از قلم: وزیر احمد مصباحی 

یہ حقیقت بالکل دو دو چار کی طرح عیاں ہے کہ “اردو” اپنی ابتدائے آفرینش ہی سے جہاں غیروں کی بے انتہا طعن و تشنیع کا شکار رہی ہے، اسے خاص کر ایک قوم یعنی قوم مسلم سے جوڑ کر دیکھنے کی پالیسی کو عروج بخشا گیا ہے اور موقع پاتے ہی اسے برسرعام تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے وہیں اس کے نام لیواؤں نے بھی اس کی تعمیر و ترقی کے آڑ میں مفاد کی روٹیاں کچھ کم نہیں سینکی ہیں۔ تلاش بسیار کے بعدشاید ہی کچھ ایسے افراد دستیاب ہو جائیں جنھوں نے خلوص نیت کے ساتھ اردو کی زلف برہم سنوارنے میں اپنے شب و روز ایک کر دیئے ہوں، ورنہ تو اکثر افراد خادمینِ اردو ادب کی فہرست میں نام لکھا کر اپنی تن آسانی کا ذریعہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ آج بھی اردو زبان کے فروغ کے نام پر اکثر “اردو اکادمی” میں بندر بانٹ کا مسئلہ سامنے آتا رہتا ہے اور سیاسی بازی گری کے ساتھ نہ جانے کتنے ہی مستحقین کے جائز حقوق کی پامالی کی جاتی رہی ہیں، جو یقیناً سراسر نا انصافی اور گھناؤنا جرم ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کی اپنی کوئی خاص زبان ہو سکتی ہے پر زبان کاکبھی اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ مذہبی قید و بند سے سے بالکل آزاد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع ہی سے اردو کے فروغ میں ان گنت ایسی ہستیوں کا بھی زبردست حصہ رہا ہے جو غیر قوموں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پریم چند، کالی داس، تلسی داس، راجندرسنگھ بیدی، گوپی ناتھ امن، رام پرساد بسمل اور دیا شنکر نسیم جیسے نام اسی سلسلے کی ایسی اہم کڑیاں ہیں جن کے اردو زبان و ادب کے تئیں اس قدر عظیم احسانات و خدمات ہیں کہ انھیں رہتی دنیا تک کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ یوں ہی کچھ ایسے رسائل و جرائد بھی ہیں جو اردو ادب کے فروغ کے لئے مسلسل پابندی کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور ان کے ارکان و ممبران خصوصی شکریے و مبارکبادی کے مستحق ہیں۔
زیر نظر ادبی میگزین” صدائے بسمل” بھی فروغ اردو ادب کی ایسی سنہری کڑی ہے جس نے حال ہی میں اپنی آنکھیں کھولی ہے۔اس ضمن‌ میں میں نے کئی ایک دفعہ محترم اسلم آزاد شمسی گڈاوی ( نیوز ایڈیٹر: صدائے بسمل)کے توسط زیر تبصرہ میگزین کا زبانی تذکرہ بھی سنا ہے اور پھر جب فیسبک یونیورسٹی میں بھی متعدد بار مطالعہ کا موقع ملا تو اسے ہر مرتبہ اپنی امید سے کہیں زیادہ کامیاب پایا۔ ماہ فروری/ ۲۰۲۰ سے ہر دن جس طرح مکمل رنگ و آہنگ کے ساتھ مسلسل شائع ہو کر قارئین، خصوصاً اردو ادب کی دنیا‌ میں جادہ نووردی کرنے والوں کے لیے سکون قلب و جاں کا سامان بن رہا ہے، وہ فرحت بخش بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔مگر پھر بھی ہم ظاہراً ان تمام رسائل و جرائد کو حوالہ بنا کر ،جو کسی وقت نکلے تو پوری آب و تاب کے ساتھ مگر جلد ہی ہماری نگاہوں کے سامنے اس کے رگوں میں دوڑتے گرم لہو پر ٹھنڈے برف کی تہیں اس قدر جم گئیں کہ پھر اس نے ہمیشہ کے لیے اپنی رمق کھو دیئے۔ زیر نظر میگزین کے حوالے سے بھی ہم اس کے دیر پا ہونے، مسلسل ایک محور پہ قائم رہنے کے فیصلے یا پھر ہمیشہ کے لیے اپنے وجود پر چادر انجماد تان لینے کے حوالے سے گو مگو کی دنیا‌ میں قطعی نہیں جا سکتے۔ ہاں! ذمہ داران میگزین کی فہرست کے پیش نظر ہمیں ایقان کی حد تک یہ امید ہے کہ زیر تبصرہ میگزین مستقبل میں بھی اپنا دمکتا چمکتا وجود برقرار رکھنے میں اسی طرح کامیاب رہے گا۔ آخر یہ ہو بھی کیسے نا جب کہ اس کے جملہ ارکان و ممبران اپنے دل میں اردو زبان و ادب سے بے لوث الفت و محبت کا جذبہ بیکراں رکھتے ہیں۔ سچ بتاؤں تو جب میں نے میگزین کے سرنامے پہ اعزازی ایڈیٹر کے روپ میں جناب پریم‌ ناتھ بسمل کا‌ نام دیکھا تو میری خوشیوں کی کوئی انتہا نہ رہی۔ نگاہوں کے سامنے یکا یک وہ منظر گردش کرنے لگا جب موصوف نے چند بیتے برسوں میں کبھی بذریعہ موبائل فون اردو زبان و ادب تئیں اپنی بے پناہ مصروفیات سے باخبر کیا تھا، یوں ہی ایک دو مرتبہ محترم کامران غنی صبا (پٹنہ) کی فیسبک ٹائم لائن سے بھی موصوف کا ایک معلوماتی Interview سننے کا‌ موقع میسر آیا تھا۔ یقینا یہ بڑی ہی خوش آئند بات ہے کہ آپ جیسے افراد ابھی بھی خلوص نیت کے ساتھ وطن عزیز کے کسی نا کسی گوشے میں اردو جیسی شیریں و پیاری زبان کی خدمت میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ ورنہ تو نہ جانے کتنے ہی ایسے افراد ہیں جنھیں ملک بھر میں روز بروز بڑھتا ہوا مذہبی منافرت کا سیلاب خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔ خدا آپ جیسا وسیع ظرف اردو کے تمام خادمین کو عطا فرمائے۔ یہ بھی کس قدر حسن اتفاق ہے کہ وہ مشہور و معروف شاعر جو ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت کی بنا پر بھیڑ میں بھی دور سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں اور جن کے شعری کلام لوگ بڑے ہی چاؤ سے پڑھتے ہیں اور مجھے تو اکثر اخبارات میں بھی باصرہ نواز ہوا کرتا ہے، یعنی محترم ذکی طارق، بارہ بنکوی، زیر نظر میگزین میں چیف ایڈیٹر کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ چند اور قیمتی افراد ہیں جو اپنی اپنی ذمہ داریاں کچھ اس طرح نبھا رہے ہیں:
محترم اسلم آزاد شمسی، نیوز ایڈیٹر ہیں اور علیم اسماعیل، ایڈیٹوریل ایڈوائزر کے روپ میں اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح محترمہ سحر ناز و صفیہ ہارون، خواتین صفحہ کے لئے بطور انچارج خلوص دل کے ساتھ ہمہ وقت اپنی اپنی ذمہ داریوں سے باخبر رہتی ہیں، جب کہ ابو شحمہ انصاری، ریزیڈنٹ و میگزین انچارج کے حوالے سے مکمل تندہی سے مصروف کار ہیں۔ یہ بالکل ظاہر سی بات ہے کہ جب کسی میگزین یا رسالہ کو اس قدر متحرک و فعال ٹیم میسر آ جائے تو پھر اس کی بقائے حیات کو لے کر چہروں پہ کبھی بھی سراسیمگی کی لہریں نہیں دوڑ سکتیں ہیں۔ ذرا تصور تو کیجیے کہ مہنگائی کے اس دور‌میں بھی شاہین کا جگر رکھنے والی یہ ٹیم اول مرحلہ میں جب اردو ادب کے فروغ کا خوبصورت جذبہ لیے “صدائے بسمل”کی اشاعت کے لیے منظم پلاننگ کرتی ہو گی تو وہ منظر کس قدر خوشگوار ہوتا ہوگا۔ یقیناً اردو بستی میں سر سبز و شاداب پھول اُگانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ان جیسے باہمت لوگوں ہی کے جہد پیہم کا‌نتیجہ ہے کہ آج یہ میگزین ادبی مضامین، نعت پاک، غزلیں، نظمیں، افسانے اور دینی مضامین سے آراستہ ہو کر ہر پندرہ دن میں پٹنہ، رانچی، لکھنؤ اور بارہ بنکی سے ایک ساتھ آن لائن شائع ہو رہا ہے اور اب تو خدا‌کے فضل سے اس کا دائرہ اثر بھی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ قارئین بڑی دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اپنے گراں قدر و مفید مشوروں سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔
صاحبو! یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی بھی رسالہ یا میگزین کے مداح و قارئین اس سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگ جائیں تو پھر اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے، اور چوں کہ رسالہ کے خرید و فروخت پر ہی ذمہ داران بھی کافی حد تک منحصر ہوتے ہیں تو یہ امر ضروری ہو جاتا‌ ہے کہ اس کا‌ وجود خارج‌ میں بھی ظاہر کیا جائے۔۔آن لائن کی صورت میں اس قدر استفادہ ممکن نہیں جس طرح آف لائن کی شکل میں افادہ و استفادہ کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ زیر نظر میگزین کے ذمہ داران اس جہت میں بھی غور و فکر کریں گے تا کہ میگزین آف لائن مہیا ہو کر اپنے نفع بخش وجود کا احساسِ جمال دلا سکے۔ یہ میگزین عموماً ۶/ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ایک صفحہ مذہبی مضامین کے لیے مختص ہے تا کہ آج کے اس پر آشوب دور میں دین و شریعت سے دور ہوتے لوگ درست رہنمائی حاصل کر سکیں۔ یہ ذمہ داران کی کشادہ قلبی ہی ہے کہ انھوں نے مذہبی کالم کے لیے بھی جگہ کا انتخاب کیا۔ورنہ تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ ادبی رسائل و جرائد میں مذہبی مضامین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔
جی ہاں! اردو زبان و ادب کے فروغ کا تخمینہ اگر آپ دوسری زبان و ادب سے لگائیں تو شاید یہی نتیجہ برآمد ہو کہ اب بھی ہماری زبان یعنی “اردو زبان و ادب” کی تعمیر و ترقی کا نتیجہ اوروں کے بالمقابل انتہائی قلیل ہے۔ در اصل معاملہ یہ ہے کہ اسے اول درجے کی سرکاری زبان بنانے کا مسئلہ شروع ہی سے ُپرپیچ رہا ہے، ساتھ ہی اپنوں کی کرم فرمائیوں نے بھی جانے انجانے میں اس کے مختلف شاخوں اور جڑوں پر خوب کلہاڑیاں برسائی ہیں۔ نام نہاد مشاعروں کے نام پر آج نہ جانے کتنی بدعنوانیاں عروج پا چکی ہیں، چہ جائے کہ اس سے اردو ادب کا کچھ بھلا ہو اور تعمیر و ترقی کے لیے کوئی راہ ہموار ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک بڑا حیرتناک المیہ ہے کہ ہمارے سماج و معاشرے میں رفتہ رفتہ اردو پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کی شرح گھٹتی ہی چلی جا رہیں ہیں، اس کی وجہ سے اب نئے لکھاریوں کی عدم دستیابی جیسا خمیازہ بھی ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ راقم الحروف کا ماننا ہے کہ جب نسل نو میں اردو زبان و ادب تئیں الفت و محبت پروان چڑھے گی تبھی ادبی فروغ کا گراف بھی وسیع ہوگا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ یہاں ایسا کچھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ آخر! پرانے لکھاری ہی کب تک میدان سنبھالتے رہیں گے؟ انھیں بھی تو کسی روز دارِ بقا کی طرف کوچ کر جانا ہے۔ کئی ایک مرتبہ جب میں نے اپنے آس پڑوس کے گھروں کے ذمہ داران سے اردو میڈیم میں ان کے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے گفتگو کی تو انھوں نے ہر مرتبہ دو ٹوک یہی جواب دیا کہ :” اردو لائن میں ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل نظر نہیں آتی”۔ ہائے افسوس! اس سادہ سا جواب پہ میں مر نہ جاتا اگر کچھ اعتبار ہوتا۔۔۔
اسی لیے اب چلتے چلتے متذکرہ بالا مسئلوں کے پیشِ نظر زیر نظر میگزین” صدائے بسمل” کے ذمہ داران سے ایک دست بستہ ایک مشورہ ہے کہ آپ حضرات نیے لکھاریوں کو بھی پروان چڑھانے کے بارے میں غور و فکر کے بعد کوئی مناسب لائحہ عمل تیار کریں تو یہ اردو ادب پر بہت بڑا احسان ہوگا۔ ہم تو صرف امید ہی باندھ سکتے ہیں۔ ہاں! اس کی ایک صورت یہ ضرور نکل سکتی ہے کہ اس چیز کے لیے اپنے میگزین کا ہی ایک صفحہ مختص کر دیں اور نسل نو میں دلچسپی و لگن پیدا کرنے کے لیے ان سے چھوٹی چھوٹی ادبی کہانیاں تحریر کروائیں اور شائع کریں، ہو سکے تو بطورِ مقابلہ گاہے بگاہے انھیں انعام و اکرام اور اسناد وغیرہ سے بھی سرفراز کریں۔
مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اس جہت میں ہاتھ پاؤں مارنا ضرور ایک مشکل امر ہے، پر ناممکن نہیں۔ اگر عزم و استقلال کا دامن تھام لیا گیا تو یقیناً بہت جلد ہی خوش کن نتائج بر آمد‌ ہوں گے کہ؀
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

اور پھر زیر نظر میگزین کی بقا و عدم بقا کے حوالے سے بھی یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب تک اس کے ارکان خلوص نیت کے ساتھ آبلہ پائی کا شکوہ کیے بغیر ریگزاروں پہ چلتے رہیں گے، میگزین بھی پھلتا و پھولتا رہے گا اور پھر بلا شبہ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ جب ” صدائے بسمل” کی پوری ٹیم ادبی فروغ کے شاہراہ پر میر کارواں کی حیثیت سے روشنی ہی لٹاتی جائے گی۔

Facebook Comments