تحریر:محمود فیاض،پاکستان

اکثر لوگ (جن میں میری بیگم بھی شامل ہیں) سمجھتے ہیں کہ جب کوئی میاں بیوی کے رشتے پر منفی بات کرے تو لازمی وہ واقعہ، لطیفہ، یا خیال اس کی اپنے ازدواجی تجربے سے اخذ کیا گیا ہوتا ہے۔ اسی لیے بیگم اکثر شکائت بھی کرتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ ایک ہمارا ہی تعلق سب سے خراب ہے۔

حقیقت یہ ہے دوستو! کہ میری شادی شدہ زندگی بھی اتنی ہی “خوشحال” ہے جتنی ہر سال ویڈنگ انورسری پر جذباتی مکالمے لکھ کر ساتھ انگوٹھی والی تصویر ڈالنے والوں کی گذر رہی ہے۔ اور اتنی ہی خراب بھی جتنی کسی بھی شادی شدہ جوڑے کی انیس سال اکٹھے رہنے کے بعد آپس میں گھس گھس اور رگڑ رگڑ کر گول ہونے کے بعد ہوتی ہے۔

میرا خیال ہے اور آپ اس سے (کچھ غور کے بعد) اتفاق پر مجبور ہوں گے کے شادی کے بارے میں سارا جھوٹ فلموں کا پھیلایا ہوا ہرگز نہیں ہے۔ آدھا جھوٹ ان سب، بلکہ ہم سب شادی شدہ جوڑوں کا پھیلایا ہوا بھی ہوتا ہے، جو خود تو بیڈ روم، اور چار دیواری میں ایک دوسرے کے “کتے خوانی” کر کے جب باہر نکلتے ہیں اور کسی محفل میں پہنچتے ہیں تو چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے “باغبان” فلم کے امیتابھ اور ہیماؔ ہوں۔

معذرت کے بغیر، یہ بیماری خواتین میں بدرجہ اتم ہے کہ ان کی شادی شدہ زندگی آئیڈیل سے چند سیڑھیاں اوپر بادلوں میں نظر آنا چاہیے۔ اس لیے باقی معاملات میں میک اپ کے ساتھ اپنے اس رشتے کو بھی ایسا “میک اپ” چڑھا دیتی ہیں کہ چند سال بعد اچانک طلاق سے قریبی دوست رشتے دار بھی حیران ہوتے ہیں کہ ابھی تو بھلے چنگے تھے، اس دن ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ڈانس بھی کر رہے تھے۔ یہ اچانک کیا ہوگیا۔

چھوٹا سا واقعہ، سعودیہ میں ملازمت کے دوران، میری بیگم ہمیشہ مجھ سے اس بات پر خفا ہوتی کہ تم نے کبھی مجھے پاکستان جانے سے نہیں روکا، اور نہ ہی مدت کی قید لگائی، جبکہ فلاں کی بیوی بتا رہی تھی کہ اس کا شوہر اس کے بغیر چند دن بھی نہیں رہ سکتا، چارہفتے کے لیے جاتی ہوں تو دو ہفتوں میں واپس بلا لیتا ہے۔ یقین کریں میں ان تمام سالوں میں حیرانی سے یہ سوچتا بھی رہا کہ میرے ہی “پیار و توجہ” میں کچھ کمی ہے کہ مجھ سے بیوی کا جانا برداشت ہوجاتا ہے۔ کافی کوشش کی کہ برداشت نہ ہو، مگر کم بخت ریلیکس ہی بہت رہتا ہے بندہ، کیا کرتا۔ خیر کفر اس دن ٹوٹا، جب اس “فلاں” سے میری بےتکلفانہ بات ہوئی تو ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ بیگم مجھے کبھی اتنے دن چھوڑتی ہی نہیں، چار ہفتے کا کہہ کر جاتی ہے اور دو ہفتوں میں واپس آ جاتی ہے۔

اور میں ان تمام سالوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جب میں نے اپنی شادی شدہ زندگی کو کمتر جانا۔

نئے شادی شدہ جوڑوں سے درخواست ہے کہ آپ نے اگر پچاس سال اکٹھے گذارنا ہے تو اپنے اردگرد کسی بھی “میک اپ زدہ” شادی شدہ جوڑے کی باتوں کو حقیقت مت جانیں۔ نہ ان کے رشتے کی خامیاں آپ میں موجود ہوں گی اور نہ خوبیاں۔ یہ ایک منفرد تجربہ ہے اور ہر جوڑے کے ساتھ ہی مخصوص ہوتا ہے۔ آپ میں اختلافات بھی ہوں گے اتفاق بھی، خوشی بھی ہوگی جھگڑا بھی، مفاہمت بھی ہوگی اور کبھی کبھی معاملات طلاق تک بھی پہنچ جائیں گے۔ ایسا ہر شادی شدہ جوڑے کے ساتھ ہوتا ہے۔ کچھ بتا دیتے ہیں باقی جھوٹ بولتے ہیں۔

Facebook Comments