تحریر:محمد قاسم ٹانڈؔوی

اس وقت اسلامی مُعاشرے کے ساتھ ساتھ تقریباً پورا انسانی معاشرہ جس درد و کرب اور بےچینی کا شکار ہے اسے یہاں نوک قلم لانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اور ویسے بھی حالات حاضرہ کی سنگینی اور موجودہ وقت کی مارا ماری پر ہر خاص و عام نے تقریبا گذشتہ تین ماہ سے قلم آزمائی کر رکھی ہے۔ اور ابھی اس موضوع پر کتنا لکھا جانا باقی ہے اس پر بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اس لئے کہ جب دنیا کی طاقتور حکومتیں اور ترقی پذیر ممالک ہی کورونا کی مہاماری میں بےبس و لاچاری کے شکار ہیں، جب یہی کوئی اس کے خاتمے اور سد باب کا کوئی تشفی بخش علاج اور پائیدار حل پیش نہیں کر پا رہے ہیں تو اہل علم و فن اور قلم کاروں کے بس کی کیا بات رہ جاتی ہے؟ یہ تو بس زیادہ سے زیادہ اس کے اثرات و مہلکات کے اعداد و شمار نوک قلم لا سکتے ہیں یا اپنی اپنی حکومتوں اور انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ تدابیر اختیار کرنے اور راہنما اپیلوں پر عمل کرنے کی طرف توجہ مبذول کرانے پر کچھ لکھ اور بول سکتے ہیں۔
بہر کیف ! ہمارے ملک میں اس مرحلے وار “لاک ڈاؤن” کو کم و بیش دو ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے ل، جبکہ اسی دوران شب معراج، شب برآت اور ماہ رمضان المبارک کے مقدس و مبارک ایام و لیالی سبھی آئے اور آ کر ہماری زندگیوں سے رخصت ہو گئے، یہ لیل و نہار اہل ایمان کےلئے کتنے اہم یا دنیا و آخرت سنورانے کےلئے کتنے ضروری ہیں اس بات کا اندازہ انہیں حضرات کو ہو سکتا ہے جو سال بھر ان کے انتظار میں اپنی پلکیں بچھائے رہتے ہیں۔ لیکن اس سال وہ سب اجتماعی عبادات سے لےکر معاملات تک خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے امور کی انجام دہی میں مشغول و مصروف ہیں، چناچہ اس دوران جیسے جیسے حکومتیں ہدایات جاری کرتی رہیں ہم ان پر عمل پیرا ہوتے رہے اور کسی بھی طرح کی اعتراض و تنقید کی آوازیں ہماری طرف سے نہیں اٹھیں، الحمدللہ کام بھی سارے ہوئے لیکن جس خوبصورتی اور اعلیٰ پیمانے پر ہونے چاہئے تھے، ویسے نہ ہو سکے اس کا ہر مسلمان کو سال دو سال نہیں بلکہ جب تک سانس میں سانس اور روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہے اسے ان ایام مصیبت کا دلی رنج و قلق رہےگا اور موقع آنے پر وہ بطور مثال ان ایام کا اظہار بھی کرےگا کہ ہم نے ایک ایسے وقت کا بھی سامنا کیا ہے جب:
“مساجد کے منبر و محراب آشوب و آگہی سے خالی ہو گئے تھے، جب کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے آئے روز یہ تلقین کی جاتی ہے کہ یہ دُنیا فانی ہے اس میں زیادہ الجھنے اور دل لگانے کی کوشش نہ کی جائے، بارہا یہاں سے لوگوں کے اذہان و خیال میں اس بات کو پیوستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو دین اور دنیا دو الگ راہیں ہیں، لہذا دین کو نمائشی انداز کی بُنیاد پر نہیں پرکھنا چاہئے بلکہ دنیا کو دنیاوی کردار سے اور دین کو آخرت کے نتائج سے مربوط کر کے دیکھنے کا رُجحان ہمارے اندر پیدا ہونا چاہیے، مساجد کے انہیں ممبر و محراب سے آخرت کے حُصول کے ذرائع پر محنت کشی، خلوت نشینی کے آداب، تلاوت قرآن کی طرف التفات اور فرائض و نوافل کی حد درجہ پابندی نیز معاملات کی صفائی، معاشرتی اعتبار سے رہن سہن کی پاسداری، قومی اجتماعیت اور اس کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کی خاطر ذاتی اغراض و مقاصد، برادرانہ تعصب، لسانی، علاقائی اور مسلکی اختلافات سے دوری بنائے رکھنے کی بار بار تاکید و تلقین، رسم و رواج اور بدعات و خرافات کی زنجیروں میں جکڑے ماحول سے دامن چھڑانے اور سماج و معاشرہ کو پابند شرع اور تعلیمات رسول (ﷺ) اور آثار صحابہ کے رنگ میں رنگنے کی مؤثر تدابیر اور بہتر و مناسب ذرائع سے معاشرے میں تبدیلی رونما کرنے کی اپیلیں، اپنے اموال کی زکوٰۃ اولاً حساب لگا کر نکالنے اور پھر اس کو اس کے مصارف میں خرچ کرنے کی رغبت دلانے، اس میں یتیم و مساکین کا خیال رکھنے، بےواؤں، بےسہارا افراد کا خاص طور پر دھیان رکھنے اور اہل مدارس و مکاتب کی ضروریات کی تکمیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور زیادہ سے زیادہ ان کا تعاون کرنا وغیرہ امور کی انجام دہی سب یہیں سے ہوا کرتی تھیں۔ الغرض ہماری یہ مساجد ہمارے اصلاح اعمال اور پختگئی ایمان کا پیمانہ اور پاور ہاؤس کی حیثیت سے کام انجام دیا کرتی تھیں۔
