تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

طلاق ،طلاق،طلاق توبہ استغفراللہ! توبہ استغفراللہ!دونوں لفظوں کو اسلام کے ماننے والوں کو استعمال کرنے کا حق ہے، لفظ طلاق گر چہ حلال ہے و الیکن حلال ہونے کے باو جود اس کے استعمال سے عرش اعظم ہل جاتاہے اور اللہ ر ب العزت کو سخت نا پسند ہے، جب کہ توبہ استغفر اللہ، توبہ استغفر اللہ، ایسا لفظ ہے جس کے استعمال کر نے سے انسان اپنے گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے،اللہ رب العزت اس سے خوش ہو تا ہے، فیصلہ آپ کریں کہ کس پر عمل کرنا ہے جس سے اللہ ناراض ہو جائے یا اللہ رب العزت معاف فر ما ئے اور خوش ہو!۔
ادھر کئی سالوں سے طلاق پر اتنا بولا گیا،لکھا گیاکہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، طلا ق کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو سامنے نہ آگیا ہو،طلاق کے موضوع پر مختلف زبانوں میں بھی بہت لکھا اور بولا گیا۔ مسجدوں کے ممبروں سے لے کر، پارلیمنٹ اور ودھان سبھا تک،جلوسوں سے لیکر جلسوں کے اسٹیجوں تک جس کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا۔ چونکہ حکومت کی نیت اسلام اور مسلمانوں کے تئیں خراب تھی توزور،زبر دستی اور جلد بازی میں قانون بنا دیا،جس میں بہت سی خامیاں ہیں۔حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے قانون(حکم)اوربی جے پی حکومت کے بنائے قانون میں بہت بڑا تضاد(اختلاف)ہے اہل علم،خاص کر علما اس طرف توجہ فر مائیں جو وکلا حضرات طلاق کے مقدمات لڑرہے ہیں انھیں ضرور اسلامی نقطہ نظر سے واقف کرائیں طلاق پر حکومت ہند اتنی فکر مندی کیوں دکھا رہی ہے یہ جگ ظاہر ہے کہ ان کو اسلام اور مسلمانوں سے ازلی بیر ( دشمنی، عداوت، کینہ، نفرت،) ہے۔طلاق فیصلہ صرف ایک فیصد بلکہ اس سے بھی کم ہے،پورے ہندوستان میں ایک ہزار تعداد بھی نہیں اسلام مخالف میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے اور کچھ مسلم جماعتیں بھی ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ طلاق دینے والوں کو کوئی مبارک باد نہیں دیتا بلکہ ہر طبقہ میں ان کی مذمت(برائی، توہین،عیب جوئی،) ہوتی ہے اور کیوں نہ ہو جب رب ذوالجلال والاکرام اس کو پسند نہیں فر ماتا ۔طلاق دینا سنت نہیں،نبی کریم ﷺ نے طلاق نہیں دی،صحابہ کرام کے زمانے میںاِکّا دُکا ّواقعات ہوئے، لیکن نکاح سنت طریقے سے ہوئے، طلاق پر آج بھی واویلا مچا یا جارہا ہے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ جیسے اسلام میں طلاق سے بڑا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں،ہر چہار جانب غیر اسلامی طریقے سے شادیاں، فضول خرچی پر قوم کے جھوٹے ہمدرد چپ کیوں؟۔۔۔
نکاح کی اسلامی حیثیت: انسان کی بہت ساری فطری ضروریات ہیں ان میں نکاح بہت اہم فطری(طبعی،قدرتی،) ضرورت ہے اور اس فطری ضرورت کو جائز اور مہذب طریقے کے ساتھ پورا کر نے کے لیے اسلام نے نکاح کو عبادت سے تعبیر فر مایا ۔آقا ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا فر مایا:” جو میرے طریقے کو محبوب رکھے،وہ میری سنت پر چلے اور میری سنت نکاح ہے“۔(حدیث ،صحیح مسلم باب خیر متاع الدنیاحدیث1467) ۔قر آن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،ترجمہ:اور(اے رسول!) بیشک ہم نے آپ سے پہلے( بہت سے) پیغمبروں کو بھیجا اور ہم نے ان کے لیے بیویاں(بھی) بنائیں اور اولاد (بھی)، اس ارشاد رباری تعالیٰ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام بھی اہل وعیال والے رہے ہیں۔
