تحریر: مقبول احمد سلفی

داعی اسلامک دعوۃ سنٹر،طائف,سعودی عرب

کائنات کی سب سے افضل ہستی، سید البشر اور امام الانبیاء کے گھرانے والوں کو اہل بیت کہا جاتا ہے ۔اس نسب اور خاندان سے ہونا دنیا کا سب سے بڑا اعزاز واکرام ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے عربی وعجمی مسلمان اس اعزاز واکرام کو پانے کے لئے بغیر ثبوت کو خود کو سیدی ، ہاشمی اور ساداتی لکھتے اور بتلاتے ہیں ۔اہل بیت کے نام پر صرف اعزازواکرام پانے کی بات نہیں ہے بلکہ مسلم سماج کو بڑے افسوسناک مسائل بھی  درپیش ہیں، آپس میں خلفشار، تنازع ، سب وشتم اور تکفیر وتذلیل کے بھیانک اثرات پائے جاتے ہیں۔میں نے اس مضمون میں اختصار کے ساتھ اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، دل میں ایک چھوٹی سی نیت یہ رکھی ہے کہ لوگ اہل بیت کو جانیں اور ان کو صحیح مقام دیں اور اس بابت ناصبیت ورافضیت سے پرہیز کریں ۔ناصبیت کیا ہے ،اہل بیت کو تکلیف پہنچانا، ان کو سب وشتم کرنا اور ان کے شان میں گستاخی کرنا اور رافضیت نام ہے اہل بیت کے نام پر چند افراد کی محبت میں حد سے زیادہ غلو کرنا اور دیگر اہل بیت اور بہت سارے صحابہ کو لعن وطعن کرنا۔

اہل بیت کون ہیں پہلے یہ بات جان لیتے ہیں کیونکہ عوام کی اکثریت کو اہل بیت کا بھی صحیح علم نہیں ہے ۔ اہل بیت کا معنی گھرانے والے ، اس سے مراد نبی ﷺ کے وہ جملہ اہل خانہ جن پر صدقہ حرام ہے ۔ ان میں آپ کی اولاد(زینب، رقیہ ،ام کلثوم اور فاطمہ)، نواسے ،نواسیاں،آپ کے چچا (حمزہ وعباس)آپ کی پھوپھی(صفیہ)، آپ کی تمام بیویاں(خدیجہ،عائشہ،سودہ،حفصہ،ام سلمہ،زینب بنت خزیمہ،جویریہ،صفیہ، ام حبیبہ، میمونہ اور زینب بنت جحش) اور بنوہاشم کے سارے مسلمان مرد وعورت شامل ہیں ۔

نبی ﷺ کی بیٹیاں اہل بیت میں ہیں اس کی دلیل کی ضرورت نہیں ہے تاہم چچا بھی اہل بیت میں سے ہیں ، اس کی خاص دلیل ذکر کرتا ہوں۔ نبی ﷺ کے چچا حارث کے بیٹے ربیعہ اور ربیعہ کے بیٹے عبدالمطلب جو کہ صحابی ہیں اور ان سے حدیث بھی مروی ہے۔ یہ(عبدالمطلب بن ربیعہ ) اور نبی ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے فضل دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں مال صدقہ پر عامل ومزدور مقرر کرلیں تاکہ اس کمائی سے شادی کی تیاری کرسکیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: إنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إنَّما هي أَوْسَاخُ النَّاسِ(صحيح مسلم:1072

ترجمہ: آل محمد کے لیے صدقہ روانہیں ،یہ تو لوگوں (کے مال)کا میل کچل ہے ۔

صحیح بخاری میں ہےکہ خیبر کے خمس میں سےنبی ﷺنے بنوہاشم اور بنومطلب کو دیا اور دوسرے قریش کو نہ دیا تو جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ  نے بنومطلب کو تو مال دیا مگر ہمیں نظر انداز کردیا جبکہ ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجے کی قرابت رکھتے ہیں ، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا بَنُو المُطَّلِبِ، وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ»(صحیح البخاری:3140

ترجمہ: بنو مطلب اور بنوہاشم تو ایک ہی چیزہیں۔

ایک روایت میں یہ اضافہ ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے بنو شمس اور بنونوفل کو نہیں دیا تھا۔