مگر افسوس ! ایک ناقابل دید وائرس اور معمولی جرثومے نے پورا نظام زندگی اُتھل پتھل اور رد و بدل کرکے رکھ دیا حتی کہ اس کے اثرات کے تئیں ایسا ڈر و خوف کا ماحول قائم کیا کہ لوگ اس کو انتہائی خطرات اور مہلکات گردان کر باہمی سلام و مصافحہ سے بھی محروم ہو گئے اور دور ہی دور سے خیر و عافیت جان کر وہاں سے رخصت ہونے میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی عافیت و سہولت محسوس کرنے لگے۔
چونکہ شریعت نے ہمیں قدرت الہی اور منشاء خداوندی کا مکلف بنایا ہے اور ایک مؤمن کو اسی کا پابند رہنا بھی چاہئے، اسی لئے ہم اپنے اکابر و علماء کے فرمان اور وقفہ وقفہ سے ان حضرات کی طرف سے آنے والی ہدایات و اپیلوں پر عمل کرتے رہے اور ہر اس نقصان کو خوش دلی سے برداشت کرتے ہوئے یہاں تک آ پہنچے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہوکر بھی رخصت ہو چکا اور آج اسی کش مکش کے عالم میں عید سعید کی آمد و بہار نیز اس کی حقیقی خوشیوں سے یکسر محروم ہو کر کوئی اہل خانہ سے دور تو کوئی سفر و حضر میں ان مبارک و مسعود گھڑیوں کو ترس رہا ہے اور اس موقع پر جو باہمی خوشیاں منائی جاتی ہیں ان سے مجبور و محروم ہے۔ مگر پھر بھی ہم ایک ذات واحد اور مالک کائنات کے دل سے شکر گزار ہیں اور اسی اعلیٰ و برتر ذات سے امید ہی نہیں بلکہ یقین کامل رکھتے ہیں کہ وہ جلد اور بہت جلد ہم اہل ایماں کو اپنی رضا و خوشنودی کا پروانہ عطا کرتے ہوئے ان مصیبت و پریشانی کے ایام سے نجات دلائےگا اور دنیا کے جن ظالم و جابر اور بدکردار لوگوں کی وجہ سے پورا انسانی معاشرہ اس وباء و بلا سے جوجھ رہا ہے، ان سب کو کیفر کردار تک پہنچا کر امن و امان اور راحت و سکون کی گھڑیاں میسر فرمائےگا (ان شاءاللہ العزیز) اسی لئے ہم نے پہلے بھی اپنے ایک مختصر پیغام میں اس بات کو واضح کیا تھا اور اب پھر اسی کا اعادہ کر رہے ہیں کہ یقین رکھئے اور اپنے پروردگار عالم سے پُرامید بھی رہئے کہ:
“نئے کپڑے جوتے پہن کر نماز دوگانہ بھی پڑھنے کو ملے گی اور عید کی خوشیاں بھی باہم منانے کو ملیں گی (إن شاءَ اللہ) لیکن کب…؟؟؟ یہ سوچئے ذرا…!!!
جبکہ صحت و تندرستی کی لازوال نعمت سے مالا مال ہوں گے اور زندگی جو باری تعالی کی ہمارے پاس ایک امانت ہے؛ اسے ہم اپنے پاس صحیح سلامت بر قرار رکھنے والے ہوں گے۔ (بس یہی دو آپشن ہیں ہمارے پاس آئندہ ان کاموں کی انجام دہی کےلئے ہیں) ورنہ اگر ہم نے لوگوں کی دیکھا دیکھی اور زمانہ کی سنگینی کو پس پشت ڈال کر وقت کی رو میں بہنے کی کوشش کی اور تیرے میرے کہنے میں آکر خریداری و شاپنگ کے واسطے مارکیٹ اور بازاروں کا رخ کر بیٹھے تو خدانخواستہ اگر وہاں پھیلی بلاء و وباء کے جان لیوا وائرس سے سابقہ پڑ گیا تو اب نئے کپڑے جوتے یا عید اور عید کی خوشیاں تو کیا میسر و مقدر ہوں گی، یقین جانئے اب نہ تو غسل و کفن نصیب ہونے والا ہے اور نہ ہی جنازہ کی نماز نصیب ہوگی؛ اور تو اور ہمارے عزیز و اقارب ہمارے آخری دیدار سے بھی محروم کر دئے جائیں گے…؟؟؟
اس لئے ہوشیار رہیں، محتاط رہیں، اپنے تئیں بھی اور اپنے اہل خانہ کی صحت و سلامتی کے واسطے بھی، اس لئے ان پُر خطر حالات میں ایک وفادار اور ذمہ دار فرد کی حیثیت نبھاتے ہوئے بہت ہی سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ احتیاط اور بچاؤ ہی میں بقا و تحفظ کا راز پوشیدہ ہے، جسے کسی بھی صورت نظر انداز کرنا مہنگا اور بہت مہنگا ثابت ہوگا۔
آئے ! ہم سب یہ فیصلہ اور پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس بار کی عید انتہائی سادگی سنجیدگی اور متانت و عاجزی کے دائرے میں رہ کر ہی منائیں گے اور جس حال میں بھی ہیں اپنے ساتھ اپنے پڑوسیوں کو شامل کرتے ہوئے اللہ کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے، اس کے غضب و غصے کو ٹھنڈا کرنے کی ہر ممکن کوشش و جستجو کریں گے۔(اللہ پاک ہم سب کا حافظ و ناصر ہو وہی بہترین کارساز و وکیل ہے؛ آمین)

Facebook Comments