ضیاء الحق محمد لقمان

ریسرچ اسکالر،جواھر لال نہرو یونیورسیٹی

ایک لمبی مدت اور طویل انتظار کے بعد گزشتہ 23 مئی بروز جمعرات لوک سبھا چناؤ 2019 کے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے۔ جس پر ایک طرف جہاں بی جے پی اور اسکی سہیوگی پارٹیاں اپنے شاندار فتح وکامرانی کا جشن وتقریب منانے اور مختلف وزارتوں اور حکومت کے اعلی عہدوں پر جلد براجمان ہونے کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔ تو وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں پی ایم نریندر مودی کے وجے رتھ کو روکنے اور انہیں آئندہ ٹینیور میں کرسی اقتدار سے دور رکھنے کی اپنی تمامتر خواہشوں، تدبیروں اور کوششوں کے باوجود اپنے مقاصد میں بری طرح نا کام اور بے مراد رہیں۔ اور اپنے غیر منصوبہ بند اقدامات، بے ہنگم کاوشوں اور آپسی بکھراؤ کے سبب بر سر اقتدار پارٹی کو مات دینے کے بجائے خود ہی شکست وریخت سے دو چار ہو گئیں۔
یہ تمام پارٹیاں اپنی خامیوں، کوتاہیوں اور غیر دانشمندانہ اقدامات کا محاسبہ کریں یا نہ کریں، اپنے آئندہ انتخابات کیلئے نئے سرے سے حکمت عملی اور رن نیتی بنائیں یا نہ بنائیں، اتنا طے ہیکہ اب یہ چار وناچار خاموشی سے اپنی شکست تسلیم کرنے، فاتح جماعت کے سامنے سر جھکانے اور انھیں مبارکباد پیش کرنے ہی میں عافیت سمجھتی ہیں۔
اور تیسری جانب عوام الناس کی اکثریت، بالخصوص اقلیتی اور پسماندہ طبقات، جنھوں نے اس الیکشن میں ایک بہتر وکلپ اور معتدل ومتبادل حکومت کیلئے اپنا قیمتی ووٹ ڈالا تھا، اپنی امید اور توقع کے بالکل بر خلاف رزلٹ دیکھ کر وہ حیرت واستعجاب اور سکتے کے عالم میں ہیں۔ ان غیر متوقع اور چونکا دینے والے نتائج سے ان پر رنج والم اور نا امیدی و مایوسی کی کیفیت طاری ہو گئی ہے۔
جن مخدوش وتشویشناک حالات میں غیر جمہوری طریقے سے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان کیا گیا، اس نے ملک کے امن وانصاف پسند طبقہ کو خاصا پریشان کر دیا ہے۔ کسی اور کو دیا گیا ووٹ کسی دوسرے کی جھولی میں جادوئی طریقے سے کیسے شفٹ ہو گیا۔ یہ لوگوں کی سمجھ سے پرے ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا سر بستہ راز ہے جو ہر کسی کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اور اس سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے۔
جس مودی لہر اور سونامی کی اب بات ہو رہی ہے، وہ دوران انتخابات لوگوں کو کہیں نظر نہیں آئی، اور ایگزٹ پول اور اسکے بعد الیکشن کے حتمی نتائج سامنے آتے ہی یہ اچانک نمودار ہوئی اور تمام مخالف پارٹیوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے گئی۔
لوگوں نے بر سر اقتدار پارٹی کو دوبارہ حکومت پر قابض ہو کر اپنی سابقہ گھناؤنی تاریخ دھرانے سے روکنے کیلئے ووٹ کیا تھا۔ مگر نتیجہ اسکے بر عکس آیا۔ ایسا کیسے ہوا، یہ ایک معمہ ہے۔ اس غیر متوقع نتیجہ کے آجانے کے بعد بہت سارے لوگ اپنے مستقبل کو لیکر کافی فکر مند ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں انھوں نے ملک کے اندر جس پر فتن ماحول، خونچکاں واقعات وحوادث، جمہوری نظام کی خلاف ورزی، عام جنتا کے حقوق ومفادات کی پامالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور تیزی سے پھیلتی ہوئی غریبی اور بے روزگاری کا مشاھدہ اور تجربہ کیا ہے، اسکے تناظر میں اگلے پانچ سال کے تصور ہی سے وہ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ اب انکا یہ ڈرنا کہاں تک درست ہے، اور آنیوالا وقت ان میں کیا تبدیلی لاتا ہے، یہ دیکھنے والی بات ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، تو یہ انکی تاریخ میں کوئی نیا موڑ اور پہلا واقعہ نہیں ہے، جسمیں انھیں مایوس کن حالات اور صبر آزما واقعات کا سامنا ہے، بلکہ مسلمانوں کی تاریخ اس قسم کے پر فتن ادوار اور خونچکاں داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اور بد سے بد تر حالات میں بھی وہ کبھی مایوسی کے شکار نہیں ہوئے، بلکہ مشکل سے مشکل ترین حالات کا نہایت صبر وتحمل اور حوصلہ مندی وثابت قدمی کیساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور پوری ہمت وجوانمردی اور ایمانی قوت کیساتھ زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھتے رہے۔ انھیں اللہ کی مدد ونصرت پر کامل ایمان وتوکل تھا۔ انکے نزدیک نا امیدی ومایوسی کفر ہے۔
اللہ تعالی اپنے مؤمن بندوں کو مختلف ناحیئے سے آزماتا ہے۔ یقینا یہ بھی ھمارے لئے ابتلا وآزمائش کا دور ہے، جس سے ہمیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی قطعا ضرورت نہیں۔ بلکہ پورے صبر واستقامت کیساتھ اسکا سامنا کرتے ہوئے زندگی کے مختلف میدانوں میں، بالخصوص تعلیم وتجارت اور دعوت واصلاح کے میدان میں پہلے سے زیادہ قوت وتوانائی کیساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کل کیا ہونے والا ہے اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عین ممکن ہے باری تعالی نے اسی میں ھمارے لئے خیر کا پہلو رکھا ہو، جو بظاھر ہمیں نقصاندہ لگ رہا ہے۔
البتہ اپنے اعمال کا جائزہ اور اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا محاسبہ ضروری ہے۔ جو قوم اپنے ماضی کی غلطیوں اور خامیوں سے سبق نہیں سیکھتی، اسکا اس جہاں میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
عموما اس الیکشن میں بھی مسلمانوں کی وہی غلطیاں اور کوتاہیاں دیکھنے کو ملیں، جو سابقہ دیگر انتخابات میں تھیں۔ آپسی تال میل کی کمی، اور نتیجے کی پروا کئے بغیر مسلمانوں کا متعدد پارٹیوں میں بکھر جانا، جسکا سیدھا فائدہ مخالف پارٹی کو جاتا ہے۔
دوسری اھم اور ضروری بات یہ ہیکہ خواتین معاشرے کی نصف آبادی ہیں، انکی حصہ داری کے بنا ھماری تعداد یونہی آدھی ہو جاتی ہے۔ انکی بھاگیداری کے بغیر ہم کبھی بھی اس خلا کو پاٹ نہیں سکتے۔ اسکے باوجود بڑے افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہیکہ ھمارے بعض مسلمان بھائی، جو اپنے معمولی ضروریات ومقاصد کی تکمیل کیلئے تو انھیں کبھی شاپنگ کرنے اور مارکیٹ جانے سے نہیں روکتے، انہیں قومی مفاد کی خاطر ووٹ ڈالنے کیلئے اپنے ساتھ خواتین کو لے جانے میں بڑی غیرت وحمیت دامن گیر ہونے لگتی ہے۔ یہ مسلم کمیونٹی کا نہایت افسوسناک پہلو اور ھمارا بہت بڑا قومی خسارہ ہے، جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اللہ تعالی وطن عزیز کو امن وسلامتی اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے، یہاں کے حالات اور ماحول کو ھمارے لئے سازگار بنائے اور ہمیں ملک وقوم اور دین وملت کے حفظ وبقا کیلئے زیادہ سےزیادہ جد وجہد کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

Facebook Comments