بنوہاشم ، بنومطلب، بنوشمس اور بنونوفل یہ آپس میں چار بھائی تھے مگر آپ نے صرف دو کو خمس دیا اور ان دونوں کو ایک قرار دیا، اس وجہ سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ اہل بیت میں جن پر صدقہ حرام ہے ان میں بنوہاشم کے ساتھ بنومطلب بھی ہیں یعنی بنوہاشم کی طرح بنومطلب بھی اہل بیت میں شامل ہیں ۔

مسلم شریف میں ایک روایت ہے جس سے شیعہ ،عوام کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ازواج مطہرات آل بیت میں سے نہیں ہیں ۔ وہ روایت اس طرح سے آئی ہے ۔فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا(مسلم:2408

اس ٹکڑے کا ترجمہ کیا جاتا ہے “ہم نے کہا آل بیت کون لوگ ہیں، نبی ﷺ کی بیویاں ؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔

اس کا اصل ترجمہ اور مفہوم اس طرح ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا:آپ کے اہل بیت کون ہیں؟(صرف) آپ کی ازواج؟ توانھوں نے کہا کہ (صرف آپ کی ازواج)نہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی ازواج کے علاوہ اور دوسرے بھی آل بیت میں شامل ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہی اس سے پہلے والی حدیث کے کے الفاظ ہیں۔”فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ” یعنی اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید ؓ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔

صحیح مسلم کی ایک اور روایت سے دھوکہ دیا جاتا ہے کہ قرآن میں مذکور اہل بیت کی تفسیر میں صرف چار لوگ ہی شامل ہیں، وہ علی، فاطمہ اور حسن وحسین ہیں ۔ روایت اس طرح سے ہے : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں:

خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: ” {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] “(صحیح مسلم:2424

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور آپ ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن ؓ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین ؓ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء ؓا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی ؓ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو”۔

اس حدیث میں چار افراد کے ذکر کا ہرگز مطلب نہیں کہ اہل بیت میں ان چار کے علاوہ دوسرے افرادشامل نہیں ہیں ، آیت میں اصلا خطاب ازواج مطہرات کو ہے اس وجہ سے وہ قطعی طور پر اہل بیت میں شامل ہیں جیساکہ اوپر صحیح مسلم کی صریح حدیث بھی گزری ہے اور بھی دیگر دلائل وشواہد ہیں کہ آپ ﷺ کی بیویاں اور چچا سب بھی اہل بیت میں ہیں ۔ سیدہ عائشہ کے پاس خالد بن سعید نے صدقہ کے طورپر گائے بھیجی تو انہوں نے کہا کہ بے شک ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ:10708) اور عباس و ربیعہ کے بیٹوں کو نبی ﷺنے صدقہ کی کمائی سے نکاح نہ کرکے مال خمس سے نکاح کرایا تھاجس کا ذکر بھی اوپر ہوچکا ہے ۔

اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الأحزاب:33

ترجمہ: اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھروالیو! تم سے وہ ہرقسم کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے ۔

اس آیت کی روشنی میں اہل بیت خصوصا ازواج مطہرات کی پاکیزگی، اعلی فضیلت اور بلندمقام ومرتبہ کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

إنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنانَةَ مِن ولَدِ إسْماعِيلَ، واصْطَفَى قُرَيْشًا مِن كِنانَةَ، واصْطَفَى مِن قُرَيْشٍ بَنِي هاشِمٍ، واصْطَفانِي مِن بَنِي هاشِمٍ.(صحيح مسلم:2276

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔

غدیر خم کے مقام پراپنے خطاب میں کتاب اللہ کی ترغیب وتمسک کے بعد آپ ﷺ کا تین مرتبہ یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔

أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتي(صحيح مسلم:2408

ترجمہ: میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں،میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں،میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں۔

ٍصحیح مسلم میں سعد بن وقاص سے مروی ہے : وَلَمَّا نَزَلَتْ هذِه الآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} دَعَا رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.(صحيح مسلم:2404

