تحریر:غلام مصطفےٰ نعیمی 

اتر پردیش حکومت نے آگرہ میں زیر تعمیر *”مغل میوزیم*” کا نام بدل کر شواجی میوزیم کردیا ہے۔ تبدیلی نام کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صوبے کے مُکھیا یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ “مغل ہمارے ہیرو نہیں ہوسکتے اور اتر پردیش میں ہم غلامی کی کسی یادگار کو رہنے نہیں دیں گے”۔
یوپی میں تبدیلی نام کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، حکومت سازی کے بعد سے ہی مغلوں اور اسلامی ناموں کو بدلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پہلے یوگی حکومت نے اِلٰہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو اجودھیا، مغل سرائے جنکشن کو پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن، کردیا۔شہروں کے ناموں سے جی نہیں بھرا تو مُحَلّوں کے نام بدلنے پر اتر آئے،اس کڑی میں گورکھ پور کے علی نگر کو آریہ نگر، اردو بازار کو ہندی بازار، ہمایوں نگر کو ہنومان نگر، مینا بازار کو مایا بازار، کردیا اور اب تازہ تازہ مغل میوزیم کا نام بدل ڈالا۔
تبدیلی نام کی یہ مہم اصل میں نفسیاتی طور پر اسلام دشمنی کا اظہاریہ ہے۔ برطانوی راج میں مسلم بادشاہوں کی کردار کشی کی منظم سازش شروع ہوئی تھی۔ انگریز چلے گئے مگر نفرت کم نہیں ہوئی۔ اسی نفرت کا اثر ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا بڑا طبقہ تیار ہوچکا ہے جو مسلم بادشاہوں کے دور کو غلامی سے تعبیر کرتا ہے۔مسلم بادشاہوں بالخصوص مغلوں کو باہری حملہ آور قرار دیتے ہیں۔یہ بات تاریخی طور پر درست ہے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین محمد بابر(م:1530ء) باہر سے آئے، لیکن مزیدار بات یہ ہے کہ بابر نے ہندوستان کے کسی ہندو راجہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایک مسلم بادشاہ سلطان ابراہیم شاہ لودھی
(م:1526ء) سے لڑنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا تھا۔ اس سے بھی مزیدار بات یہ ہے کہ بابر کو ہندوستان پر حملہ کی دعوت دینے والا ایک ہندو راجہ رانا سانگا(م:1527ء) تھا۔ اسی کی دعوت پر بابر کے قدم ہندوستان میں پڑے، اپنی جنگی مہارت کی بدولت ہندوستان کا بڑا حصہ فتح کیا اور مغل سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ ان کی آنے والی نسلیں ہندوستان میں ہی پیدا ہوئیں جنہوں نے ہمت وبہادری کی بدولت ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ملک کو ایک نظام کا حصہ بنایا۔ خوب صورت عمارتیں تعمیر کرائیں، بڑے بڑے راستے، تعلیمی و قانونی ادارے، سرائے، مسافر خانے، تجارتی منڈیاں اور زراعت کا بہترین نظام وضع کرکے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا۔ امریکی محقق Cris Mathew “ٹائم میگزین” میں لکھتے ہیں:
“مغلوں کے عہد میں بھارت کی جی ڈی پی دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی %25 فیصد تھی۔(آج آزادی کے 70 سال بعد بھارت کا جی ڈی پی مائنس میں پہنچ چکا ہے)
جیفری ولیمسن اور ڈیوڈ کلنگ اسمتھ اپنی کتاب India’s Di-industrialization in 18the and 19the century میں لکھتے ہیں:
“مغل بھارت، تعمیرات اور پیداوار میں دنیا کا لیڈر تھا…اس وقت بھارت میں فی کس آمدنی آج کے برطانیہ اور فرانس کے برابر تھی۔ اسی اقتصادی مضبوطی نے یورپین لوگوں کو بھارت آنے پر مجبور کیا۔”
عہد مغل میں بھارت کی خوش حالی کا یہ عالم تھا کہ جب انگریز پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تو انہوں نے رات کو دلّی کی سڑکوں پر بڑے بڑے چراغ جلتے دیکھے تو حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبالیں کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ میں شام ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا کیوں کہ نہ لندن کی سڑکیں اس لائق تھیں کہ رات کو ٹہلا جائے نہ چراغوں کو روشن کرنے کا منصوبہ تھا اور نہ ہی پیسہ!
