تحریر:نسیم الحق زاہدی

ہیلو! جی کون؟ نسیم الحق زاہدی۔ ہم نے اخبار بھی چلانا ہے اور گھر بھی جانا ہے، آپ کو کس نے کہہ دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں؟ اتناسچ لکھنا کبھی کبھی گلے پڑ جاتا ہے، ہتھ ہولا رکھا کریں کٹ۔۔۔

میں یہ بات برملا مانتا اور جانتاہوں کہ مجھے لکھنا نہیں آتا، وہ روایتی کالم نگاروں والی تیزطراریاں نہیں آتیں۔ مجھ سے خوشامد نہیں ہوتی میں آنکھیں بند کر کے کسی کی اندھی تقلید کیسے کرلوں؟ جبکہ میں بصیرت رکھتا ہوں۔ میں ایک راہزن کو رہبر کیسے کہہ دوں؟ جبکہ اس کا باطن مجھ پر ظاہر ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی کریم ؐکے فرامین اور صحابہ اکرامؓ کی مثالی زندگیوں کو چھوڑ کر ایک مذہب کے بیوپاری کی خود ساختہ باتیں کیسے مان لوں؟ میر امسئلہ یہ ہے کہ میں اس ظلم، جبر، تشدد، استحصال کے خاتمے کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں، مگر میرے پاس کوئی اختیارات نہیں۔ میں برائی کو ہاتھ سے روکنا چاہتا ہوں پر طاقت نہیں، زبان سے روکنے کی ہمت نہیں، دل میں کڑھ سکتا ہوں اور لکھ سکتا ہوں مگر میرے لکھنے پر بھی اعتراض ہے۔

اکثر احباب مجھے سمجھاتے ہیں کہ نرم اور شگفتہ لکھا کرو ۔سچ کبھی نرم اور شگفتہ ہوسکتا ہے؟ ورنہ مارے جاؤ گے، آج ہر بندہ جنت میں جانے کا خواہش مند ہے اور ہماری نیکیاں کرنے کی وجہ بھی حصول جنت کی رنگینیاں ہیں، اس کے حصول کے لیے مرنا بھی لازم ہے مگر مرنا کوئی نہیں چاہتا۔ سقراط کا مسئلہ یہ تھا کہ سقراط نے اپنے سے پہلے دانشوروں کے برخلاف دنیا کو ایک نئے انداز مبحث سے متعارف کروایا۔ گو کہ اس کا طریق بحث فسطائیت کا حامل تھا لیکن ہم اسے عام مناظرہ نہیں کہہ سکتے۔ وہ دھونس یا ضد بازی نہیں بلکہ علمی اور منطقی بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتا اور دلائل سے لوگوں پر حقیقت ثابت کرتا تھا۔ وہ پے درپے سوالات کرتا اور پھر دوسروں پر ان کے عملی اور منطقی دلائل کے تصادات عیاں کرتا اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر ایسا مدلل جواب سامنے لاتا جسے مخالفین بھی تسلیم کرتے۔

سقراط کے نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ توحید پرستی اور دین برحق کے فلسفہ مذہب و اخلاق کے بے حد قریب تھا۔ اس کے نظریات کا خلاصہ کچھ یوں ہے: موت ایک حقیقی مجرد اور تنہا ہے اور جسم سے جدا حقیقت ہے۔ جسم کی موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی آزادی کی اک راہ ہے۔ لہذا موت سے ڈرنا بزدلی اور حماقت ہے، جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ انسان کو انصاف و ظلم، اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا رکھنی چاہیے۔ سقراط پر جو تین بڑے الزام لگائے گئے ان میں پہلا الزام یہ تھا کہ یہ شخص ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے۔ یہ ہمارے مقدس دیوتاؤں کو نہیں مانتا۔ یہ شخص ایک ایسے الگ خدا کا تصور پیش کرتا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا۔ یونان کی تاریخ کی سب سے بڑی عدالت لگی، سقراط اپنی صفائی کے دوران اپنے علم اور دانائی سے پورے مجمع پر چھا گیا، مگر اہل حکم پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے۔ فیصلہ کے تحت سقراط کے پاس دو راستے تھے یا شہر چھوڑ دیتا یا اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی لیتا۔ سقراط نے وہی کیا جو ایک حق پرست کو کرنا چاہیے تھا۔ اگر سقراط زہر کا پیالہ نہ پیتا تو وہ آج حق پرستوں کے قبیل کا سرخیل نہ بنتا۔ سقراط دور حاضر کے قلم فروش، ضمیر فروش، ابن الوقت سیاسی مداریوں کی طرح بھگوڑا اور بزدل نہیں تھا کہ موت کے خوف سے حق اور سچ کا ساتھ چھوڑ کر ملک چھوڑ کر بھاگ جاتا بلکہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی کر ایک انمٹ تاریخ رقم کی۔

