تحریر: آفتاب احمد منیری
ریسرچ اسکالر: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی

تعمیری پسند ادب یعنی ادب ادب برائے تنقید حیات تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ ادبیات عالم کی تاریخ۔ اگر اس جملے کی توضیح پیش کریں تو ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ادب ان رہنما اصول سے خالی نہیں جن کے زیر اثر زندگی نمو پزیر ہوتی ہے۔ اگر قدیم مشرقی تہذیب اور اس کے روشن ماضی کے سیاق میں تعمیر پسند ادبی تصورات کا جائزہ لیں تو یہ بات ضو فشاں ہوتی ہے کہ تعمیر پسند ادب اسلامی قدروں کی پاسبانی اور اس کے فروغ کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیقی کاوشوں کا نام ہے۔
اگر تاریخ ادب اردو پر طائرانہ نظر ڈالیں تو الطاف حسین حالی، علامہ شبلی، سر سید، اکبر الہ آبادی، اسماعیل میرٹھی، ماہرالقادری، عامر عثمانی، ابن فرید اور حفیظ میرٹھی جیسے نابغہ روزگار ادیبوں/ شاعروں کے نام ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ تحریک ادب اسلامی کا حلقہ اثر بڑھتا گیا اور تقسیم وطن کے بعد پیدا ہونے والی نسل ایسے مثالی ادب پارہ کی تلاش میں ادب اسلام کے دامن سے وابستہ ہوئی جو اسے اندھی مادیت کے دور میں قلبی اطمینان و سکون کی دولت سے بہرہ مند کرے۔ معاصر ادبی منظر نامے میں جن ممتاز تخلیق کاروں نے زندگی کی اعلیٰ ترین قدروں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ان میں ایک اہم ترین نام ”جمیل اختر شفیق “ کا بھی ہے۔
جمیل اختر شفیق نے اپنی شاعری کی ابتدا غزلوں سے کی اور حسب روایت کلاسکلی اردو شاعری کی پیروی کرتے ہوئے عشق کی داخلی کیفیات نیز ستم ہائے روزگار کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔
ان کے یہ اشعار شاعر کے سوز دروں کی خوبصورت ترجمانی کرتے ہیں
ترے ساتھ رہ کے بھی کیا ملا
وہی روز و شب کی اذیتیں
میں غموں کا ایسا لفاف ہوں
جو پڑا ہوا ہے کھلا نہیں
یہ جو آنسوں کا بہاو ہے
کہیں دھوپ ہے کہیں چھاوں ہے
یہ بھی ہیں کسی کی عنایتیں
مجھے زندگی سے گلا نہیں

جذبات انسانی کے سوز و ساز کو جس تخیل آفرینی اور نفاست بھرے انداز میں شاعر موصوف نے پیش کیاہے وہ لائق ستائش ہے۔ زبان کی شائستگی اور انسانی قدروں کا احترام جمیل اختر شفیق کے شاعری کا وصف خاص ہے۔ ان کا یہ وصف ان کے قومی و ملی شاعری میں نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ لہٰذا اپنی غزلوں میں زیست کے جلوہ صد رنگ کی ترجمانی کرنے والا یہ شاعر رنگیں نوا جب اپنی ذات سے بلند ہو کر مشرق کی عظمتوں کے گیت کاتا ہے تو اس کے اشعار ذہن و دل کی دنیا میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک نظم بعنوان ”مسلم نوجوانوں سے خطاب“ انہیں کی پر سوز آواز میں سننے کا موقع ملااگر مبالغہ نہ ہو تو کہنے سے باز نہیں رہا جا سکتا کہ اس نظم کا ایک ایک لفظ امت مرحوم کی محبت میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔ فکری و نظریاتی اعتبار سے شاہکار کا درجہ حاصل کرنے والی یہ نظم اس تحریر کا محرک بنی ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال نوجوانان ملت اسلامیہ کی موجودہ طرز زندگی اور ان کا مقصد حیات ہے۔ نظم کی ابتدا قاری کی فکرمہمیز کرتے ان اشعار سے ہوتی ہے۔
دکھا دو متحد ہو کر قوی دیوار ہو جاو
تمہیں منزل پہ جانا ہے چلو تیار ہو جاو
نبی ﷺ کے راستے رپر عمر بھر چل کر دکھانا ہے
تمہیں توحید و سنت کے چراغوں کو جلانا ہے
