تحریر:محمد اسلم خان،پاکستان

دنیا نئے سال 2019میں داخل ہوچکی ہے، اس نے نئی ٹیکنالوجی کا ایک اور سنگ میل پار کرلیا ہے۔ یہ مرحلہ اب جہاں سہولت کے ایک نئے دور کا آغاز کررہا ہے، وہیں انسان کیلئے ایک نیا امتحان بھی ثابت ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور کی معراج مصنوعی ذہانت کو قرار دیا جارہا ہے۔ حیرتوں کی حیرت تو یہ ہوگی کہ اگرچہ یہ ایک پروگرام ہے لیکن یہ آپ کو ایک وجود کی صورت دکھائی بھی دیگا۔ آپ سے ایک وفادار دوست، ایک غلام کی طرح باتیں کریگا۔ عورت یا مرد پسند آپکی ہے۔ پہلے مرحلے میں آواز سْن کر مشینیں کام شروع کردیں گی۔ پہلے انہیں خود ہی چلانا پڑتاتھا۔ اب یہ تکلف بھی ختم ہوا۔ اب آپ نے اِدھر حکم دیا، اُدھر مشین بجالائی۔ مشینوں کی اگلی نسل کہلانے والے جدید لاسلکی یا تار کے بغیر (وائرلیس) نظام میں نیا انقلاب برپا ہونے جارہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اب یہ نظام ہمہ وقت آپ کے سنگ رہے گا۔ آپ کبھی تنہا نہ رہیں گے۔ شوہر یا بیوی کی گھر پر عدم موجودگی، ملازمت یا تفریح پر جانے یا پھر بچے سیروتفریح چھٹیاں گزارنے گئے ہوں توآپ سے باتیں کرنے کو ’’کوئی‘‘ موجود ہوگا۔ صبح کے وقت آپ ’مائیکرو ویو‘ کو کہہ سکیں گے کہ دلیہ گرم کردے۔ کار میں بیٹھنے پر آپ جس زمانے کے گانے سننے کے خواہش مند ہونگے، آپ کی فرمائش سن کر ’سٹیریو‘ تعمیل کرنے میں وقت نہ لگائے گا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہوئے آپ اپنے سمارٹ فون سے پوچھیں گے کہ آج میری مصروفیات کیا ہیں تو وہ ایک سمارٹ سیکریٹری کی طرح طوطے کی طرح بتائے گا کہ آج کے دن آپ نے کیا کرنا ہے؟ کس کس سے ملاقات طے ہے؟

نئے سال پر ’لاس ویگاس‘ میں ایک میلہ ہوا۔ لاس ویگاس بہت زیادہ آبادی والے امریکی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر میں الیکڑونکس تجارتی شو میں عوام نے نئی مشینوں کے حیرت انگیز کمالات دیکھے۔ جدید ترین مشینوں میں خود کو گھرا پایا۔ مصنوعی ذہانت والی مشینیں مرکز نگاہ رہیں۔ ان مشینوں میں روبوٹ ویکیومز، الارم کلاک، ریفریجریٹرز اور کار سے متعلق سامان شامل تھا۔ زیادہ تر مصنوعات ایمازون کی ’’الیگزا‘‘ اور گوگل کی ’’اسسٹنٹ‘‘ پروگرامز کی حامل تھیں۔ 2015ء میں ’ایمازون کمپنی‘ نے ’ایکو‘ ایجاد کیاتھا جو مصنوعی ذہانت سے بولنے والا پروگرام الیگزا ہے۔ گوگل نے بھی اسی طرز پر اپنا پروگرام ’اسسٹنٹ‘ تیار کیا۔مصنوعی ذہانت 2018 میں جدید ترین رجحان کی بناء پر بے حد مقبول ہوئی۔ یہ صنعت دنیا میں بہت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ اب پانچویں نسل کے موبائل فون آپکے ہاتھ میں آنے کو ہیں، جو ’فائیو جی‘ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان موبائل فون کی مشین بہتر جدید ہے جو انٹرنیٹ سے کہیں تیز رفتاری سے تعمیل کرتا ہے اور ڈیٹا یعنی تفصیلات کا تبادلہ بہت تیزی سے کرسکتا ہے۔ قطر میں اس ٹیکنالوجی کا آغاز ہوچکا ہے ‘ ڈرائیور کی فکر سے آزاد ، خود کار چلنے والی کاریں بھی آپکی منتظر ہیں۔اسکے تجربات جاری ہیں۔ مختلف بین الاقوامی کمپنیاں اپنی اپنی کار متعارف کرارہی ہیں۔ اب آپ بیٹھئے اور کار کو اپنی منزل کا حکم دیجئے اور آرام سے اخبار کے مطالعہ میں مشغول ہوجائیے، یا پھر مظاہر قدرت کو دیکھنے میں محو ہوجائیں، منزل پر پہنچانے کی ذمہ داری جدید ٹیکنالوجی کی ہے۔ وہی کار کی آنکھیں، کان اور دماغ بن کر کام کرتی ہے اور اس کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔گھر یا کمرے میں روشنی کرنے سے لیکر بستر کے ساتھ میز پر دھرے ’برقی چراغ‘ کی لو بڑھانے تک، کمرے میں سردی یا گرمی کا درجہ کم یا مزید کرنے تک آپ کے زندگی کے بہت سے معاملات ان مشینوں سے ہی جڑے ہونگے اور آپ انہیں اپنے کتے، گدھے یا گھوڑے کی طرح پکارسکیں گے جو آپکا حکم پاتے ہی مطلوبہ کام انجام دیں گے۔

