تحریر:امیتازی رومی

انگور، لنگور اور حور سے ہر کوئی واقف ہے۔ انگور ایک ذائقہ دار پھل ہے، لنگور لمبی دم اور سیاہ چہرے والا ایک شرارتی جانور ہے اور حور خوب صورت ترین شئی جو اعمال صالحہ کے بدلے انسانوں کو جنت میں ملیں گی۔ دنیا کی حسین ترین لڑکی یعنی مس ورلڈ / مس یونیورس سے بھی اس کی مثال دینا ناکافی ہے۔ اب آپ سوچیں گے ان تینوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ انگور ایک پھل جو سطح زمین سے کسی قدر اونچائی پر پھلتا ہے۔ اس کی متعدد قسمیں ہوتی ہیں سرخ، سیاہ و سبز اور نہایت لذیذ ، ذائقہ دار اور مزے دار۔ لنگور ایک ایسا جانور جو نہایت ہی بد صورت ، جس کی لمبی دم ، لمبے گھنے بال اور توا سے بھی زیادہ سیاہ چہرہ کسی انسان کو ڈرانے کے لیے کافی ہے اور اوپر سے اس کی شرارتیں ناقابل شمار۔ جہاں جہاں سے وہ گزرتا ہے اپنا لنگور پن چھوڑتا جاتا ہے۔ کسی بچے کے ہاتھ سے بسکٹ چھین لیا کسی کا کوئی سامان لے لیا۔ کھیت کھلیان اور باغ سے گزرتے ہوئے فصلوں، پھولوں اور پھلوں کا نقصان تو اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ لنگور کے بارے میں یہ بات بھی سنی جاتی ہے کہ کسی حور (لڑکی ) کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آجاتا ہے اور اس پانی کو پی پی کر اپنی ہوس بجھا لیتا ہے۔ رہی بات حور کی تو اس کی صفات سے ہر کوئی واقف ہے۔ جس کا حقیقی وجود تو جنت میں ہی ہے اور نیکوں کے لیے ہی ہے۔ تاہم دنیا میں بھی خوب صورت لڑکی کو حور کہہ دیا جاتا ہے۔ نیز اس (دنیاوی حور) کو حاصل کرنے کے لیے زہد و پارسائی، رعب و دبدبہ اور چٹائی پر پیشانی رگڑنے کے سیاہ نشان (اسے سجدوں کا نشان کہنا سجدوں کی توہین ہے) نیز پیشانی پر جتنا بڑاسیاہ نشان دکھے گا اس سے دس گنا زیادہ ان کے دل میں سیاہی اور گندگی ملے گی اوران کے ارد گرد غیر محرم حوروں کا حرم ملے گا۔اقبال سے معذرت کے ساتھ
تیرا دل تو ہے ہوس آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اب سوال یہ ہے کہ ان تینوں کے درمیان مناسبت کیا ہے۔ تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ان تینوں کو ایک ساتھ بار بار بول کر دیکھیے ہر بار ان میں مناسبت کی نئی پرتیں کھلتی جائیں گی اور آپ کو عرفان حاصل ہوتا جائے گا۔ آپ کا یہ سوچنا بھی بجا ہے کہ “انگور کا کھٹا ہونا” محاورہ تو لومڑی کے ساتھ منسوب ہے کہ لاکھ اچھلنے کودنے کے باوجود جب اسے انگور نہ ملا تو کھٹا کا رٹا لگانے لگا۔ لیکن “لنگور کا انگور” کہاں سے آگیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ لنگور اور لومڑی دونوں کا پہلا حرف لام ہے اور دوسرا بالترتیب “نون” اور “واو” ہے۔جو حروف تہجی میں دونوں پڑوسی ہیں بلکہ”و” کے بغیر “نون” لکھ ہی نہیں سکتے۔ نیز دونوں میں ایک قدر مشترک ہے “چالاکی اور ہوشیاری” اور دونوں عام طور پر اب ناپید ہیں۔ کیوں کہ ان دونوں کی صفات مکمل طور پر انسانوں نے اپنا لیا اور ان کا وجود بے معنی سا ہوگیا۔ اس لیے ان دونوں نے چڑیا خانوں میں خود کو قید کرلیا۔
ویسے لنگوروں کی اصلی قسم تو اب ناپید ہوچکی ہے ۔ شاذ و نادر ہی کبھی کہیں آوارہ لنگور دیکھنے کو مل جائے۔ تاہم چڑیا خانوں میں اس کو محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ لنگور صفت انسان چڑیا خانوں میں اپنی صورت دیکھ سکے۔ کیوں کہ لنگوروں کی ایک ایسی نسل پیدا ہوچکی ہے جو شہر شہر ،نگر نگر اور ڈگر ڈگر موجود ہے۔ جو عام انسانوں کی شکل میں سماج میں پائے جاتے ہیں۔ ( بعض تو سیرت کے ساتھ ساتھ صورت میں بھی لنگور سے مشابہت رکھتے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر بے ساختہ آپ کی زبان سے لنگور نکل جائے گا) یہ لنگور سماجی اقدار اور رشتوں کی معنویت ختم کرکے صرف اور صرف اپنا مفاد حاصل کرنے، ذہنی و جنسی ہوس مٹانے ، زمین پر فساد برپا کرنے اور حوروں (لڑکیوں ) کو ہوس کا نشانہ بنانے میں سرگرم رہتا ہے۔ انگور کھانے اور حوروں کے ساتھ سونے کے لیےبے چین وبے قرار اور کچھ بھی کرنے کو تیار۔ یہ لنگور مختلف ہیئت و صورت میں کثرت میں وحدت کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یعنی ظاہر میں مختلف چولہ پہنے لیکن سب کا ایک ہی محور و مرکز اور منشا و مقصد۔ تاہم لاکھ جتن کرنے، نہادھوکر پیچھے پڑنے اور ہاتھ پیر ، لات جوتا، آنکھ اور منہ مارنے کے بعد بھی جب انگور نہیں ملتا تو انگور ہی کو کھٹا بلکہ سڑا ہوا کہنے لگتا ہے اور حور کو تو خود سے بھی بد صورت سمجھنے لگتا ہے اور کھسیانی بلی کی طرح مسلسل کھمبا نوچنے لگتا ہے کہ کسی طرح کھمبا ٹوٹے کہ دجال گیری اور فتنہ پروری کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے اور ہاتھی جب اپنے آن بان اور شان سے بازار سے گزرے تو اس پر بھونکتا جائے لیکن بھونکنے والا تو آخر کتا ہی کہلاتا ہے اور انجام اس کا یہی ہوتا ہے کہ وہ ہاتھی کے پیروں تلے دب کر اپنی جان گنوا دیتا ہے۔ اس طرح وہ عام کتا سے “دھوبی کا کتا” بن جاتا ہے جو نہ دنیا کا نہ عقبی کا۔

Facebook Comments