عورت قدرت کا انمول تحفہ: نکاح کرنے سے انسان کو عورت کے روپ میں اللہ رب العزت کا ایک عظیم تحفہ ملتا ہے۔ نکاح کے ذریعہ انسان کی بہت سی ضروریات پوری ہوتی ہیں جن میں سب سے اہم اس کو جنسی سکون حاصل ہوتاہے جس سے اس کا قلب(دل) ودماغ پر سکون رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی زندگی میں سکون (آرام،قرار،چین )سب سے قیمتی دولت ونعمت ہے ،اس کو حاصل کر نے کے لیے نکاح بہت ضروری ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ھُوَا لَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفسٍ وَّاحِدَةٍوَّجَعَلَ مِنھَا زَوجَھَا لِیَسکُنَ اِلَیھَا۔۔۔۔الخ۔(القرآن،سورہ الاعراف،7آیت:189) تر جمہ :وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے۔(کنزالایمان)رسول کریم ﷺ نے فر مایا: ”دنیا ساری کی ساری(برتنے کی چیز ہے) لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین(قیمتی) چیز نیک وصالح عورت ہے“۔(سنن نسائی،باب،نیک وصالح عورت کا بیان،حدیث:3234۔
زندگی کی اہم نعمت چین وسکون کو کس نے غارت کر دیا،خود اولاد آدم نے”جہیز“ جیسی لعنت کے چکر میں زیادہ سے زیادہ کی لالچ میں تاخیر سے شادی کرتے ہیں، جس سے طرح طرح کی بہت سی سماجی برائیاں پیداہوتی ہیں جن کامشاہدہ روز ہورہا ہے کیا کیا لکھوں؟۔ اصل جوانی سے ڈھلتی جوانی میں شادی کر نا زندگی کے حسین دنوں بھی گنوا نا ہوتا ہے۔
حوا کی مجبور بیٹیاں:قدرت کے عظیم شاہ کار،عظیم نعمت ”عورت“ کی ناقدری کر کے انسان آج خود بھی پریشان ہے اور خاندانی و سماجی ماحول میں بہت فساد وبگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ انسانی زندگی کی اہم ضرورت عورت جس کو قدرت نے انسانوں کو تحفہ میں دیا ہے،بیٹی، بہن، بیوی، اور ماں جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی ہے،آج عورت کے ہر روپ میں اس کی بے قدری ہورہی ہے، جس گھر میں بیٹیاں،بہنیں ہیں ان کے ماں باپ،بھائیوں سے پوچھیں ان کا کیا حال ہے۔نکاح تمام انبیا ئے کرام کی سنت ہے،اعتدال کی صورت میں نکاح سنت ہے؛ آقا ﷺ نے فر مایا:اَلنِّکَاحُ مِن سُنَّتِی فَمَن رَغِبَ عَن سُنَّتِی فَلَیسَ مِنِّی۔( بخاری ،حدیث:5063و مسلم،حدیث:1020) فقہا ئے کرام نے حالات کے اعتبار سے نکاح کر نے اور نہ کرنے کے احکام بیان فر مائے ہیں، جو سنت نکاح پر عمل نہ کرے سخت گناہ گار ہے۔ شادیوں میں اب نکاح کو سنت طریقے سے کرنے کا خیال ہی نہیں رہتا لوگ جتنا زیادہ دیکھا وا،فضول خر چی کرتے ہیں ، لوگ اتنی ہی مبارک باد دیتے ہیں، چاہے لڑکی کا باپ قرضوں میں ڈوب رہا ہو، یابھائی کنگال ہورہا ہو کسی کو احساس نہیں، مطلب نہیں، جبکہ لڑکے یا اس کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی والوں سے کسی بھی سامان، یا باراتیوں کے لیے طرح طرح( کھانوں کی فر مائش،یا رسم و رواج کا حوالہ دےکر مطالبہ(مانگنا،تقاضاکرنا) کرنا جائز وحرام ہے ،سخت گناہ کی بات ہے اور مرد کی غیرت کے خلاف ہے۔ نکاح (شادی) میں فضول خرچی کے ہر غلط طریقے سے لالچ پیدا ہوتی ہے فخر وریا کے مقابلے ہوتے ہیں جو سب سے زیا دہ خرچ کرتا ہے دوسرا مقابلہ کر کے اس سے زیادہ خرچ کرتا ہے،لوگ اللہ کے اس حکم کو بھول جاتے ہیں۔
