تحریر:ابرار احمد مکی

کرنل معمر قذافی کے بعدلیبیا اب عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ اس ملک کی سیاست میں متعدد ممالک کی بڑھتی دل چسپیوں نے بہت سے سوالات کھڑے کردئے ہیں جو خود لیبیا کے پرامن مستقبل کے لیے انتہائی توجہ طلب ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف ترکی اس ملک کی دستوری حکومت سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے،وہیں مصر اور عرب امارات بھی باغی کمانڈر خلیفہ حفتر کی پشت پناہی کرتے ہوئے لیبیا کی سیاست کو ایک اوررخ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس لیے اس صور ت حال میں متحدہ لیبیا کا مسئلہ ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔ لہذا اس ملک سے جڑے ہوئے چند عالمی مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
چند ماہ قبل لیبیا اور ترکی کے درمیان سمندری نگرانی اور فوجی تعاون کے معاملات پر سمجھوتے ہوئے ہیں۔ ان سمجھوتوں کے متعلق بہت سے سیاسی مبصرین تسلیم کرتے ہیں کہ بحیرہئ روم کے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہوگی۔ کیوں کہ ترکی وہاں موجودتوانائی اور قدرتی ذخائر کی حصولیابی کی کوشش کررہا ہے۔حالاں کہ لیبیا کے تئیں ترکی کے اقدامات میں خیر سگالی کا جذبہ کارفرماہے۔ اس کی کوشش ہے کہ لیبیا عالمی سیاست کی غیر ضروری مداخلت سے بکھر نہ جائے۔ قطر بھی ترکی کے معاملات میں فکر مندہے۔ کیوں کہ اس کے پیش نظر لیبیا کی صلاح وفلاح ہے۔ لیبیا کے تئیں وضاحت،ترکی صدر طیب اردگان کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فرحت دین التون کے ا س ٹویٹ سے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ’ترکی اور لیبیا کے درمیان فوجی تعاون دراصل لیبیا کے عوام کو جنگی خطرات سے تحفظات فراہم کرنا ہے۔ ترکی کے ان اقدامات پر لیبیا کے باغی کمانڈرحفترنے جس رد عمل کا اظہار کیا وہ بھی انتہائی افسوس ناک ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں ترک باشندگان کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے اس کارروائی میں کئی پیچیدہ معاملات سامنے آئیں گے۔ باغی کمانڈر حفتر کے پیچھے کئی عالمی طاقتیں کام کررہی ہیں۔ بعض مسلم ممالک بھی اس کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ فرانس جس قدر باغی کمانڈر حفترکو تعاون فراہم کررہا ہے، وہ لیبیا کی سیاست کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ فرانس حفتر کی پشت پناہی سے انکار کر تا ہے۔ ادھر حالیہ دنو ں طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ(جی این اے)کے وزیر اعظم نے ترک صدر سے ملاقات کرکے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کا عندیہ بھی پیش کردیا۔ اس قربت سے جہاں ترکی اور لیبیا کی سیاست میں ایک نیا منظرنامہ قائم ہوا، وہیں عالمی سیاست میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی اور باغی کمانڈر خلیفہ حفتر سمیت بہت سے مغربی ممالک کو ترکی- لیبیا کی یہ قربت ہضم نہیں ہو پارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی ہر ممکنہ کوشش تیز ہوگئی ہے۔ چار دنوں قبل لیبیا میں ترکی ایئر ڈیفنس کو نقصان پہنچا یا گیا۔ اس لیے سوال اٹھنا فطری ہے کہ کس کے اشارے پر یہ سب کیا جارہا ہے؟ حالاں کہ باغی کمانڈر حفتر نے واضح کیاکہ ایئر بیس پر حملہ نامعلوم جنگی طیاروں نے کیا ہے۔ اس نقصان کے بعد ترکی اور لیبیانے جس سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا،وہ یقیناقابل تحسین ہے۔ کیوں کہ ترکی وزیر دفاع نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور وہ مسلسل لیبیاکی دستوری حکومت کے رابطے میں ہیں اور اپنے تعلقات کو مزید بہتر کررہے ہیں۔ قوی امید ہے کہ ان دونوں ممالک کی سیاسی بصیرتوں کی وجہ سے حملہ آوروں کو اپنے مقاصد میں ناکامی ہاتھ آئے گی۔