ایک طرف یہ ٹیکنالوجی ہے تو دوسری جانب اسے چرانے والے پڑھے لکھے ٹیکنالوجی کے ماہر چور اور ڈکیت بھی نئے نئے ہتھیار میدان میں لانے کو تیارہیں۔ جب مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مشینوں کا اتنا غلبہ ہوگا تو لامحالہ چور اور ڈکیتوں کا خطرہ بڑھنا لازم ہے۔ ان آلات کی حفاظت کیلئے بھی کمپنیاں اور سافٹ وئیر بنانے والے انجینئر میدان میں آرہے ہیں تاکہ وائی فائی چلانے والی مشین کی حفاظت ہوسکے ، آپ اور آپکی مشینیں محفوظ رہ سکیں۔

گزشتہ برس ’ایروپلس‘ کے نام سے ایک ایسی سہولت میسر آئی تھی جس کے اندر حفاظت کا نظام بھی موجود تھا جو وائی فائی اور اس سے منسلک آلات کو مختلف برقی جراثیموں ’وائرس‘ حملہ آور پروگرام یعنی ’میل وئیر‘ سے بچا سکے۔ گزشتہ برس ہی ’نیٹ گئیر آرمر‘ کے نام سے حفاظتی خدمات شروع کی گئی تھیں۔ ’ٹرسٹ باکس‘ کے نام سے بھی ایک ایسی سروس متعارف کرائے جانے کا منصوبہ ہے۔فائیو جی کی آمد وائرلیس صنعت میں ایک اور انقلاب ہوگا۔ ڈیٹا کی منتقلی حیرت انگیز رفتار سے ہوگی۔ چند سیکنڈ میں پوری فلم آپکو دستیاب ہوجائیگی جسے اپنے موبائل میں اتارنے کیلئے خاصی دیر اور تگ ودو کرنا پڑتی تھی۔ روبوٹس، ڈرونز، سکیورٹی کیمرے، اطلاعات اور ایک مشین کی دوسری مشین سے ’کمیونیکیٹ‘ کرنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوجائیگا۔خودکار چلنے کی صلاحیت کی حامل کاریں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔جدید کاروں کی نئی نسل یعنی خود کار انداز سے چلنے والی یہ ٹیکنالوجی ابھی امریکہ کے چند شہروں تک محدود ہوگی جبکہ آزمائشی طورپر برطانیہ، جرمنی، سویٹزرلینڈ، چین، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا میں دستیاب ہوگی۔ راجہ بازار اور مری روڈ پر ان گاڑیوں کی اصل آزمائش کیلئے پاکستان کو بھی رابطہ کرنا چاہئے۔ کسی ضابطے، قاعدے اور سلیقے میں ان جدیدخودکار کاروں کا چلنا تو الگ معاملہ ہے اور شاید اتنی بڑی بات نہ ہو لیکن اگر ہمارے شہروں کی ٹریفک میں ان مشینوں کے صبر کو آزمایا جائے تو پھر ٹیکنالوجی کی کاریگری مانی جائے۔ خودکار کاریں اگرچہ بعض کمپنیوں کو بنانے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ چند امریکی شہروں میں اس ضمن میں تجرباتی بنیادوں پر کام بھی کررہی ہیں۔ لیکن ابھی اس عمل میں برسوں لگیں گے۔فائیو جی پر چلنے والے فون بھی فوری ہر ہاتھ میں نہیں پہنچیں گے، بعض کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے فائیو جی فونز مارکیٹ میں اس سال ہی لے آئینگے۔ ’ایپل‘ کا اندازہ ہے کہ فائیو جی سے ہم آہنگ ’آئی فون‘ 2020ء تک عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ گزشتہ دو سال میں ورچوئل ریئیلیٹی کے حامل آلات مارکیٹ میں دستیاب ہوگئے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی سافٹ وئیر اور گیمز بھی دستیاب ہوچکی ہیں۔آنیوالے وقت میں چونکہ کرنسی نوٹ ختم ہونے جارہے ہیں، اس لئے اب مختلف قسم کے کارڈز کی جگہ فون نما ایک چھوٹا سا آلہ لے لے گا جو الیکڑانک بٹوہ بن جائیگا، اس میں آپکے تمام کارڈز محفوظ ہونگے۔ اس میں آپ اپنا قیمتی ڈیٹا بھی محفوظ رکھ سکیں گے۔ آپ اسکے ذریعے رقوم منتقل کرسکیں گے۔ برقیاتی خزانے کو چوری یا ہیک نہیں کیا جاسکے گا اسے کھولنے کیلئے خفیہ معلومات اگر غلط ہوں گی تو ’اورا سائیفو‘ کے نام سے یہ آلہ آپ کی قیمتی معلومات کو اس آلے میں سے ختم کردیگا۔ ’بی پال‘ کے نام سے ایک اور چھوٹا سا کارڈ نما آلہ آپ کی تمام معلومات دوبارہ واپس لے آئیگا۔

