محمد قاسم ٹانڈؔوی

مسلمانوں کے پاس جو اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ “قرآن مبین” ہے، جو اپنی جامعیت و مانعیت میں ایک کامل و مکمل کتاب، ایک آفاقی مصحف اور ہمہ گیر حیثیت رکھنے والا ربانی مجموعہ ہے۔ جس کے صاف ستھرے مضامین اور عجائب و غرائب پر مبنی مشمولات؛ جو اپنے عنوان در عنوان امم سابقہ کے حالات و اطوار کی منظر کشی، مختلف ادوار میں اقوام عالم کے ساتھ پیش آنے والی سیاسی اور مذہبی رسا کشی اور زمینی بالادستی کو بیان کرتے ہیں، جس کے مضامین کا وقیع مطالعہ اس بات کو واضح اور ثابت کرتا ہے کہ امم سابقہ کی روگردانی اور احکامات کی نافرمانی کے طفیل ہی انسانی برادری پر وہ نتائج مرتب ہوئے جن کو آج سائنس کی زبان میں ترقی اور فوز و فلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے، حالانکہ کہ سائنس آج خود ان ثابت شدہ نتائج اور پر سوز حالات و اخبار کے سہارے اپنی ترقی کے مدارج طے کر رہی ہے، جن کی رسائی کی بابت قرآن میں چودہ سو سال پہلے اشارہ کر دیا گیا تھا؟ نیز الگ الگ خطوں اور علاقوں میں آباد انسانی برادریوں کو آن واحد میں تہس نہس کر دینے والی خبریں اور زمین و آسمان کے مابین رونما ہونے والے حواس باختہ واقعات و حوادثات سے آگہی کیوں کر آسان ہو؟ یہ سب قرآن کے حوالے سے تاریخ میں محفوظ و موجود ہے۔ اس کے علاوہ وہ مضامین قرآنی جن میں حشر و نشر میں پیش آنے والے حقائق و اخبار سے پردہ اٹھا کر انسانوں کو اپنی خلقت و پیدائش کے مقصد اور اس بےثبات عالم میں آنکھیں کھولنے اور مختصر عرصہ کی زندگی گزارنے کے بعد جب یہاں سے رخصت ہو کر اس ہولناک و غضبناک دن کا سامنا کرنا پڑےگا؛ جس دن جانے پہچانے چہرے فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرتے ہوں گے اور رات و دن کی معیت و مصاحبت رکھنے والے بھی منھ پھیر لیں گے اور وہ مددگار و غمخوار بننے سے خود کو عاجز و قاصر سمجھنے میں سہولت محسوس کر رہے ہوں گے، قریب ترین رشتہ دار اور عزیز و اقارب نفسی نفسی کے عالم میں حیران و پریشان ادھر ادھر چکر کاٹ رہے ہوں گے، اس بھیانک دن کے واسطے تیاری کرنے اور اپنی جانوں پر رحم کھانے کے واسطے بہت کچھ سوچنے اور غور و فکر کرنے کا موقع اسی مقدس کتاب کے مضامین و مفاہیم فراہم کرتے ہیں، موت و حیات کی کش مکش، مادی دنیا کی منفعت و حصولیابی میں مگن اور بےشمار مسائل و مراسم کے انبار تلے دبی ہوئی انسانی جانوں اور اپنے و غیروں کے مظالم کے شکار انسانی ضمیروں میں احساس و شعور کی روح پھونکنے، جامد و ساکت طبیعتوں میں ایمانی حرارت کی چنگاری بھڑکانے اور آلودہ و پراگندہ ذہنوں سے ناامیدی، مایوسی اور غیریقینی کیفیت کو کھرچ کر اس کی جگہ امید و یقین کی لہریں تازہ کرنے اور صبح نو کی مانند زندگی کی پرکیف کرنوں سے لوگوں کے اذہان و قلوب جگا کر انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کی طرف گامزن و ہمکنار کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی بیان کردہ ان مذکورہ باتوں پر ایک صاحب ایمان کا اعتقاد و یقین بالکل ویسے ہی ہونا چاہئے جیسا کہ قرآن کریم کے احکامات و فرامین لازوال و لاثانی اور ابدی ہیں۔ جو ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی طرح کے تغیر و تبدل کو قبول نہ کرنے والا آخری آسمانی مصحف ہے، جس کی تعلیمات بنی نوع انسانی کی رشد و ہدایت کےلئے مکمل طور پر کافی و شافی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ اس مجموعے میں ایسے بیش قیمت فرامین بھی ہیں کہ اگر انسان کو کبھی غموم و ہموم کی شکل پیش آ جائے تو قرآن ان کا بروقت مداوا کرے۔ اور یہ آسمانی صحیفہ ایسی روحانی طاقت اور پاکیزہ تعلیممات سے بھی پر ہے جو انسانوں کی دکھتی رگ پر انگلی رکھنے کے مانند؛ لہو رستے زخم پر مرہم و پٹی کرنے کی تجویز و تشخیص پیش کرتی ہیں، تاکہ اس کے ماننے والوں کے عقائد و ایمان میں کمزوری اور کمی نہ واقع ہونے پائے۔
اور بلاشبہ اسے قرآن کریم کا اعجاز و امتیاز ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ انسانوں کی ہر اس خوبی و کمی کو ویسے ہی صاف صاف اور واضح طور پر بیان کرتا ہے جیسے اس نے سر تا پاؤں انسانی خلقت و بناوٹ اور تخلیق کے مراحل کو اس کے روز اول سے انتہائی حسین و جمیل پیرائے میں ڈھال کر متعدد جگہوں پر بیان فرمایا ہے، تاکہ انسان از سر نو اپنے اس جسمانی وجود پر تدبر و تفکر سے کام لے کر اپنی عاقبت کو روشن و کامیابی سے ہمکنار کرے۔