نیابت تم کو کرنی ہے قیادت تم کو کرنی ہے
ابھی دنیا کے نقشے پر امامت تم کو کرنی ہے
رہو آپس میں تم ایسے کے یار غار ہو جاو۔۔۔

محبت رسول ﷺکے مقدس جذبات سے آبرو مند یہ اشعار براہ راست شیشہ دل پر دستک دیتے ہیں۔ پر شکوہ الفاظ اور عالمانہ اسلوب میں تخلیق کئے گئے ان اشعار کا نظریانی پہلو نہایت با معنی اور اثر انگیز ہے۔ ان اشعار کے ذریعہ قوم مسلم کو ان کا منصب یاد دلایا گیا ہے۔ یہی مہتم بالشان فریضہ ہے جس کی بنیاد پر اس قوم کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم ہونے کا اعزاز بخشا گیا۔ ہماری موجودہ نسل کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اسے اپنے نبی محمد ﷺ کی سیرت معلوم نہیں اور نہ ہی اسے اس با ت کا علم ہے کہ اس کا مقصد حیات کیا ہے۔ ایسے مادہ پرستانہ ماحول میں شاعر کی یہ نوائے پر سوز بھٹکے ہوئے آہو کو بھر سوئے حرم چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔
ان اشعار میں اس قوم کا تعارف پیش کیا گیا ہے جس کے سر پر خلافت ارضی کا تاج سجایا گیاتھا اور جو امت ”امربالمعروف اور نہی عن المنکر“ کی بنیاد پر ”خیر امت“ بنی تھی۔ جس قوم رسول ہاشمی کی تاریخ اسے اخوت و محبت اور ایثار و قربانی کا سبق دیتی ہے، اگر اس امت کو اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرنا ہے تو اسے امام کائنات ﷺ کی سنتوں کی زندہ کرنا ہوگا۔اس پیغام حیات کو کمال فن کے ساتھ جمیل اختر شفیق نے اشعار کے سانچے میں ڈالا ہے۔ بطور خاص شعر آخر اسوہ رسول ﷺ کی عظمتوں کا پر کیف احوال پیش کرتا ہے۔
نیابت تم کو کرنی ہے قیادت تم کو کرنی ہے
ابھی دنیا کے نقشے پر امامت تم کو کرنی ہے
رہو آپس میں تم ایسے کے یار غار ہو جاو۔۔۔
نظم کا دوسرا بند تاریخ ہند کے تناظر میں مسلمانوں کی عظیم قومی خدمات نیز ان کے مجاہدانہ کارناموں کی روداد بیان کرتا ہے۔ اس بند کی سب سے بنیادی خصوصیت اس کا دلکش اسلوب اور تکرار لفظی کا حسن ہے جو خیال کو معنویت کا رمز عطا کرتا ہے۔

گلستاں جب بھی اجڑا تم نے ہی آباد کروایا
تم ہی نے خون دے کر ملک کو آزاد کروایا
تمہیں کیا خوف ہوگا کفر کی دشوار گلیوں سے
محافظ منبرو محراب کے تم ہی ہو صدیوں سے
وطن کے دشمنوں کے سامنے للکار ہو جاو۔۔۔
مذکورہ اشعار کا فکری کینوس بہت وسیع ہے۔ یہاں وطن عزیز ہندوستان کی آزادی کے لئے مسلمانان ہند کے ذریعہ پیش کی گئی عظیم قربانیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ہماری قومی تحریک آزادی! یعنی تاریخ ہند کا ایک ایسا باب جس کا ہر صفحہ مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہے۔ شیرمسیور ٹیپو سلطان سے لے کر علمائے دیوبند اور علمائے صادقپور نیز امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد تک یہ فہرست بڑی طویل ہے۔ جن علمائے ربانین نے آزادی کے خواب کے شرمندہ تعبیر کرنے لیے اپنا سب کچھ مادر و وطن کی نذر کر دیا اور اسی کی خواب میں ابدی نیند سو رہے۔
شاعر کی فنی بصیرت لائق تحسین ہے کہ اس نے تخیل آفرینی کے حسن امتزاج کے ساتھ اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد کیا ہے۔ ان اشعار کو ایک بار پھر پڑھیے اور شاعر کی فنی ہنرمندی کی داد دیجئے۔
گلستاں جب بھی اجڑا تم نے ہی آباد کروایا
تم ہی نے خون دے کر ملک کو آزاد کروایا
تمہیں کیا خوف ہوگا کفر کی دشوار گلیوں سے
محافظ منبرو محراب کے تم ہی ہو صدیوں سے
وطن کے دشمنوں کے سامنے للکار ہو گاو۔۔۔