ترجمہ: اور جب یہ آیت اتری «نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ» ”بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔“ (یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے : كلُّ سَبَبٍ و نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يومَ القيامةِ ، إلَّا سَبَبي و نَسَبي(السلسلة الصحيحة:2036

ترجمہ: قیامت کے دن ہر واسطہ اور نسبی تعلق ختم ہوجائے گا البتہ میرا واسطہ اور نسبی تعلق قائم رہے گا۔

قرآن کی آیت سے بھی یہ مفہوم واضح ہوتا ہے ، اللہ کا فرمان ہے : فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ (المومنون:101

ترجمہ:پس جبکہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے ، نہ آپس کی پوچھ گجھ ۔

اہل بیت کے بڑے فضائل ملتے ہیں ، یہ منجملہ اہل بیت سے متعلق چند فضائل تھے، اگر فردا فردا رسول کے اہل بیت کے فضائل بیان کئے جائیں تو کئی کتب تیار ہوجائیں گی ۔اہل علم نے الگ الگ طریقے سے فضائل بیان بھی کئے ہیں ۔ محدثین نے کتب حدیث میں ناموں سے باب قائم کیا ہے جبکہ سیرت نگاروں نے الگ الگ مستقل کتابیں بھی ترتیب دی ہیں ۔

بہرکیف! اہل بیت روئے زمین پر پاک ہستیوں کا نام ہے ، ان کی عزت وتوقیر، ان کا احترام وتقدس اور ان سے محبت وعقیدت مسلمانوں کا جزوایمان ہے اور جو اہل بیت میں سے کسی فرد سے بھی عداوت رکھتاہے، وہ منافق اور ناصبی ہے ۔

قالَ عَلِيٌّ: والذي فَلَقَ الحَبَّةَ، وبَرَأَ النَّسَمَةَ، إنَّه لَعَهْدُ النبيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ إلَيَّ: أنْ لا يُحِبَّنِي إلَّا مُؤْمِنٌ، ولا يُبْغِضَنِي إلَّا مُنافِقٌ.(صحيح مسلم:78

ترجمہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں دشمنی رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔

یہ مضمون جس مقصد کے تحت لکھا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگ اہل بیت کو جانیں کہ کون کون لوگ اس میں داخل ہیں پھر ان نفوس قدسیہ کی توقیر اسی طرح بجالائیں جس طرح قرآن وحدیث میں ہماری رہنمائی کی گئی ہے ۔ نہ تو ان کی شان میں گستاخی کریں جس طرح نواصب وخوارج کرتے ہیں اور نہ ہی غلو کریں جس طرح شیعہ ورافض کرتے ہیں ۔ امت محمدیہ میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ہستی ابوبکر پھر عمر پھر عثمان ہیں جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے۔

كنا نقولُ ورسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم حَيٌّ : أفضلُ أمةِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم بعدَه أبو بكرٍ، ثم عمرُ، ثم عثمانُ(صحيح أبي داود:4628۔

ترجمہ: ہم کہا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ حیات تھے : نبی کریم ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر اور پھر عثمان ؓ۔

یہ عقیدہ نہ صرف عام صحابہ کا تھا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی مانتے اور عقیدہ رکھتے تھے چنانچہ سیدنا علی ؓ کے بیٹے محمد بن حنفیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں اپنے والد سے دریافت کیا:أَيُّ الناسِ خيرٌ بعد رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم ؟ قال ، أبو بكرٍ، قال : قلتُ : ثُمَّ مَن ؟ قال : ثم عمرُ، قال : ثم خَشِيتُ أن أقولَ : ثُمَّ مَن فيقولُ : عثمانُ . فقلتُ : ثم أَنْتَ يا أَبَةِ ؟ قال : ما أنَا إلا رجلٌ من المسلمينَ(صحيح أبي داود:4629ْ۔

ترجمہ: رسول اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل کون ہے؟انہو ں نے کہا حضرت ابو بکر ؓ۔میں نے کہا :پھر کون ؟کہا حضرت عمر ؓ پھر مجھے اندیشہ ہوا اگر میں نے پوچھا ان کے بعد کون ہے تو وہ کہیں گئے حضرت عثمان ؓ تو میں نے ازخود کہ دیا:‎پھر تو ‎ آپ ہو‎ں گئے ابا جان! وہ کہنے لگے کہ میں تو مسلمانوں میں سےایک عام آدمی ہوں۔

