تحریر:فہیم اختر،لندن

پچھلے کئی ہفتوں سے روزانہ کشمیر کے حوالے سے ایک خبر اخباروں میں شائع ہورہی ہے کہ کشمیر میں کرفیو اب بھی جاری ہے۔ یا کشمیر کو لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ سمیت زیادہ تر ممالک میں امن پسند لوگوں میں ایک اضطرابی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آخر کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کر کے کون سا امن قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔میں نے کشمیر کے حوالے سے پہلے بھی اپنا قلم اٹھا یا تھا ۔ کشمیر ایک ایساحساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے کہ اس کے متعلق کچھ کہنا اور لکھنا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ زیادہ تر کشمیری مسلمان ہیں اور اگرایک مسلمان اس مسئلہ پر کچھ کہتا ہے تو دیگر لوگ کشمیر کے مسئلے سے ہٹ کر آپ کے عقیدہ اور خدوخال سے الجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب اسے بدقسمتی کہا جائے یا دیدہ دانستہ فعل کہا جائے۔ دراصل ہم سب اسی چکر ویو میں الجھ گئے ہیں اور ظالم اپنی زیادتی کو ایک نیک قدم بتا رہا ہے۔

اس بات سے میں کافی پریشان ہوتا ہوںکہ اگر کشمیر کی حمایت میں بات لکھوں تو ہندوستانی حکومت مجھے پڑوسی ملک کا حمایتی سمجھے گی اور اگر کشمیریوں کے خلاف لکھوں تو میرا ضمیر مجھے ہمیشہ دھتکارتا رہے گا۔ لیکن میرے صبر کا پیمانہ آخر چھلک ہی گیا اور میری بے باکی نصیحت اور سچائی نے آج مجھے کشمیر کے حالات سے دوچار لوگوں کی آہ اور بے بسی پر قلم اٹھانے پر مجبور کر ہی دیا ۔پھر میں نے اپنی بزدلی کا گلا گھونٹ کر طئے کیا کہ کشمیر کے حالات پر قلم اٹھایا جائے جہاں کے معصوم لوگ اپنی بات منوانے کی خاطر دو ملکوں کی ہٹ دھرمی کی چکی میں پچھلے کئی سالوں سے پِس رہے ہیں۔
برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کشمیر کے حوالے کہیں احتجاج ہورہا تو کہیں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔مختلف ممالک کی پارلیمنٹ میں کشمیر کی بگڑتی حالات پر سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہت سے دانشور اور سیاستداں ہندوستان کے رویہ سے تشویش میں بھی مبتلا ہیں۔لیکن ہندوستانی حکومت اپنی طاقت کے نشے میں فوج کا سہارا لے کر کشمیری عوام پر ظلم کی ہر حد کو پار کر چکی ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو بلا وجہ گرفتار کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے اور لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔
دراصل کشمیر میں ایک عرصے سے لوگوں میں ہندوستانی حکومت کے خلاف نفرت بھڑکی ہوئی ہے۔ البتہ ہندوستان میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے جب سے ہندوستانی آئین کی شق 370کو منسوخ کیا ہے تب سے کشمیر کی حالت ابتر ہے۔ آرٹیکل 370کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور ریاست کے باشندوں کی بطور مستقل باشندہ پہچان ہوتی تھی اور انہیں بطور مستقل شہری خصوصی حقوق ملتے تھے۔ جس ے کشمیر کا ایک بڑا طبقہ ہندوستان کا حامی اور اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتا تھا۔تاہم ہندوستانی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام بنانے کا مقدس فیصلہ کیا گیاہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کہ جموں و کشمیر میں سیکوریٹی کی صورتحال اور مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لئے ایسا قدم اٹھا گیا ہے۔1847میں ڈوگرہ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ امرتسر پر دستخط کے اور جموں و کشمیر کا علاقہ خرید لیا۔1930کی دہائی میں جموں و کشمیر کی پہلی اہم سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس وجود میں آئی۔ کشمیری مسلمان اپنے مہا راجہ ہری سنگھ کی متعصبانہ پالیسیوں سے خوش نہ تھے۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ نے’ کشمیر چھوڑ دو‘ تحریک کی قیادت کی۔1947میں بر صغیر کی تقسیم کے موقع پر جونا گڑھ،حیدرآباد اور جموں و کشمیر کی ریاستوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ خود مختار رہیں یا پھر ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی کے ساتھ مل جائیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے حالات کو جوں کا توں رکھنے کا فیصلہ کیا۔1949میں شیخ عبداللہ نے ہندوستانی آئین میں آرٹیکل 370کی شمولیت پر بات چیت کی۔1950میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دے دیا گیا۔
کشمیر میں مظاہرین اور سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپ میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی ہے اور کرفیو میں اب تک کوئی ڈھیل نہیں دی گئی ہے ۔ جس سے عام لوگوں کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور کشمیر وں کی ہمدردی میں ہندوستان سمیت دنیا کے کئی شہروں میں احتجاج بھی ہورہا ہے۔ لیکن کشمیر کے حالات کے خراب ہونے اور قابو سے باہر ہونے پر ہندوستانی حکومت کا رویہ بالکل بر عکس ہے۔ہندوستانی حکومت کی سختی کی وجہ سے ہندوستان کے کئی نامور لیڈران کو کشمیر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