صحت کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی اور امیر ممالک کے بھی معاشی دباو کی وجہ سے اب ٹیکنالوجی پر انحصار مزید بڑھنے کے تجربات کئے جارہے ہیں۔ سرطان اور ہارٹ اٹیک کا پتہ لگانے کیلئے اب ٹیلی میڈیسن کی صورت لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے علاج معالجہ حاسل کرسکیں گے۔ ٹیکنالوجی کی لاگت میں کمی کی بھی بات ہورہی ہے۔ ڈاکٹر کی روایتی دست شفاء اور مسکراہٹ سے مریض کی گفتگو سننے کا چلن بھی ختم ہونے کو ہے، نہ ہی نرسیں نظرآئیں گی۔

جہازوں سے لیکر خلاء میں سفر کرتی مشینوں تک اور موٹر سائیکلوں تک، اڑنے والی کاروں سے لیکر نہایت آرام دہ مقناطیسی محور میں جکڑی تیز رفتار ٹرینوں تک ٹیکنالوجی ہمیں ہرطرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ آنیوالے وقت میں انسانی جینز سے چھیڑ چھاڑ کرکے ایسے گوشت پوست کے ایسے انسان بنانے کا سوچاجارہا ہے جو مشینی انداز میں کام کرینگے۔ انکے اندر من پسند کی تبدیلیاں لائی جاسکیں گی۔ ایک آلہ تو متعارف بھی کرادیاگیا ہے جو ہاتھ میں ایک کڑے کی طرح پہنا جاتا ہے۔ آپ رات کو سوئیں اور صبح اپنے خوابوں کی تفصیل جان لیں۔ دوران خواب وہ تھرتھراہٹ سے آپکو خواب کے خواب ہونے کا احساس بھی دلائے گا۔ یہ اس ٹیکنالوجی کا کمال ہے جس میں انسان اور مشین کے ملاپ کی کوشش جاری ہے۔ چاول کے دانے کے برابر ایک آلے کی آپکے ہاتھ میں موجودگی آپ کو کریڈیٹ کارڈ اور دیگر کارڈز سے نجات دے گا۔ یہی آلہ آپ کے ہر مسئلے کا حل ہوگا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ہم ایک ایسے پنجرے میں قید ہوتے جارہے ہیں جس میں ہم کسی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتے رہ جائینگے۔ ہماری سوچ مشین پڑھ سکے گی، ہم دل کی دھڑکن سے لیکر ہمارے احساسات کا پورا کھاتہ کاغذ اور سکرین پر منتقل ہوجائیگا۔

قلندر لاہوری نے ایک صدی پہلے ہی اس عہد کی خبر دے دی تھی۔ مگر ان خود پرستوں کا کیا علاج۔ جناب اقبال کو کون و مکان سے بالاتر فلسفی و شاعر ماننے کو تیار نہیں لیکن ساری سائنسی اور غیر سائنسی دنیا ان کی عظمت کو سلام کر رہی ہے ۔ مصنوعی ذہانت والی ٹیکنالوجی مزار اقبال پر دست بستہ ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

Facebook Comments