شیعہ کے یہاں یہ ترتیب نہیں ہے وہ علی رضی اللہ عنہ کو ہی پہلا نمبر دیدتے ہیں اور خلفائے ثلاثہ ابوبکروعمروعثمان کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں، اس قدر عداوت ہے کہ ان ناموں پر اپنے بچوں کا نام بھی نہیں رکھتے، اور چار لوگ (علی، فاطمہ ، حسن، حسین) کے علاوہ اہل بیت میں کسی کو تسلیم نہیں کرتے۔

امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق کی اہل بیت سے محبت دیکھیں : والذي نَفْسِي بيَدِهِ لَقَرابَةُ رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أحَبُّ إلَيَّ أنْ أصِلَ مِن قَرابَتِي(صحيح البخاري:4240۔

اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ، اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں : اللَّهُمَّ إنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فَتَسْقِينَا، وإنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا۔(صحيح البخاري:3710۔

ترجمہ: اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا(عباس بن عبدالمطلب) کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔

اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا حال دیکھیں ، جب وہ اپنے گھر میں محصور کردئے گئےتو اس وقت وہاں حسن آپ کی دفاع کے لئے تلوار کے ساتھ موجود تھے اور لڑنا چاہتے تھے مگر حضرت عثمان نے اللہ کا واسطہ دےکر انہیں اپنے گھر بھیج دیا تاکہ ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور حضرت علی کو بھی کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ (البدایہ والنہایہ 11/193۔

بلاشبہ یہ لوگ اہل بیت سے محبت کرتے اور اہل بیت بھی ان سے محبت کرتے ۔ حضرت علی کے بیٹوں میں حسن وحسین کے علاوہ ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی ہیں ۔ حسن وحسین کی اولاد میں بھی ابوبکروعمرموجود ہیں بلکہ کربلا میں حسین کے ساتھ علی کے بیٹے ابوبکروعثمان ، حسن کے بیٹے ابوبکروعمر اور حسین کے بیٹے عمر بھی شہید ہوئے ۔

شیعہ کی تو بات چھوڑیں ، مسلمانوں کا ایک مخصوص طبقہ بھی شیعہ کی طرح حب علی اور حب حسین میں غلو کرتا ہے اور دوسرے مسلمانوں کو بالخصوص اہل حدیث کو اہل بیت کا گستاخ کہتا ہے اور اہل حدیث علماء کو ناصبی کہہ کر پکارتا ہے ۔ اہل حدیث جماعت منہج سلف پر گامزن ہے ، وہ نہ غلو کرتی ہے اور نہ ہی اہل بیت ، اولیاء ، صالحین اور ائمہ کی شان میں گستاخی کرتی ہے ۔ یہ جماعت ان لوگوں کو وہی مقام دیتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے ۔

حضرت علی کا مقام ابوبکروعمراور عثمان کے بعد ہے ، اہل حدیث وہی مقام دیتے ہیں ، یہ ایک انسان تھے ،انسان ہی مانتے ہیں جبکہ غلو کرنے والے علی کو مشکل کشا کہتے ہیں اور الوہیت کے مقام پر فائز کردیتے ہیں ، یہ سراسر شرک ہے ، ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہوجاتا ہے ۔

صحیح احادیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ہیں مگر غلو کرنے والوں نے بالخصوص روافض نے آپ کی شان میں اس قدر جھوٹی احادیث گھڑی کہ اس قدر جھوٹی احادیث کسی اور صحابی کے بارے میں نہیں گھڑی گئیں ۔ اس وجہ سے فضائل علی میں ہمیں جب بھی کوئی حدیث ملے تو پہلے اس کی صحت جانیں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ہے ؟

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت فاطمہ اور حسن وحسین کے بارے میں نبی ﷺ فرماتے ہیں۔

إنَّ هذا ملَكٌ لم ينزلِ الأرضَ قطُّ قبلَ اللَّيلةِ استأذنَ ربَّهُ أن يسلِّمَ عليَّ ويبشِّرَني بأنَّ فاطمةَ سيِّدةُ نساءِ أَهْلِ الجنَّةِ وأنَّ الحسَنَ والحُسَيْنَ سيِّدا شبابِ أَهْلِ الجنَّةِ(صحيح الترمذي:3781۔