یوں تو اس نظم کا ہر بند اس لائق ہے کہ اس پر بھرپور انداز میں گفتگو کی جائے مگر طوالت کے خوف سے میں اپنی گفتگو کا دائرہ ایک بند تک محدود رکھنے کی کوشش کروں گا جو در اصل اس نظم کی روح ہے۔ تجزیاتی گفتگو سے قبل یہ بند ملاحظہ ہو۔
محبت کا ، وفا کا، پیار کا نغمہ سناتا ہے
یہی اسلام ہے جو سب کو سینے سے لگاتا ہے
بتا دو اہل باطل کو کہ ہم ایمان والے ہیں
یہ دنیا مر مٹے اخلاق پہ وہ شان والے ہیں
سجا لو دل میں تقویٰ صاحب کردار ہو جاو۔۔۔
مذکورہ اشعار کو میں نے اس نظم کی روح قرار دیا ہے۔ اس انتخاب کا بنیادی سبب وہ نفیس بیان ہے جس نے تار نفس میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ہماری شاعری میں دین رحمت اسلام کے محاسن کا تذکرہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور مولانا حالی سے لے کر شاعر مشرق اقبال کے عہد تک شعرا کی ایک عظیم تعداد ہے جس نے اسلام اور شعار اسلام کے بیان سے اپنی شاعری کو آبرو مند کیاہے۔ مشرقی شعریات کی اس دیرینہ روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جمیل اختر شفیق نے نہایت اختصار کے ساتھ اسلام کے نظریاتی افتخار کو بیان کر کے در یا کوزے میں سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ شاعر نے ایک نظریہ ساز مبلغ کی طرح ان تمام اعلیٰ ترین اخلاقی قدروں کو شعری اظہار بخشا ہے جو انسانی معاشرہ کو حیات نو عطا کرتے ہیں وہ اعلیٰ ترین اخلاقی قدرویں، جن کی عدم موجودگی میں انسانیت کے تن مردہ میں زندگی کی روح نہیں پیدا ہو سکتی۔
نظم کے اس خوبصورت بند میں دین رحمت اسلام کی ان تمام روشن تعلیمات کا عکس موجود ہے جنہیں دنیا میں نافذ کر کے ہر قسم کے ظلم و جبر اور قتل و غارت گری نیز انسانی قدروں کی پامالی سے انسانی معاشرہ کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔ مثلاً یہ شعر دیکھئے۔
محبت کا ، وفا کا، پیار کا نغمہ سناتا ہے
یہی اسلام ہے جو سب کو سینے سے لگاتا ہے
اس شعر میں پنہا خیال کا راست تعلق انسانیت کے سب سے بڑے محسن حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہے۔ آپ ﷺ کے بلند اخلاق کی گواہی قرآن نے دی۔ آپ ﷺ کی امانت و صداقت کے اپنے تو کیا غیر بھی معترف تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی شکل میں دنیا کی بہترین جماعت تشکیل فرمائی، دنیا کے اس بہترین انسانی گروہ نے تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی بکھیر کر اس کرہ ارضی کو امن و آشتی اور اخوت و محبت کا گہوارہ بنادیا۔ ظلم کے تاریک سائے رخصت ہوئے اور انصاف کی قندیل ہر چہار جانب روشن ہوئی۔ رحمت کائنات ﷺ کی یہ امت آج بھی دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن آج وہ مادی دنیا کے ہنگاموں میں الجھ کر اپنے نبی ﷺکی سیرت طیبہ کو فراموش کر بیٹھی ہے۔ اسے اخوت اسلام کا وہ سبق یاد نہیں رہا جس نے دلوں کو فتح کیا تھا اسے اب ایثار و قربانی اور عدل و مساوات جیسے الفاظ کی عظمت کا پیاس نہیں رہا۔ ایسے عالم اضطراب میں شاعر کا دل بے چین ہوتاہے اور وہ تنقید حیات کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ایسے انقلابی اشعار کی تخلیق کرتا ہے جو حال کی مایوسیوں کو شکست فاش دیکر روشن مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں تحریک ادب اسلامی کے تناظر میں جمیل اختر شفیق کی اس نظم کو کچھ اسی انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments