تحریر:سرفرازاحمد ملی القاسمی
بابری مسجد کی شہادت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جسے ہندوستانی مسلمان کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے،اسکی شہادت کو ربع صدی سے زیادہ کاعرصہ گذرچکاہے،اس طویل اورصبرآزما عرصے میں مسلمان انتظار کررہےتھے کہ انہدام کے فوری بعد تعمیر جدید کاجو وعدہ مسلمانان ہند سے کیاگیاتھا وہ پوراہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا،جب یہ معاملہ عدالت میں گیا تب بھی مسلمانوں نے ملک کی عدلیہ پر مکمل یقین کا اظہار کیا،لیکن افسوس کہ ملک کی عدالت عظمی تک نے مسلمانوں کو مایوس کردیا،شہادت بابری مسجد یقیناً مسلمانوں کےلئے ایک عظیم سانحہ ہے، اورایک ایسا زخم ہے جسکو بھولنا آسان نہیں ہے،اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ دنیاکے مختلف علاقوں میں جہاں بھی اسلام دشمن طاقتیں اقتدار پر قابض اورغالب ہوئیں وہ مساجد کو برباد کرنے اورمسلمانوں کارشتہ مساجد سے ختم کرنے کی کوشش کی،جسکا سلسلہ آج تک جاری ہے،مسجد درحقیقت خداکا وہ گھر ہے جو عبادت الہی کے بناء دیگر زمینوں سے انفرادی حکم رکھتی ہے،فقہاء کی تصریحات کے مطابق تحت الثریٰ سے لیکر اوپر آسمان تک مسجد،مسجد ہی کاحکم رکھتی ہے،امام اعظم ابوحنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک مسجد ویران اورمنہدم ہوجانے کے بعد بھی تاقیام قیامت، مسجد ہی باقی رہتی ہے،اسلئے اس زمین کو مسجد کے سواکسی اورکام میں لینا شرعا درست نہیں،مسجد کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں مسلمانوں کی عبادت گاہ پر اسکا اطلاق کیاجاتاہے،بابری مسجد جسکو میرباقی نے 1528ءمیں تعمیر کیاتھا،اسکا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہےجس نے انصاف کےلئے تقریبا 70سال کا وقت لےلیا لیکن اسکے باوجود اس مسجد کو انصاف نہ مل سکا،ملک کے معروف اورممتاز عالم دین،مولان خالد سیف اللہ رحمانی صاحب رقم طراز ہیں کہ” یہ کہنا شاید غلط نہ ہوکہ بابری مسجد ایسی مظلوم مسجد ہے جسے چاربار شہید کیاگیا،پہلی بار یکم فروری 1986ء میں،جب فیض آباد سیشن کورٹ نے مسجد کاتالا کھولنے کا حکم دیا،دوسری بار 6 دسمبر 1992ء میں، جب بابری مسجد کا ڈھانچہ دوپہر کی روشنی میں ظلماً منہدم کردیا گیا،تیسری بار30 سپٹمبر 2010ء میں، جب الہ آباد ہائی کورٹ کافیصلہ آیا اورفیصلہ کی بنیاد قانون کے بجائے آستھا کو بنایا گیا،چوتھی بار 9 نومبر 2019ء کو،سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ،یہ یقیناً ہمارے ملک کے انتظامی اور عدالتی نظام کے دامن پرایک داغ ہے”(مینارہ نور 22 نومبر)۔
اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسکی بنیادیں عدل وانصاف پر رکھی گئی ہیں،اسکی تعلیمات میں عدل وانصاف کا عنصر نمایاں نظر آئےگا،اور یہی بات فطرت کے عین مطابق ہے،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام میں عدل وانصاف کامعیار اہل اسلام کے ساتھ خاص نہیں،بلکہ بلا لحاظ رنگ و نسل، قوم و ملت سب کےلئے اسکے عادلانہ احکامات اور منصفانہ تعلیمات ہیں،اسی اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان کا مسلمان، ملک کی عدلیہ کا حددرجہ احترام کرتاہے،شریعت کی رو سے منہدمہ مسجد کے مقام پر مسجد کے علاوہ کسی چیز کی تعمیر جائز نہیں،مسجد کو غیر قانونی طورپر توڑنا،اور قانونی شکل میں اس پر مندر تعمیر کر نےکا فیصلہ شرعا ناممکن و محال ہے،اسکی کسی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی،اسکے باوجود ہندوستان کے اکابر علماء نے تمام مکاتب فکر کی اتفاقی آراء سے واضح طورپر اعلان کیاکہ ہم ہندوستانی ہیں،ہندوستان کے آئین اور دستور پر ہمارا ایقان ہے۔
سپریم کورٹ کا موافق یامخالف ہرفیصلہ قبول ہے،کیونکہ عدالت کا کام حقدار کو حق عطا کرنا،مظلوم کی مدد کرنا،اختلافات و نزاعات کی صورت میں حقیقت تک پہونچنا اور حق دار کو اسکا حق عطاکرناہے،یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ شریعت میں مندر کو توڑنا اور اسکی زمین کو غصب کرکے اس پر کوئی مسجد بنانا حرام ہے،اور اگرکوئی مندر توڑکر مسجد تعمیر کردے تو ایسی مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک نماز ہی درست نہیں ہوتی،شریعت کے اس واضح حکم کے بعد مسلمانوں کو ہندوستان کی عدلیہ پر یقین تھا کہ وہ حقائق و دلائل اور آثارو شواہد کی بنیاد پراپناتاریخی فیصلہ نافذ کرے گی،لیکن افسوس کہ 1949ء سے تاحال حکومت کے علانیہ اقدامات اور عالتی فیصلہ جات سے یہی ظاہر ہواکہ غیرمسلم ادعاجات کو قانونی طور پرمضبوط کرنے کی کوشش کی گئی،الہ آباد ہائ کورٹ میں حق ملکیت پر فیصلہ کے بجائے مصالحتی تجویز سے اسی وقت یہ ثابت ہوگیا تھااور واضح اشارہ مل گیاتھا کہ سپریم کورٹ میں بھی فیصلہ مسلمانوں کےحق میں نہیں ہوگا،بالآخر وہی ہوا،سپریم کورٹ نے بھی حقائق و شواہد اور ثبوت ودلائل کو کنارے کردیا اورعقیدہ وآستھا کی بنیاد پر فیصلہ سنادیا،اسکا نریجہ یہ ہواکہ اس فیصلے پر غیر مسلم عدلیہ کے ماہرین بھی انگشتِ بدنداں ہیں،اور وہ خود حیرت واستعجاب کے عالم میں ہیں کہ کس طرح معروضات و تخیلات کو قانون کی بنیاد بنادیاگیا،صرف مسلمانوں کو ہی اس فیصلے پر تکلیف نہیں ہے،بلکہ غیر مسلم ججس، وکلاء اور ماہرین قانون بھی بے چینی کاشکار ہیں اور انھیں ہندوستان کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔
فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں کہ”بابری مسجد کی اراضی سینکڑوں سال سے مسلمانوں کے زیرقبضہ تھی،تو اب اس پر ہندو فریق کا دعویٰ کیسے قبول ہوسکتاہے؟جبکہ دستور ہندکے آرٹیکل 142 کے مطابق کسی جائداد پر12سال بعد قبضہ مخالفانہ کا استحقاق ہوجاتاہے،اگرغاصبانہ قبضہ ہوتو اس سے قبل ہی دعویٰ کرناچاہئے،سرکاری عہدے داران بھی اس مقدمہ کی دستاویزی تفصیلات کے مطابق ہمیشہ یہ تسلیم کرتے رہےکہ اس میں زور زبردستی سے مورتی رکھی گئی ہے،چنانچہ 22/23 دسمبر 1949ء کی درمیانی شب مسجد میں مورتی رکھنے کے واقعے کے متعلق ایک ہندو کانسٹیبل ماتو پرشاد نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی جسکے آخری کلمات یہ ہیں’رام داس، رام شکل داس، سدرشن داس اور پچاس ساٹھ نامعلوم آدمی بلواکرکے مسجد میں مداخلت کرتے ہوئے مورت رکھ کر مسجد کو ناپاک کیا، ملازمان مامورہ ڈیوٹی اور بہت سے آدمیوں نے اسے دیکھا اس سے چک مقدمہ تیارکی گئ جو صحیح ہے'(مینارہ نور22 نومبر)مولانا مزید لکھتے ہیں کہ”بابری مسجد تنازعہ کااصل پس منظر یہ ہے کہ سب سے پہلے مندر گراکر مسجد کی تعمیر کا شوشہ ایک انگریز سیاح جوزف ٹینن ٹیلرنے چھوڑا، جسکی کتاب 1788ء میں شائع ہوئی،انھوں نے لکھاہے کہ’بادشاہ اورنگ زیب نے رام کوٹ کہے جانے والے قلعہ کو مسمار کرکے اسکی جگہ ایک اسلامی معبد(مسجد)بنایا جس میں تین گنبد ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بابر نے ایسا کیا،سیاہ پتھر کے 14 ستون جو 5۔5فٹ کے ہیں اس قلعے کے اندر لگے ہوئے تھے،ان میں سے 12 اب مسجد کے تحتی حصہ میں لگے ہوئے ہیں،جودالان کا دروازہ ہے،دوستون کسی صوفی کے مزار میں لگے ہوئے ہیں،کہاجاتاہے کہ یہ ستون یا اسکا ملبہ ہندوؤں کے راجہ ہنومان لنکا سے لیکر آئے تھے،بائیں طرف ایک چوکور چبوترہ ہے جو زمین سے پانچ پانچ انچ اونچا اور پانچ پانچ انچ لمبااور چار انچ موٹاہے جو مٹی سے بنایااور چونے سے پوتاگیاہے،ہندو اسے بیدی کہتے ہیں یعنی جنم بھومی،اسے جنم بھومی کہنے کاسبب یہ کہاجاتا ہے کہ یہیں پر وہ مکان تھا جس میں بیشن(بشن یعنی وشنو)نے رام کی شکل اختیار کی تھی”دیکھئے بابری مسجد شہادت سے قبل اور شہاد ت کے بعد،بحوالہ(منصف مینارہ نور22نومبر)اوپر کی تحریر سے یہ تو واضح ہو گیا کہ بابری مسجد ایک زمانے سے نشانے پر تھی،اور وہ دشمنوں کو کھٹک رہی تھی،ایک لمبی پلاننگ اور سازش کے تحت اس مسجد پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی مہم شروع کی گئی، جسکو بالآخر ہمارے ملک کی سپریم کورٹ نے آخری انجام تک پہونچادیا،اور اب بابری مسجد تاریخ کی ایک انتہائی مظلوم مسجد بن گئی۔
اس مسجد کو ملک کامسلمان اور آنے والی نسلیں ضرور یادرکھیں گی،بابری مسجد ہمارے دلوں میں تھی اوررہےگی،عدالت اگراس پر سوبار بھی فیصلہ سنادے تب بھی وہ جگہ مسجد رہےگی انشاءاللہ یہ ہماراایمان ہے، جب جب 6دسمبر آتارہے گا ملک کے مسلمان یوم سیاہ، مناتے رہیں گے اور شہادت بابری مسجد کی یاد تازہ کرتے رہیں گے،6 دسمبر کے موقع پر مسلمانوں کو کثرت سے دعاء واستغفار کااہتمام کثرت سے کرناچاہئے،زندہ قومیں وہ کہلاتی ہیں جو مصائب و مشکلات اور رنج وغم کے موقع پر اسکااظہار بھی کریں اور اس حادثے سے سبق لیں، عبرت حاصل کریں،اور پوری قوت کے ساتھ مسقبل کےلئے ایک مضبوط اور منصوبہ بند لائحہ عمل تیار کریں،مسجدوں سے ہمارا رشتہ کیسے مضبوط ہو؟ ہمیں اسکی بھی فکرکرنی چاہیے،ملت اسلامیہ انشاءاللہ قیامت تک رہے گی اورہمیں ہی غلبہ حاصل ہوگا،اورتاریخ نے بڑے بڑے ظلم کو دیکھا ہے ہرایک ظلم کی شام ضرورہوگی،لیکن بقول شخصے یہ بھی کہ
صبح ایک زندہ حقیقت ہے یقیناً ہوگی۔

Facebook Comments