لیکن یوروپی پارلیمان کے 28اراکین پر مشتمل ایک وفد نے حال ہی میں کشمیر کا دورہ کیا تھا جس پر سوالات اٹھائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔یوروپی پارلیمان کے دورے کا انتظام کرنے والی خاتون مدھو شرما جنہیں ماڈی شرما بھی کہا جاتا ہے جس نے اس دورے کا اہتمام کیاتھا۔ہندوستانی نژاد برطانوی خاتون ماڈی شرماجو کبھی گزر اوقات کیلئےآلو بھرے سموسے فروخت کیاکرتی تھیں۔1989میں کشمیر میں جب دو گروپ نے احتجاج کرنا شروع کیا تو کشمیر کے حالات تب سے بد سے بد تر ہونے لگے۔ ایک گروپ نے کشمیر کی آزادی کی مانگ کی تو دوسرے گروپ نے پڑوسی پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی تحریک چلائی۔جس کے بعد سے کشمیر کے نوجوان کشمیر میں مسلسل تشدد اور احتجاج کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ نوجوان آئے دن صرف کرفیو، گرفتاریاں،ناکہ بندی،حراست میں ہلاکت،سیکورٹی فورس کی زیادتی اور عصمت دری کی ہی خبر سنتے رہتے ہیں جس سے کشمیریوں کا ہندوستانی حکومت پر اعتماد اٹھ چکا ہے۔1989میں جب میں کلکتہ یونیور سٹی میں ایم اے کا طالب علم تھا تو میں اپنے چند اساتذہ اور ساتھیوںکے ہمراہ ایجوکیشنل دورے کی غرض سے ایک ماہ کے لئے کشمیر گیا تھا۔مجھے آج بھی یہ بات یاد ہے جب ہم سرینگر سے واپس جمّوں آرہے تھے تو راستے میں چند لمحوں کے لئے
ہماری بس کچھ کھانے پینے کے لئے ایک ریسٹورنٹ کے پاس رکی۔ سبھی لوگ ریسٹورنٹ میں کھانے پینے میں مصروف تھے کہ قریب ہی بیٹھی ایک بوڑھی کشمیری عورت سے میری ملاقات ہوئی جو جموّں سے کشمیر جارہی تھی۔ سلام و کلام کے بعد اس خاتون نے کہا کہ میں سرینگر جا رہی ہوں اور کشمیر کے حالات آج کل اچھے نہیں ہیں۔میں نے ان سے بر جستہ پوچھا کہ کیا وہ کشمیر کی آزادی چاہتی ہیں؟ انہوں نے فوراً مجھے جواب دیا’ یقیناً‘ اور انہوں نے پھر بتا یا کہ میرے دو بیٹے ہیں اور میں چاہونگی کہ کشمیر کی آزادی کے لئے میرا ایک بیٹا شہید ہوجائے۔اسی دن مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کا مسئلہ نہیں ہے بل کہ کشمیر کا مسئلہ صحیح معنوں میں کشمیریوں کا ہے جسے دو ملکوں کی آپسی نفرت نے الجھا رکھا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاکشمیر کا مسئلہ آرٹیکل 370 کو ختم کردینے سے حل ہو جائے گا؟ مجھے نہیں لگتا کہ آرٹیکل لگانے یا ہٹانے سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کشمیریوں کے زخم کو بھرنا ہوگا اور ان کی بات کو سمجھنا ہوگا ۔ ان کی ریاست کے تمام معاملات میں ان سے مشورہ اور انہیں شامل رکھنا ہوگا۔ تبھی ہم کشمیر میں امن و امان دیکھ سکے گے۔میں ساحر لدھیانوی کے اس شعر سے اپنی بات کو ختم کر تا ہوں کہ:۔

 ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
www.fahimakhter.com

Facebook Comments