قرآن کی متعدد آیات سے پہلے لوگوں کا نشان عبرت بننا اور ایک حقیقی خدا کے در کو چھوڑ کر دیگر مجازی خداؤں کی طرف متوجہ ہوکر ان سے خیر و عافیت کا متمنی ہونا، شرور و فتن اور مصیبت و ملاحم کے دنوں میں اغیار کے تجویز کردہ بتوں کی پرتش کرنے والوں کے انجام سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بھی لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں یا پھر یہ کہئے کہ لوگ جان بوجھ کر قرآن کی صداقت بیانی اور چشم کشا حقائق سے روگردانی کرتے ہیں، وہ یقینا بڑے خسارے والے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آئے دن عوام کی زبانی گلے شکوے، رنج و غم اور مختلف پریشانیوں میں مبتلا افراد کو پروردگار عالم کی ناشکری اور اس کی ذات واجب الوجود کا انکار کرتے دیکھا جاتا ہے، جو اپنی دبی زبان میں نا مناسب و نامعقول الفاظ کا استعمال بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
حالانکہ انسانی برادری کی اکثریت کا تعلق اس طبقے میں آتا ہے جو گرمی ہو یا سردی برسات ہو یا بہار سبھی موسموں کے ایام و لیالی میں خدائے واحد کی طرف سے اس کی لازوال و بےحساب نعمتوں و احسانات کے نچھاور ہونے کا ہر وقت متمنی وخواہش مند بھی رہتا ہے اور پہلے سے حاصل شدہ اشیاء و اموال جن کو وہ اپنے حق میں قابل استراحت سمجھتا ہے نہ صرف ان کو خوب خوب اپنے استعمال میں لاتا ہے بلکہ حتی الامکان ان کی حفاظت اور ذخیرہ اندوزی بھی کرتا ہے، تاکہ بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ فطرت انسانی کا خاصہ ہے۔ تاہم؛ اگر کسی حکمت و مصلحت کے تحت یا اسی کے نفع نقصان کی خاطر قدرت الہی کسی امر مباح یا شئی حلال سے دوری اختیار کرنے کا حکم دیتی ہے اور اشیاء کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہے تو پھر یہی انسان اللہ رب العزت کی ناشکری اور احسان فراموشی پر آمادہ ہو جاتا ہے، اسی کو قرآن حکیم کے اندر دو الگ مقامات پر “وکان الانسان قتورا” اور “وکان الانسان کفوراً” سے تعبیر کیا گیا ہے؛ کہ “انسان بڑا نا شکرا ہے”۔ لیکن خیال رہے جس وقت ہم لوگوں سے اپنی پریشانی کا اظہار اور وقتی آزمائش کے گلے شکوے کرتے ہیں تو در حقیقت ہمارا یہ رویہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے ابھی تک قرآن کو پڑھا ہی نہیں یا پڑھا ہے تو الفاظ و معانی میں ہم نے غور و فکر کیا ہی نہیں، بلکہ ہم نے اسے بغیر تدبر و تفکر کے ساتھ بس رسما پڑھا ہے۔ ایسی ہی بابت تو یہ قرآن مجید کل قیامت کے دن بارگاہ رب العزت میں ہماری یہ شکایت کرےگا کہ: “اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے چھوڑ رکھا تھا” تو اس وقت ہمیں قرآن کی ان باتوں پر بھی یقین آ جائےگا جو وہ امم سابقہ کے تعلق سے بیان کرتا ہے اور ان باتوں کے تئیں بھی ہمارا احساس و شعور بیدار ہو جائےگا، جن کو وہ ہمارے متعلق و موافق بیان کرتا تھا۔
موجودہ دنیا کے حالات پر غور و فکر کیا جائے اور رونما ہونے والے واقعات کو پیش نظر رکھا جائے تو ہم مسلمانوں کے اعمال و کردار اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے اپنی زندگیوں سے قرآن کریم کی تعلیمات کو یکسر ترک کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا کی نگاہوں میں کمتر و کہتر بنے بےحیثیت افراد کی جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ لہذا جس کا جب جی چاہتا ہے ہمیں جانی مالی نقصان سے دوچار کر بیٹھتا ہے، اس وقت ہم سوائے کف افسوس ملنے کے دیگر کوئی کاروائی کرنے کی کیفیت اور حالت میں بھی نہیں ہوتے۔ آج ضرورت اسی بات کی ہے کہ امت بلا اختلاف و انتشار قرآن مجید سے اپنے رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرے اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت و توانائی کے حصول میں اسی نسخۂ کیمیا سے مدد حاصل کرے جس نے آج سے چودہ سو برس پہلے عرب کے بدوؤں کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھا تھا۔

Facebook Comments