جو چین میں پیدا ہوا اٹلی میں پلا بڑھا امریکہ میں پھیلا اور ہندوستان میں تشریف لاتے ہی مسلمان ہوگیا جو کبھی تبلیغی جماعت سے منسلک ہوجاتا ہے تو کبھی مسجدوں کے نکمے ملاوؤں کا نوکر چاکر دکھائی دیتا ہے۔کورونا وائرس ہے اور چپراسی نوکری ،ان دونوں سچائیوں کا انکار  کوئی اندھا ہی کر سکتا ہے مجھے تو ان دونوں کے ہونے میں اب کوئی شبہہ نہیں ہے ۔سنا ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان جموں و کشمیر کے لیے اس سال کافی نرم رویہ رکھتا ہے ۔اس بات کا اندازہ محض اسی ایک بات سے لگا لیا جانا چاہیے کہ ریاست جموں و کشمیر میں چپراسی لیول کی تمام نوکریاں محفوظ ہیں باقی کا خیال تو کیا گمان بھی نہ رکھیں۔ کورونا کا مکمل علاج پولیس تھانوں میں ہی نہیں بذریعہ پولیس غریبوں کے ساتھ تجربات کی لیبارٹریاں یعنی سڑکوں پر خوب کیا جارہا ہے اور چپراسی بننے  کے لیے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کو مرکز کی طرف سے خصوصی رعایت دی گئی ہے لفظ چپراسی کو دیکھیں تو اپنی بنت میں اتنا برا بھی نہیں ہے۔ لغوی اعتبار سے چَپْراسی چَپ + را + سی تلفظ کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ ہے یہ اسم  ہے اور چپراس کے ساتھ ی بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے چپراسی بنا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ 1849ء میں “دستور العمل مدرسین” میں مستعمل ملتا ہے۔ گرائمر کی رو سے اسم نکرہ مذکر واحد ہے جو کوئی بھی بن سکتا یا برابری کا لحاظ رکھیں تو بن سکتی  ہے۔ لیکن اس کے لیے مرکزی حکومت کسی بھی باہری انسان کو ان سنگلاخ برفانی علاقوں میں کسی قسم کی تکلیف اٹھانے کے لیے  قطعی کوئی غلط ارادہ نہیں رکھتی۔آپ سوچیں گے کہ یہ چپراسی آخر کیا بلا ہے تو حیران ہونے کی ضرورت نہیں علماء لغت اس کے معنوں میں فرماتے ہیں وہ شخص جو کسی دفتر یا ادارے وغیرہ میں اوپر کے کام کرنے پر ملازم ہو، کسی حاکم یا افسر کا پیش خدمت؛ ہر کارہ، اردلی پیادہ، قاصد انگریز ہندوستان رہے ہیں سو ان سے ہمیں کوئی نفرت بھی نہیں ہے وہ اپنی مادری زبان میں اس چپراسی کے متعلق فرماتے ہیں.
a messenger or other servant wearing a chapras
اچھا مجھے اس لفظ سے کیا مطلب پچاس ہزار نوکریاں جو آنے والی ہیں آپ ان میں چپراسی کی تیاری فرمائیں۔ بس اس حوالے سے چپراسی کا منصب عالی بتانا ضروری تھا باقی دعا ہے اللہ مالک آپ سب کو اس مقصد میں کامیاب فرمائے۔یہ وہ واحد پیشہ ہے جس کے متعلق مجھے اردو ایک مشہور شاعرجناب سید محمد جعفری کی ایک نظم بے حد پسند ہے نظم کچھ اس طرح ہے
خالق نے جب ازل میں بنایا کلرک کو
لوح و قلم کا جلوہ دکھایا کلرک کو
کرسی پہ پھر اٹھایا بٹھایا کلرک کو
افسر کے ساتھ پن سے لگایا کلرک کو
مٹی گدھے کی ڈال کر اس کی سرشت میں
داخل مشقتوں کو کیا سر نوشت میں
چپراسی ساتھ خلد میں جب لے گیا اسے
حوروں نے کچھ مذاق کیے کچھ ملک ہنسے
ہاتف کی دفعتاً یہ صدا آئی غیب سے
”دیکھو اسے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہے”
آدم کا رف ڈرافٹ ہے کب تک ہنسو گے تم
اپروو ہو کر آیا تو سجدہ کرو گے تم
جنت میں فائلیں ہیں نہ ہے کوئی ڈائری
حوریں تو جانتی ہیں فقط طرز دلبری
غلماں سے کچھ کہو تو سنائے کھری کھری
یہ انتظام ہے یہ ڈسپلن ہے دفتری
میں سوچتا ہوں کیا کروں ایسی بہشت کو
”ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو”
خلد بریں کو ناز تھا اپنے مکین پر
اور یہ بھی تھے مٹے ہوئے اک حور عین پر
لالچ کی مہر کندہ تھی دل کے نگین پر
ٹی اے وصول کرنے کو اترا زمین پر
ابلیس راستے میں ملا کچھ سکھا دیا
اترا فلک سے تھرڈ میں انٹر لکھا دیا
رکھا قدم کلرک نے جس دم زمین پر
دیکھا ہر ایک چیز ہے قدرت کے دین پر
بولا کہ میں تو زندہ رہوں گا روٹین پر
مجھ پر مشین ہوگی میں ہوں گا مشین پر
اس آہنی صنم کی عبادت ہے مجھ پہ فرض
نوکر ہوں بادشاہ کا جیتا ہوں لے کے قرض
اے سیکرٹریٹ کی عمارت ذرا بتا
اس وقت جبکہ جاتے ہیں افسر بھی بوکھلا
ہوتا ہے کون کشتیٔ فائل کا ناخدا