لیکن عہد مغل میں دہلی کی سڑکیں رات میں بھی دن کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔
*مغلوں سے نفرت تو انگریزوں سے پیار کیوں؟*
بابر کے علاوہ سارے مغل بادشاہ اسی ملک میں پیدا ہوئے، اور اسی مٹی میں دفن ہوئے۔مغلوں نے سب کچھ بھارت کے لیے کیا، اسے اپنا گھر بنایا لیکن انگریزوں کے لئے بھارت صرف ایک منڈی تھا جی بھر کر لوٹا اور سب کچھ لوٹ لاٹ کر اپنے وطن واپس بھاگ گئے۔بھارت کا کوہِ نور ہِیرا آج بھی انگریزی لوٹ پاٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو آج تک انگلینڈ میں موجود ہے۔
 لیکن شدت پسندوں کا ٹولہ مغل حکومت کو دور غلامی کہتا ہے لیکن انگریزوں سے پیار کرتا ہے۔حالانکہ مغلوں کی طرح انگریز بھی بدیسی تھے، مغلوں نے اپنی ہمت وبہادری کی بنیاد پر انصاف پسند سلطنت قائم کی جبکہ انگریزوں نے مکاری وفریب سے ملک پر قبضہ کیا، مغلوں نے جو کیا یہاں کے لیے کیا جبکہ انگریز یہاں کی دولت لوٹ کر انگلینڈ لے گئے۔ لیکن شدت پسند، مغلیہ نشانیوں کو غلامی کی یادگار کہہ کر ان کا نام بدلنے اور انہیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن انگریزوں کی قائم کردہ عمارتوں، شہروں اور مارکیٹ کے ناموں سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، انگریزی نام بدستور برقرار ہیں، ایک مختصر فہرست یہ رہی:
1- کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ
2- رائٹرس بلڈنگ، کلکتہ
3- راشٹر پتی بھون، دہلی
4- کناٹ پیلس، دہلی
5- سینٹ پال کیتھ ڈریل چرچ، کلکتہ
6- فورٹ ولیم، کلکتہ
7- وکٹوریہ میموریل، کلکتہ 
8- کونسل ہاؤس، لکھنؤ
9- مے یو میموریل ہال، الہ آباد
10- گیٹ وے آف انڈیا، ممبئی
11- انڈیا گیٹ، دہلی
12- سینٹ میری چرچ، چنئی
آج تک کسی شدت پسند نے بھی انگریزی عمارتوں اور ان کے ناموں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ آکرانتا اور حملہ آور بتا کر یہ لوگ بھارت کے رہائشی مسلم بادشاہوں کو گالیاں دیتے اور بدیسی کہتے ہیں، مگر اپنے گورے آقا انگریزوں کا کبھی نام بھی نہیں لیتے، جو حقیقتاً آکرانتا اور حملہ آور تھے جنھوں نے تقریبا 200 سال تک بھارت کو لوٹا اور آخرکار دیش کی بےتحاشا دولت لُوٹ کر اپنے ملک چلے گئے. !!
ایک طرف *اکھنڈ بھارت* کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری جانب مغلوں کو غیر ملکی کہتے ہیں اس منافقت سے صاف ظاہر ہے کہ معاملہ مغلوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہے۔ انہیں صرف ان عمارتوں سے پریشانی ہے جو انہیں مسلمانوں کی شان وشوکت یاد دلائے۔ ہر اس نام سے دقت ہے جس سے اسلامی پہچان ظاہر ہو اسی لیے ان کی نفرت مغلوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور شہروں پر دکھتی ہے لیکن انہیں یہ قدرتی اصول یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کی بقا انصاف سے ہے اگر انصاف نہیں کیا گیا تو اقتدار بھی باقی نہیں رہے گا۔

Facebook Comments