وَتَعَاوَنُواعَلَی البِرِّوَا لتَّقوٰی وَلَاتَعَا وَنُواعَلَی الاِثمِ وَا لعُدوَانِ وَتَّقُواللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیدُالعِقَابِ۔(القرآن،سورہ،مائدہ5،آیت2۔
تر جمہ:اور نیکی اور پر ہیز گاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم( کاموں)پر ایک دوسرے کی مددنہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ(نافرمانی کرنے والوںکو) سخت سزا دینے والا ہے۔
عدوان(ستم،ظلم،زیادتی) میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آئے،افسوس صد افسوس، زمانہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قرآنی تعلیمات سے بہت دور جاچکی ہے۔ لوگ فضول خرچی اور دیکھا وا کر کے مصیبت خود مول لے رہے ہیں(اسی کو کہتے ہیں ،آ بیل مجھے دوڑ کے مار) نبی کریم ﷺ نے فر مایا:آد می اپنے آپ کو خود ذلیل نہ کرے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کیسے؟آپ نے فر مایااپنے آپ کوذلیل کر نا یہ ہے کہ آدمی ایسا کام کر ے جس کو وہ نہ کرسکے، یا ایسی مصیبت میں اپنے کو نہ ڈالے جس کو وہ جھیل نے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔(تر مذی،حدیث:2254,4016) ۔
کیا ہم غیر شرعی شادیوں کا بائیکاٹ نہیں کرسکتے؟: طلاق کی تعداد پورے ہندوستان میں ایک ہزار سے زیادہ نہیں، لیکن شادیوں میں جہیز اور فضول خرچی کر نے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے جو قرضوں کے بوجھ تلے،زمین وجائیداد بیچ کر اور بہت سے سودی قرضوں میں پھنسے کراہ رہے ہیں۔ جہیز کی مخالفت میں بہت کچھ لکھا گیا، لکھا جارہا ہے، بولا جارہا ہے، کیا اس کا اثر ہورہا ہے؟”نہیں“ ایسی شادیوں میں جن میں زیادہ طر کام اسلا می شریعت کے خلاف ہورہا ہے۔رسم ورواج کے نام پر فضول خرچی عام بات ہے دیکھا یہ بھی جارہا ہے جو لڑ کی کی شادی کے نام پر ہاتھ پھیلاتے، سوال کرتے، چندہ کرتے وہ بھی( اپنے دل کے ارمان بھی ہیں جناب!) کہکر مہنگے کارڈ چھپوانے سے لیکر کئی طرح کے پکوان بناکر خوب فضول خرچی کر رہے ہیں ، فضول خرچی کر نے والا شیطان کا بھائی ہے قرآن کہتاہے لیکن ان شادیوں کی دعوتیں خوب مزے لے لے کر سب کھارہے ہیں اور وہ بھی کھار ہیں جو اسٹیجوں سے لیکر مسجد کے ممبروں سے چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کی فضول خرچی حرام ہے ،جہیز لینا دینا حرام ہے وغیرہ،اس وقت ان کا ضمیر کہاں سوجاتا ہے یا مر جاتا ہے ،سچ اورحق تو یہ ہے ”ضمیر“ مر ہی گیا ہے۔ کیوں کی دعوت چھوڑنا بڑا مشکل کام ہے، ہم یہ نہیں کہتے کی دعوت میں شامل نہ ہونے سے یہ رک جائے گا۔ لیکن ہاں! ایک ایسا پیغام ضرور جائے گا کہ اتنے لوگوں نے ہمارے اس غیر شرعی کام کی وجہ کر ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور اس کام کی شروعات اگر ہمارے عزت ما آب علمائے کرام کریں تو ضرور اس کا فائدہ ہو گا، لیکن یہ ہے بہت مشکل ،اس میں ہزاروں تاویلیں نکال لی جائیں گی۔ خدا رااس پر اہل ثروت، اہل علم، دانشور خاص کر علمائے کرام سوچیں اور عمل کریں اللہ و رسول کی خوشنودی حاصل کریں۔تاکہ یہ سماجی برائی جو اژ دہا سانپ بن کر مسلم قوم کو نگل رہا ہے غریبوں کی جان بچے اور سبھی طبقوں کو راحت ملے اور غریب بچیوں جو سسک رہی ہیں وہ بھی اپنے حسین خواب کو حقیقت میں بدلتے دیکھیں، کچھ تو مداوا ہو اللہ ہم سب کو سمجھ نے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرا مائے آمین ثم آمین۔
9279996221,hhmhashim786@gmail.com

Facebook Comments