ترجمہ: یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں۔

ماں کی طرح ان کے دونوں بیٹے بھی جنتیوں کے سردار ہیں ۔ یہ بہت بڑی فضلیت ہے ۔ نیز ہمیں یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اور حسن وحسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ترغیب دی ہے ۔ حب علی والی حدیث اوپر گزر چکی ہے ، فاطمہ سے معتلق آپ کا ارشاد گرامی ہے : إنَّما فَاطِمةُ بَضعَةٌ منِّي يؤذيني ما آذَاها وينصِبني ما أنصبَها(صحيح الترمذي:3869)

ترجمہ: فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے۔

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا:

هذانِ ابنايَ وابنا ابنتيَ ، اللَّهمَّ إنِّي أحبُّهما فأحبَّهما وأحبَّ مَن يحبُّهما(صحيح الترمذي:3769۔

ترجمہ: یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے۔

ان چاروں (علی، فاطمہ، حسن ، حسین)سے جس طرح ہم محبت کریں گے اسی طرح اہل بیت کے دیگر افراد سے بھی محبت کرنا ایمان کہلائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان سے محبت کے اظہار میں زمین وآسمان کی قلابیں ملادیں اور فاطمہ کے علاوہ دیگر بنات رسول ، امہات المومنین اور بنوہاشم وبنومطلب کے دیگر مسلمان کے لئے دل میں تنگی محسوس کریں ۔

اور آج ایسا ہی ہورہا ہے روافض ام المومنین سیدہ عائشہ کو گندی گالیاں دیتے ہیں فاطمہ کے علاوہ دوسری بنات رسول کی توہیں کرتے ہیں ، ابوبکروعمروعثمان اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر لعن وطعن کرتے ہیں ، ان سےمتاثر ہوکر بہت سارے مسلمان بھی اہل بیت کی آڑ میں صحابہ کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بارے میں نازیبا اور گستاخانہ کلمات استعمال کرتے ہیں۔اللہ تعالی تمام صحابہ سے راضی ہوگیا تو ہمیں بھی تمام صحابہ سے محبت کرنا چاہئے خواہ اہل بیت میں سے ہوں  یا نہیں ہو ں۔

صحابہ سے محبت کرنا ایمان کی علامت وپہچان ہے اور انہیں گالی دینے والا اللہ کی لعنت کا مستحق ہے ،انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آيَةُ الإيمانِ حُبُّ الأنْصارِ، وآيَةُ النِّفاقِ بُغْضُ الأنْصارِ.(صحيح البخاري:17۔

ترجمہ: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيدِه ، لو أنفقَ أحدُكم مثلَ أُحُدٍ ذهبًا ما بلغَ مدَّ أحدِهم ولا نَصِيفَه(صحيح أبي داود:4658۔

ترجمہ: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:لعَنَ اللهُ مَنْ سبَّ أصحابِي(صحيح الجامع:5111۔

ترجمہ:اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔

کربلا ایک حادثہ ہے ، بلاشبہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے لعنت کے مستحق ہیں مگر بغیر ثبوت کے اور تخصیص کرکے کسی مسلمان پر لعنت بھیجنا روا نہیں ہے ، یزید ایک مسلمان تھا ، اس پر بھی لعنت نہیں بھیجیں گے کیونکہ وہ قاتل تھا یا حسین کے قتل کا کسی کو حکم دیا تھا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہاں اس طرح لعنت بھیج سکتے ہیں کہ قاتلوں پر اللہ کی لعنت ہو ، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ بہت سارے مسلمان بغیر ثبوت کے خود کو ہاشمی گردانتے ہیں اور اہل بیت سے ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ لوگ بڑی جرات دکھاتے ہیں ، انہیں نبی ﷺ کے اس فرمان سے سبق لینا چاہئے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:مَنِ ادَّعَى قَوْمًا ليسَ له فيهم، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.( صحيح البخاري:3508۔

ترجمہ: جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

Facebook Comments