محمد مشاہد رضا مصباحی، سیتا مڑھی بہار
ایک بندہ جب سچے دل سے توبہ کر کے کلمہ شہادت “اشهد ان لا اله الا الله وأشهد أن محمد رسول الله ” پڑھ لیتا ہے تو وہ مذہب اسلام میں داخل ہو کر مسلمان ہو جاتا ہے- اب بحیثیت مسلمان ان پر اسلام کے تمام قوانین عمر کے ساتھ ساتھ عائد ہونے لگتے ہیں – اور یہیں سے وہ بندہ مکمل طور پر شریعت محمدیہ کا مکلف ہو جاتا ہے-ارکان اسلام کی بجاآوری ان پر لازم ہو جا تی ہیں- ساتھ ہی اس پر اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات و صفات کو جاننا اور ان کو دل سے ماننا واجب و ضروری ہو جاتا ہے تاکہ وہ بندہ اللہ وحدہ لا شریک کو اپنا معبود حقیقی مانے اور اسی کی ذات سے اپنی تمام امیدوں کو وابستہ رکھے ۔
کچھ عقائد الہیہ قرآن کی زبان میں
اللہ ایک ہے – (قل هو الله أحد ) اس کا کوئی شریک نہیں – (لا شريك له ) وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا (كل شيء هالك الا وجه ) وہ ہر چیز پر قادر ہے – (وهو على كل شيء قدير )وہی ہر شی کا خالق ہے – (الله خالق كل شي ) حقیقتاً روزی پہنچانے والا وہی ہے – (ان الله هو الرزاق ذوالقوة المتين )وہ دونوں جہان کا پالنے والا ہے- (الحمد لله رب العالمين )وہی سب سے مہربان اور نہایت رحم والا ہے – (الرحمن الرحیم )وہی تنہا ایک ذات ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد بھی طلب کر تے ہیں – (إياك نعبد وإياك نستعين ) وہی بابرکت ذات ہے جو ہم سے اتنی قریب ہے کہ ہم جہاں، جس جگہ اور جس وقت بھی پکارتے ہیں وہ صرف جواب ہی نہیں دیتا بلکہ خوش بھی ہوتا ہے اور ہماری حاجت بھی پوری کرتا ہے – (وإذا سألك عبادي عني فإني قريب، اجيب دعوة الداع إذا دعان فاليستجيبو ا لي وليو منوا بي لعلهم يرشدون ) ساتھ ہی ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات ہمارے لیے کافی ہے اور وہی ہمارا بہترین ضامن بھی ہے -(حسبنا الله ونعم الوكيل ) اور وہی ہمارا بہترین یار و مدد گار ہے – (نعم المولى ونعم النصير ) جب بھی کوئی بندہ بیمار پڑتا ہے تو میرا اللہ اس کو شفا یابی عطا کرتا ہے (وإذا مرضت فهو يشفين ) اور کبھی کبھی بشری تقاضوں کے مطابق اس کے بندے اپنے گناہوں یا کسی اور وجہ سے مایوس ہو نے لگتے ہیں تو وہ خود محبت اور پیار بھرے انداز میں خطاب کرتا ہے، اے میرے بندے! اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو – (قل ياعبادي الذين اسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله، ان الله يغفر الذنوب جميعاً، انه هو الغفور الرحيم۔
اللہ تعالیٰ مشکل کے ساتھ آسانی اور بیماری کے ساتھ دوا بھی پیدا کرتا ہے
ان اسلامی عقائد، اللہ تبارک و تعالٰی کے اس رحمت بھرے فرمودات اور امیدوں سے لبریز قرآنی آیات کو جاننے اور دل سے ماننے کے بعد ایک انسان کو عام طور پر اور ایک مسلمان کو خاص طور پر کسی بھی حالت میں مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دل میں ڈر اور خوف بیٹھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے، گلہ اور شکوہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت کو دور کرنے والا ہے اور ہر مشکل کے ساتھ آسانیاں بھی پیدا کر تا ہے – (ان مع العسر يسرا ) اور ہر بیماری کے ساتھ اس کی دوا بھی پیدا فرماتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ہم اس کا ادراک کبھی جلدی کر لیتے ہیں اور کبھی کا فی محنت اور کوشش کے بعد حاصل ہوتی ہے – (فرمان رسول صل اللہ علیہ و سلم :ما أنزل اللہ داء إلا انزل له دواء )
کرونا وائرس اور ہماری بلند ہمتی
اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ بیماری کرونا وائرس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، لوگوں میں ایک قسم کا خوف و ہراس پیداہو گیا ہے، انسانوں میں بے اطمینانی کی کیفیت طاری ہے، ہر آدمی اپنے آپ کو اور اپنے رشتہ داروں کو کھونے سے ڈر رہا ہے، ماں کی ممتا اس بات سے خائف ہے کہ میری اولاد نہ کھو جائے، بہنے بھائیوں کا صدقہ اتار رہی ہیں تاکہ بھائی اس وبا سے دور رہے ، باپ اپنے سجدے لمبے کرنے لگے ہیں تاکہ دعاؤں سے اپنی اولاد پر آنے والی بلاؤں کو ٹال سکیں، الغرض ہر شخص اس سے بچنے کے لیے جس کو جتنا سمجھا سکتا ہے سمجھا رہا ہے، جو جتنی احتیاطی تدابیر بتا سکتا ہے بتا رہا ہے، نتیجتاً پوری دنیا آج ایک فیملی کی طرح بنی ہوئی ہے، لوگ ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے لگے ہیں، فون اور میسج کے ذریعے احباب کی خیریت لینے میں کوئی قصر نہیں چھوڑ رہے ہیں ، گویا کہ پوری دنیا انسان کے ساتھ ساتھ ایک جسم اور ایک جان ہو گئی ہے ، آج اگر ایک انسان کو ہندوستان میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے درد کو دنیا کا آخری سے آخری ملک محسوس کر رہا ہے- مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مایوس ہو رہی ہے، بلکہ کچھ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ تو خود کشی جیسا ناپاک قدم تک اٹھا رہے ہیں، جو ہمارے اسلام میں کسی طرح سے جائز نہیں ہے – جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی کئی بیماریاں ماضی میں بھی پیدا ہوئی ہیں اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانیں ہلاک بھی ہوئی ہیں، مگر دنیا نے اس پتھر کے دور میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کی ویکسین تیار کر کے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا – اور آج ہم تو ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں، اسی لیے آج ہمارے لیے اس سے مقابلہ کرنا زیادہ آسان ہے اور الحمد اس وائرس کی ویکسین کو بنانے میں بے شمار لوگ لگے ہوئے ہیں – اللہ نے چاہا تو بہت جلد ہم اس کو بھی شکست دے دیں گے اور یہ بلا جلد دنیا کے سر سے ٹل جائے گی – لہذا کسی بھی انسان کو ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، خود کشی کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے، خاص طور پرمسلمانوں کو اور بھی مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ مایوسی کفر ہے۔

Facebook Comments