ازقلم:محمدشعیب رضا نظامی فیضی
استاذومفتی: دارلعلوم امام احمد رضا بندیشرپور

مکرمی! آج شہریت ترمیمی قانون ایوان اعلی وزیریں میں پاس ہوئے دو ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، اس متنازع قانوں پر جب سے ایوانوں میں غور وفکر شروع ہوا تب سے آج تک ملک کی ایک بڑی آبادی بالخصوص مسلمان ہمیشہ اس کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں مگر کیوں؟ اس قانون میں ایسا کیا ہے جس کی مخالفت مسلمان اتنی شدت سے کرہا ہے؟
دراصل یہ قانون شہریت کے متعلق ہے کہ ملک میں رہنے والے وہ پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندو،سکھ،عیسائی،بوددھسٹ،جینی اور پارسی لوگ جو وہاں سے مذہبی زیادتی کی بنا پر ہندوستان آگئے ہیں خواہ جائز طریقے سے آئے ہوں یا ناجائز طریقے سے انہیں بہرحال شہریت دے دی جائے گی جبکہ مسلمان کو نہیں دی جائے اور دینی بھی نہیں چاہئیے کہ ہمارے ملک میں ویسے ہی آبادی بہت زیادہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر کار سی اے اے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اسے کیوں پاس کیا گیا؟ ہمارے ملک میں آبادی خود ہی اتنی زیادہ ہے کہ حکومت کی ناک میں بے روزگاری نے دم کر رکھا ہے اس کے باوجود ہم دوسرے ملکوں سے آنے والے لوگوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت کیوں دے؟ انہیں ملک کی شہریت کیوں دے؟ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو اس بات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے کہ وہ مسلم ہے یا غیرمسلم۔ جبکہ ہمارا آئین بھی جمہوری ہے جس میں کسی مذہب کی بنیاد پر دوہرا سلوک کرنا کسیے درست ہوسکتا ہے؟ وہ بھی شہریت جیسے اہم ترین معاملہ میں۔
آنکھ پھڑکنے والے کا جواب بھی آنکھ پھڑکاو:قانون پاس ہونے کے بعد یہی سوال جب حکومت کے ہم نواوں سے اس کے متعلق سوال کیا گیا (ہم نواوں سے پوچھنے کی ضرورت اس لیے پڑی کیوں کہ عام حکمراں تو بس اپنے مائی باپ(خاص حکمراں)سے جو سن لیے ہیں بس اسی دھن میں سوال چنیں جواب دیگر کی سواری پر سوار ہے اور خاص حکمراں کسی سوال کا جواب دیتے نہیں) بہر حال سوال یہ ہوا کہ کیا یہ قانون دستور ھند کے دفعہ ۵۱ کے مخالف ہے کیوں کہ مذہب پالیسی کے تحت اس قانون کو پاس کیا گیا ہے؟ جس پر ان چاپلوسوں نے اندھ بھکتوں کی طرح جواب بھی دیا جیسا کہ سِروالی بابا نے کچھ یوں جواب دیا کہ یہ قانون دستورات ھند کی کسی دفعہ کی مخالفت نہیں کرتا کیوں دفعہ ۵۱ میں ہندوستانی باشندے مذہبی آزادی میں مساوی ہیں نہ کی پاکستانی،افغانی،بنگالی باشندے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان حکومت کے حامیوں کو لگتا ہے کہ اس قانون کے ذریعہ شہریت پانے والے لوگ ھندوستانی تو ہیں نہیں، کہ ان کے درمیان مذہب کی بنا پر تفریق نہ کی جائے مگر شاید وہ اس بات کو بھول بیٹھے ہیں کہ وہ غیرملکی ضرور ہیں لیکن انہیں شہریت کس ملک کی دی جارہی ہے ھندوستان کی یا پاکستان،افغانستان یا بنگلہ دیش کی؟ پھر یہ قانون دفعہ۵۱ کے مخالف کیوں کر نہیں ہوا؟
مسلم کیوں نہیں؟ قانون پاس کراتے وقت جب حکمرانوں سے یہ سوال کیا گیا کہ اس قانون میں مسلم طبقہ شامل کیوں نہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ چوں کہ مذکورہ تینوں ممالک اسلامی ریاست ہیں اس لیے وہاں مسلموں کو مذہبی بنا پر پریشان کیے جانے کا سوال ہی نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ غیرمسلموں کے بارے میں کیسے جان پائیں گے کہ وہ مذہب کی بنا پر ستایا گیا ہے؟ ایسے تو کوئی بھی غیرمسلم ان تینوں ملکوں سے منہ اٹھا کر چلا آئے اور یہاں آکر یہ کہے کہ میں مذہب کی بنا ہر ستایا گیا ہوں تو اسے آپ فورا ملک کی شہریت سے نواز دیں گے کیا؟ یا پھر ان ممالک کے حکمرانوں، افسرانوں سے پوچھیں گے کہ فلاں آپ کے ملک میں مذہب کی بنا پر ستایا گیا ہے یا ویسے ہی ملک چھوڑ کر چلا آیا؟ ذرا سوچو تو سہی کہ آپ کو جواب کیا ملے گا!کہیں پلٹ کر آپ سے ہی سوال کر بیٹھیں کہ آپ کے ملک میں اخلاق، تبریز، پہلوخان وغیرہ کو مذہبی بنا پر ہی مارا گیا مگر کیوں؟ یا پھر آپ خفیہ افسران کو پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش اس مقصد سے بھیجیئے کہ کس غیرمسلم کو مذہبی بنا پر ستایا جارا ہے اور اسے بلاکر ملک کی شہریت سے نوازیئے جبکہ آپ کی خفیہ ایجینساں تو ملک کے فوجیوں کی جان بچانے میں ناکام ہی ہے۔
اور پھر آپ کا یہ دعوی کہ ”ان ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی بنا پر ستایا جانا ممکن نہیں“کیوں کر درست ہو سکتا ہے جب کہ آپ کے ملک میں جمہوریت ہونے کے باوجود دلت ہندوں کو غیردلت ہندوں کے ہاتھوں ہی ستایا جاتا ہے وہ بھی مذہبی معاملات میں۔
صرف تین ممالک کے غیرمسلم کیوں؟اس قانون میں پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہی غیرمسلوں کو کیوں شامل کیا گیا؟ کیا پڑوسی ملک سری لنکا میں کبھی کسی غیرمسلم کو مذہبی معاملات میں نہیں ستایا گیا؟ یا پھر دیگر ممالک میں۔ اور آگر اسی طرح مذہبی معاملات میں ستائے جانے والوں کو بلا تفریق مذہب اپنے ملک کی شہریت دینا چاہتے ہیں تو پڑوس میں ہی واقع ملک برما اور سری لنکا میں مذہبی بنا پر ستائے گئے مسلمانوں کے لیے قانون بنائییے، چین میں مذہب کی بنا پر ستائے جانے والے مسلمانوں کے لیے لیے قانون پاس کیوں نہیں کرتے؟ مگر یہ ذہن نشیں کرلو کہ ہم مسلمان اس کے بھی خواہاں نہیں کہ غیرملکی پریشاں حال مسلمانوں کو آپ اپنے ملک میں شہریت دیجیئے ان کے لیے ان کا مولی کافی ہے کہ آج چین کی حالت کسی آنکھ والے کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ اور ہمارے لیے بھی ہماری مولی کافی ہے اس لیے ہم کبھی دنگا نہیں کرتے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل

Facebook Comments