آج میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں کیسے مان لوں کہ ہم آزاد ہیں جبکہ ہم نسل در نسل غلام ابن غلام ہیں۔ صدیوں پہلے بھی ہر طاقت ور ہر قسم کے حقوق کا مالک ہوتا تھا اور آج بھی ہر طاقتور ہر قسم کے حقوق کا مالک ہے۔ حق اور سچ کی تعریف طاقت ہے۔ میں جہاں ان فرسودہ روایات کا منکراور باغی ہوں وہاں پر ان اخلاقی قدروں اور اسلامی اشعائر جن کو آج کی بےراہ روی کی شکار ملحد اور سیکولر ذہینت کی مالک نوجوان نسل فرسودگی اور قید وقیود کا نام دیتی ہے، میں ان روایات کا امام ہوں۔ میں کیسے ان ضمیر فروش اہل قلم کے قبیل کا فرد بن جاؤں جنہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قصیدہ گوئی کو اپنا مقصد زیست سمجھا اور آج بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں اور حقیقی اور نظریاتی لکھنے والے آج بھی ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ان کے گھروں میں آج بھی افلاس کا ننگا ناچ ہوتا ہے۔ میں ناانصافی پر قائم معاشرے کو کیسے پرامن معاشرہ لکھ دوں؟ جہاں روٹی کے چوروں کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہو اور ملک لوٹنے والوں کو سرکاری پروٹوکول۔ وہ پوچھا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ریلی میں گاڑی کے نیچے آ کر جاں بحق ہونے والا معصوم بچہ جس کو خواجہ سعد رفیق نے اس فقید المثال قافلہ حق کا پہلا شہید قرار دیا تھا، اس کو انصاف مل گیا ہے؟ پوچھنا تھا کہ سانحہ ساہیوال کے مظلوم بچوں کی آہ وپکار سن کر منصف نے حشر اٹھا دیا ہے؟ پوچھنا تھا کہ ریاست مدینہ ثانی بنانے کا دعویٰ کرنے والے حاکم وقت سے کہ آپ نے کبھی کسی غریب کی کٹیا میں آکر دیکھا ہے کہ اس کے پاس مرنے کے بھی پیسے نہیں، کیونکہ لاہور کے اندر ایک تدفین پر تقریباًبیس ہزار روپے خرچہ آجاتا ہے۔ جس دور میں مرنا بھی مشکل ہو جائے اس دور میں جینے کی بات کتنا بڑا مذاق ہے۔ کون کہے حاکم وقت سے کس کی مجال ہے کہ ’’ریاست مدینہ کے حکمران رات بھیس بدل کر دوران گشت بلاواسطہ عوام الناس کے دکھ سنا کرتے تھے ۔‘‘

کرپشن کرپشن کا خاتمہ کرتے کرتے غریبوں کو کریش کرنا شروع کردیا گیا ہے ریاست مدینہؐ کی مثال دینے سے پہلے ریاست مدینہ ؐکا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں مدینہ منورہ کی معیشت کا سارا انحصار یہودیوں کی سودی کاروبار پر تھا مگر حضور اکرم ؐ نے مہاجرین سے یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی یہودیوں سے سود پر قرض لے کر اپنا کاروبار شروع کر دو، بلکہ آپؐنے انصار مدینہ سے فرمایا کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور پھر قرض حسنہ کا نظام رائج فرمایا۔ جب معاشرے کے افراد عملاًباہمی تعاون کے ذریعے بلاسود قرضوں پر معیشت کو قائم کرنے میں لگ گئے تو آپؐ نے سود کو مکمل طور پر حرام قراد دیکر اس لعنت کو ختم کردیا۔ آپؐ نے مواخات کا درس دیکر رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے مثال قائم کردی کہ معاشرے سے غربت و تنگ دستی کا خاتمہ کیونکر ممکن ہوا۔ مواخات کے طرز عمل نے مسلم معاشرے کو استحکام بخشا اور اسے ہر جارحیت کے خلاف مجتمع ہوکر لڑنے میں مدد دی۔ سود پہ سود آئی ایم ایف سے قرضہ پھر قرضہ پہ قرضہ۔ آج کے چند ناعاقبت اندیش وزاء اور خودساختہ دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ چودہ سوسال پہلے کی دینا نہیں بلکہ اکیسوی صدی کی نئی نسل نئے مسائل ہیں تو ان کے منہ پر طمانچہ جو اللہ رب العزت نے اور رہبر انسانیت حضرت محمدؐ نے چودہ سوسال پہلے فرمادیا تھا وہ ہر بات آج سچ کیوں ثابت ہو رہی ہے۔

Facebook Comments