لیبیا میں قائم فائز السراج کی حکومت اقوام متحدہ سے منظور شدہ ہے۔ اس لیے اس حکومت کو مختلف طریقوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی۔ چوں کہ بین الاقوامی طو پر یہ ایک تسلیم شدہ حکومت ہے، اس لیے اسے فی الفور پلٹ دینا کوئی آسان نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ باغی کمانڈر حفتر نے لیبیا کے مشرقی حصو ں کو اپنے قبضے میں کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرلی۔ یہ حقیقت ہے کہ حفتر تنہا یہ کام نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے پیچھے جہاں روس، فرانس اور دیگر مغربی ممالک ہیں،وہیں مصر، عرب امارات اور دیگر عرب ممالک وغیرہ بھی فائز السراج حکومت کے خلاف درپردہ کام کررہے ہیں۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کے لیے پریشان کن صورت حال بنی رہے گی۔ گویا اس طرح دیکھا جائے تو لیبیا کو برباد کرنے میں نہ صرف مغربی ممالک اہم کردار ادا کررہے ہیں بلکہ بہت سے مسلم ممالک کی نازیبا حرکتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیبیا کی تقسیم کا خطرہ درپیش ہے۔
معمر قذافی کے زمانے میں باغی کمانڈر حفتر نے جو گندی سیاست کی، اس سے بھی اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ وہ پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کی منہ بھرائی کی وجہ سے لیبیاکے مستقبل پر غور وفکر نہیں کررہا ہے۔ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ1980میں قذافی سے مخاصمت کے بعد اس نے امریکہ کا دورہ کیا اور سی آئی اے کے قریب بھی ہوا۔ یہی وہ دور تھا کہ جس میں عالمی طاقتوں نے حفتر کی ذہن سازی کی اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی شروعات بھی۔2011میں جب قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تو وہ ملک واپس آیا اور اپنے مشن کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے مشرقی علاقوں میں اپنے اثر ورسوخ پیدا کرنا شروع کردیا۔ گویا باغی کمانڈر حفتر کو آج سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔اس لیے وہ اندرونی طور پر مضبوط ہے۔
لیبیا اور تر کی کے درمیان حالیہ قربت بہتر مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2023 کے بعد کے ترکی کو سامنے رکھیں تو اندازہ ہوگا کہ لیبیا ترکی سے ضرور فائدہ اٹھا ئے گا۔ کیوں کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی پر لگنے والے پابندیاں ہٹ جائیں گی اور ترکی بہت سے معاملات میں خود مختار ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک میں اس کا قد بلند ہوگا۔ اس لیے لیبیا سے ترکی کے بڑھتے تعلقات دونوں ممالک کے لیے خوش آئند ہیں اور یہاں کے عوام کے لیے سود مند بھی۔
لیبیاکی خانہ جنگی نہ صرف ایک ملک کا سوال ہے، بلکہ اس سوا ل کو مزید الجھانے میں بہت سے ممالک لگے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی لیبیا کا معاملہ مسلم ممالک کے درمیان بھی انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس انانیت میں ملک کے قدرتی وسائل سے وہ افراد فائدہ نہیں اٹھاپار ہے ہیں، جنھیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے بلکہ مغربی طاقتیں مسلم ممالک کو آپس میں الجھا کر مسلم ممالک کی ساکھ کمزور کررہی ہیں۔ اس لیے مسلم ممالک لیبیا کے معاملات کو انانیت کا مسئلہ نہ بنائیں۔ اگر ترکی اور لیبیا متعدد محاذوں پر آگے بڑھ رہے ہیں تو اس اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہونی چاہیے تاکہ مسلم ممالک کے درمیان تصادم کی جو فضا نظر آرہی ہے وہ ختم ہو۔2023میں ترکی سے پابندیاں ہٹنے والی ہیں تو ایسے میں مسلم ممالک کو متحدہ کوشش کرکے کوئی تاریخی قدم اٹھانا چاہیے کہ قدرتی ذخائز سے وہ سب کے سب مستفید ہوسکیں۔ گویا مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے خلاف زور آزمائی کا معاملہ نہ صرف سیاست سے جڑا ہوا ہے،بلکہ وہ اسلامی شان وعظمت سے بھی مربوط ہے۔ اس لیے مثبت اقدامات اور متحدہ کوششوں سے ہی مسلم مما لک میں ذہنی ہم آہنگی کی فضا قائم ہوسکتی ہے اور مضبوط معیشت کا نظام پروان چڑ ھ سکتا ہے۔

Facebook Comments