کامران غنی صباؔ

مدیر اعزازی اردو نیٹ جاپان

سوشل میڈیا پر مدارس کے فارغین ، علماء، فضلاء حضرات کو باہم دست و گریباں دیکھ کر کرب و اذیت کی ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مدارس کے فارغین ہی آپس میں دست و گریباں ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر نفرت و تعصب کا ایسا بازار گرم ہے کہ اچھے خاصے ذی شعور افراد بھی اس بازار میں اپنی قیمت لگانے پر مجبور ہیں ۔دوسروں سے اس لیے شکوہ نہیں کہ ان کی زندگی کا کوئی نصب العین نہیں ہے۔ انہیں آدابِ گفتگو اور آدابِ اختلاف نہیں سکھایا گیا ہے۔ دینی فہم و بصیرت رکھنے والے اہلِ علم حضرات کو جب اختلاف رائے کی صورت میں تہذیب و شائستگی کا دامن تار تار کرتے ہوئے دیکھتا ہوںتو دل لہو لہو ہو اٹھتا ہے۔ بلا شبہ علمائے دین انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کا کام انبیا کی وراثت یعنی ہدایت کی روشنی کو اقوام عالم تک پہنچانا ہے، محبت و اخوت اور اتحاد و اتفاق کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ اسوۂ رسولﷺ کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرنی ہے لیکن مساجد کے منبر وں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اتحاد کی جگہ انتشار اور محبت کی جگہ نفرت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ فقہی اور نظریاتی اختلافات ہر زمانے میں رہے ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ علمائے دین نے ہمیشہ تکریم انسانیت کو فوقیت دی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ’’قال اللہ اور قال الرسول‘‘ کا ورد کرنے والے مدارس کے فارغین ہمارے معزز علمائے دین کی نظر سے کیا قرآن پاک کی یہ آیات نہیں گزرتیں۔۔۔؟
ترجمہ : اور (اے مسلمانو!)جن(بتوں) کی وہ(مشرکین) اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر عبادت کرتے ہیں تم ان کو برا مت کہو؛ورنہ(کہیں ایسا نہ ہو کہ جہالت سے) بغیر سمجھے ہوئے حد سے آگے بڑھ کر وہ بھی اللہ تعالیٰ کو برا کہنے لگیں۔(سورہ انعام 37)۔۔۔۔

اے ایمان والو! تم میں سے بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں سے مذاق ٹھٹھہ اور تمسخر نہ کریں۔ ہوسکتا ہے جن کا تم مذاق اڑاتے ہو وہ تم سے بہتر ہوں۔ اسی طرح بعض عورتیں بھی دوسری بعض عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ،ہوسکتا ہے یہ جو مذاق اڑانے والی ہے یہ بہتر نہ ہو بلکہ وہ بہتر ہو جن کا مذاق اڑایا جارہاہے۔اسی طرح کسی پر عیب نہ لگاؤ،طعنہ نہ دو اور برے برے نام رکھ کے ان کے لقب نہ دیا کرو۔ایمان لانے کے بعد بہت برا اور بڑا گناہ ہے کہ آدمی ایسا لفظ کسی کے لیے بولے جس سے نفرت آتی ہو اور جو شخص اس سے توبہ نہ کرے وہ بہت بڑا ظالم ہے۔(سورہ الحجرات 11).قرآن تو مشرکین کے دیوی دیوتائوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع کرتا ہے چہ جائے کہ ہم ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے پر ہی کیچڑ اچھالنے لگ جائیں۔ قرآن فرعون جیسے سرکش اور دین کے دشمن سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فرعون کے ہاں جاؤ، وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔دیکھو، اسے نرمی سے بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (اللہ سے) ڈر جائے۔ (طہٰ 43-44)۔۔۔۔۔۔۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ بغیر طنز و تمسخر کے ہماری کوئی گفتگو مکمل نہیں ہوتی۔ اپنا مسلک، اپنا ادارہ اور اپنی جماعت کی بالادستی کا جنون اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے ہم چیخ چیخ کر قرآن و حدیث سے دلائل تو ضرور پیش کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن اور احادیث میں ہی ہمیں آدابِ گفتگو بھی سکھائے گئے ہیں۔نبی رحمتﷺ نے جب شاہِ روم کو خط لکھا تو ’’عظیم الروم‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔‘‘(مسلم)۔۔۔۔۔۔

آج حالت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف طوفان بدتمیزی کا بازار گرم ہے۔ اچھے خاصے ذی علم اور ذی شعور افراد بھی جذبات کی رو میں بہہ کر نہ صرف یہ کہ دلآزاری جیسے سنگین گناہ کے مرتکب ہو بیٹھتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان کی زبان اور قلم سے مغلظات تک نکلنے لگتے ہیں۔ دوسرے مسالک و مکاتب کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایسی تحقیر آمیز زبان اور لہجے کا استعمال کیا جاتا ہے کہ بجائے اصلاح کے انتشار و افتراق کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ کیا طنز و تمسخر کا سہارا لے کر ، ایک دوسری کی ذاتی زندگی کا مذاق اڑا کر،بزرگانِ دین کی شان میں نازیبا الفاظ کا استعمال کر کے ہم اصلاح کا عظیم ترین فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟یہ بھی سوچئے کہ نادانستگی میںکہیں ہم دلآزاری جیسے گناہِ عظیم کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ہیں۔۔۔؟

Facebook Comments