افسر نہیں ہیں اس کی حقیقت سے آشنا
پر ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان ہیں کلرک
دریائے ریڈ ٹیپ کا طوفان ہیں کلرک
نظم کے بعد آپ کو ایک دھوبی کی بیوی کا معمولی سے قصہ سنانا بہتر سمجھتا لیکن غور سے مطالعہ فرمانے کی شرط ہے دھوبی کی بیوی ہم سب کی طرح خوشی خوشی اپنے بادشاہ کے دربار میں پہنچی ۔
 دھوبی کی بیوی سے ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ تم آج اتنی خوش کیوں ہو۔دھوبی کی بیوی نے کہا کہ آج چنا منا پیدا ہوا ہے۔ ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا.ماشاء اللہ پھر تو یہ لو مٹھائی کھاو چنا منا کی پیدائش کی خوشی میں۔اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔تو ملکہ کو خوش دیکھا پوچھا.ملکہ عالیہ آج آپ اتنی خوش کیوں ہے کوئی خاص وجہ۔..؟؟؟ملکہ نے کہا سلطان یہ لے مٹھائی کھائیں آج چنا منا پیدا ہؤا ہے۔اسلیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے…. !!بادشاہ کو بیوی سے بڑی محبت تھی۔بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔بادشاہ باہر دربار میں آیا۔ بادشاہ بہت خوش تھا۔وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا.تو واہ واہ کی آوازیں سنائی دینے لگی کہ ظلِ الہی مزید خوش ہو لے۔ ظلِ الہی نے کہا سب کو مٹھائی بانٹ دو۔ مٹھائی کھاتے ہوئے بادشاہ سے وزیر نے پوچھا. بادشاہ سلامت یہ آج مٹھائی کس خوشی میں آئی ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ آج چنا منا پیدا ہؤا ہے۔ ایک مشیر نے چپکے سے وزیر اعظم سے پوچھا کہ وزیر باتدبیر ویسے یہ چنا منا ہے کیا شے..؟ وزیراعظم نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو علم نہیں ہے کہ یہ چنا منا ہے کیا بلا،بادشاہ سے پوچهتا ہوں۔وزیراعظم نے ہمت کر کے پوچھا کہبادشاہ سلامت ویسے یہ چنا منا ہے کون..؟؟؟بادشاہ سلامت تھوڑا سا گھبرائے اور سوچنے لگے.کہ واقعی پہلے معلوم تو کرنا چاہیے.کہ یہ چنا منا ہے کون۔بادشاہ نے کہا مجھے تو علم نہیں کہ یہ چنا منا کون ہے…میری تو بیوی خوش تهی آج..
بہت خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ٓآج چنا منا پیدا ہؤا ہے.اسلیئے میں اسکی خوشی کی وجہ سے خوش ہؤا۔ بادشاہ گھر آیا اور بیوی سے پوچھا….ملکہ عالیہ یہ چنا منا کون تھا.
جس کی وجہ سے آپ اتنی خوش تھی اور جس کی وجہ سے ہم خوش ہیں۔ ۔
ملکہ عالیہ نے جواب دیا کہ مجھے تو علم نہیں کہ چنا منا کون ہے۔
یہ تو دھوبی کی بیوی بڑی خوش تھی کہ آج چنا منا پیدا ہؤا ہے.اسلیئے میں خوش ہوں۔
میں بھی اسکی خوشی میں شریک ہوئی۔دھوبی کی بیوی کو بلایا گیا کہ تیرا ستیاناس ہو..یہ بتا کہ یہ چنا منا کون ہے..جس کی وجہ سے ہم نے پوری سلطنت میں مٹھائیاں بانٹی۔!دھوبی کی بیوی نے کہا…کہ چنا منا ہماری کھوتی کا بچہ ہے جو کل پیدا ہؤا ہے ۔
 قصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارے پیر پنجال اور جموں کے عمومی علاقوں کا چکر لگائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ  چپراسی ذہن کٹھ ملاں اور بد کردار میراثی سیاسی بھڑوے یہی سمجھتے ہیں جو شاید سچ بھی ہو کہ بی جے پی نے جو کہا ہے ان دنوں وہ سرکاری ہورہا ہے اور جو سرکاری ہوجاتا  ہے  اس کے لیے تو ہم بچیاں بیاہ دیتے ہیں پھریہ پرچار،لویسی یا  انڈ پکڑنا  تو چیز ہی کیا ہے۔ جناب وہ چنا منا جس کا انتظار تھا پیدا ہوچکا ہے اب دوبارہ ہمیں میٹھائیاں بانٹنی چاہئیے اور انڈ لویسی میں مبتلا ہوکر خود کے چپراسیانے میں بھی کارگر ہونا چاہیے  ۔کون مستقبل کیسی تعلیم کونسی فکر کیا نوکریاں کہاں سے کرونا کیسی وبا سب ہمارے چنا منا کی خوشیاں مناتے جارہے ہیں اور حکومت کے حق میں رطب اللسان رہنے کو ہی اپنی عاقبت سمجھتے ہیں ویسے ان دنوں یہ کرونا چنامنا جیسا ہوتا جارہا ہے۔ کچھ دیسی مولوی اور سرکاری ورڈ ممبر لوگوں کو کرونا وائرس سے بچنے کے بجائے پولیس سے ڈرانے میں جٹے ہیں اللہ سے دعا ہے ان کی اس چوکیداری کا خوب خوب صلہ ملے۔
رابطہ نمبر۔ 7889368623

Facebook Comments