✍️⁩⁦✍️⁩عرفان احمد ازہری

عام طور پر ہم مسلمانوں کی یہ صورتحال ہے کہ اگر کسی نے یہ افواہ اڑا دیا کہ کوّا کان لے گیا تو ہم بنا کچھ سوچے سمجھے کَوّا کے پیچھے دوڑ لگا دیتے ہیں۔ کل سے فیسبک پر کنہیا کمار کو عمر خالد سے جوڑ کر ایک مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہمارے مذہبی دانشور تو مذھب کے نام پر اتنے جلد جذباتی ہوجاتے ہیں کہ اسلام یا مسلمانوں سے کوئی قضیہ ملحق کر دیجیے وہ فوراً تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور معاملہ کے دیگر پہلوؤں پر غور کرنے کے بجائے بس اسی سمت میں ان کی فکر کا گھوڑا قلانچیں مارنے لگتا ہے جدھر سے ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا گیا ہو تاہے۔ گزشتہ ایک دو دن پہلے کچھ سنگھی ایجنٹوں نے سوشل میڈیا پر یہ شوشہ چھوڑا کہ کنہیا کمار اور عمر خالد ایک ساتھ جے این یو کی دہلیز سے ہاتھ تھامے ہندوستانی سیاست کےافق پر نمودار ہوئے اور پھر کنہیا کمار ہندوستانی سیاست ایک اہم قضیہ بن گیا اور اس کا ساتھی عمر خالد گمنامیوں کے اندھیرے میں گم ہوگیا۔ دلیل یہ پیش کی گئی کہ کنہیا کمار کا تعلق اونچی ذات بھومیہار سے ہے اس وجہ سے اسے ملکی میڈیا کی توجہ ملتی رہی اور عمر خالد چوں کہ مسلم ہے اس لیے میڈیا نے اس کی طرف توجہ نہیں دی اور آج وہ وہیں کھڑا ہے جہاں کل تھا اور اس کا رفیق کنہیا کمار سیاست کے افق پر بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہم نے اپنے کچھ دانشور دوستوں کا افسوس بھرا کچھ اس طرح کا تبصرہ بھی پڑھا کہ “مسلمانوں نے عمر خالد جیسے ہونہار اور باصلاحیت لیڈر کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی حالانکہ وہ کنہیا کمار سے بھی زیادہ باصلاحیت ہیں وغیرہ وغیرہ”۔ لیکن دونوں کے پس منظر کو دیکھا جائے تو ہمیں اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ کنہیا کمار آگے کیسے بڑھ گئے اور عمر خالد پیچھے کیسے رہ گئے؟
کنہیا کمار کے خاندانی پس منظر میں کوئی سیاسی شخصیت نظر نہیں آتی، اور نا ہی ان کے والدین اعلی تعلیم یافتہ ہیں، ایک عام گھرانے سے ان کا تعلق ہے والد کسان ہیں اور والدہ آنگن باڑی میں چھوٹے بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ کنہیا کمار کی نظریاتی وابستگی کمیونسٹ جماعتوں سے ہے اور یہ اتفاقی چیز نہیں ہے بل کہ یہ چیز انہیں وراثتاً ملی ہے۔ کنہیا کمار کا تعلق بہار کے ایک ایسے ضلع سے ہے جو ہمیشہ سے کمیونسٹوں کا گڑھ رہاہے۔ اس لیے ہمیشہ سے کمیونسٹوں کی نظر کنہیا کمار پر رہی اور ان کی پشت پناہی کی وجہ سے ہی آج وہ جہاں ہیں انہیں ساری دنیا دیکھ رہی ہے اب رہا یہ سوال کہ کنہیا کے ساتھی عمر خالد بھی تو کمیونسٹ نظریات کے حامل ہیں تو کمیونسٹوں کی نظر کرم عمر خالد پر کیوں نہ ہوئی؟ اس سوال کا جواب ہمیں عمر خالد کے پس منظر کو دیکھنے کے بعد واضح طور پر مل جائے گا۔
کنہیا کمار کے برعکس عمر خالد کا تعلق ایک تعلیم یافتہ، اونچے اور بااثر خاندان سے ہے اور خاندانی پس منظر میں کسی بااثر چہرہ کو ڈھونڈنے کے لیے ادھر اُدھر یا بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے خود ان کے والد سید قاسم رسول الیاس جہاں ایک طرف ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ہیں تو دوسری طرف جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس مشاورت کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ کے بھی رکن ہیں اور کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔ اب بھلا دم توڑتی کمیونسٹ ہندو انتہاء پسندی کے ماحول میں ایسے کسی شخص میں کیوں دلچسپی رکھیں جس کا خاندانی پس منظر اتنے مذہبی تمغوں کے ساتھ سجا ہوا ہو؟!! جب کے کنہیا کے ساتھ ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق اونچی ذات بھومیہار سے ہے جن کا بیگو سرائے میں دبدبہ ہے۔ عمر خالد سے مسلمانوں کی دوری کی بھی دو وجہیں ہیں پہلی وجہ ان کے نظریات کے وجہ سے ہے انہوں نے بعض انٹرویو میں خود کو ملحد کہا تھا اگر واقعی عمر خالد نظریاتی طور پر لادینیت کے شکنجے میں جکڑے ہیں تو مسلمانوں کے لیے ان میں اور کنہیا میں کوئی فرق نہیں ہے، دوسری وجہ ان کے والد کی جماعت اسلامی سے وابستگی ہے جس کی سرگرمیاں ہمیشہ مشکوک رہی ہیں۔
ہمارے بعض دوستوں کو کنہیا کمار کی اپنے قریبی دوست عمر سے بے وفائی کا شکوہ بھی ہے کہ انہوں نے پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت جہاں ملک کے طول وعرض سے اپنے دوستوں کو مدعو کیا وہیں عمر خالد کو نہوں نے اتنے اہم موقعہ پر فراموش کردیا۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جہاں مقابلہ بی جے پی کے فائر برانڈ گری راج سنگھ سے ہو تو وہاں عمر خالد جن پر کنہیا کمار کے ساتھ غداری کا مقدمہ درج ہو اور نام مسلمان کا ہو اسے پرچہ نامزدگی میں بلاکر اپنے پیر پر کلہاڑی کون مارے؟!

Facebook Comments