( ملکہ جذبات مینا کماری کے یوم وفات کی مناسبت سے خاص مضمون)

ساٹھ کی دہائی میں جن اداکاراؤں نے اپنے فن کا کمال دکھایا ان میں مینا کماری کا نام سرفہرست ہے۔ان کا نام آتے ہی ذہن میں ایک تصویر ابھرتی ہے معصوم ومغموم چہرہ،بھیگی ہوئی خوبصورت آنکھیں،ہونٹوں پر زندگی کا کرب سمیٹے مسکراہٹ اور آواز میں بلا کا سوز یہ وہ پیکر ہے جس نے تقریباََ ۲۵ سالوں تک فلم اسکرین پر اپنے حسن و کمال کا جادو بکھیرا جو ناظرین کے دل ودماغ میں آج بھی تازہ ہے۔ ان کی ہمیشہ خواہش رہی کو ان کو ایک اداکار کے بجائے ایک شاعرہ کے طور  پر پہچان ملے لیکن ان کی یہ خواہش ان کی زندگی میں پوری نہ ہو سکی۔ اپنی اسی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار گلزار سے کہا تھا کہ ’  جو اداکاری میں کرتی ہوں اس میں ایک کمی ہے۔یہ فن، یہ آرٹ مجھ میں پیدا نہیں ہوا ہے، خیال دوسرے کا، کردار کسی کا اور ہدایت کسی کی ۔ میرے اندر سے جو پیدا ہوا ہے، وہ میں لکھتی ہوں، جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ لکھتی ہوں۔

مینا کماری نے تقریباََسات سال کی عمر میں بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھااور ۱۹۵۲ میں۔ آئی فلم ’بیجو باورا‘ نے انھیں ایک کامیاب اداکارہ کے روپ میں شناخت دی پھر تو کامیابی کا ایک سلسلہ چل پڑا ۔ کئی بار انھیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیااور ایک ایسا تاریخی لمحہ بھی آیا جب ۱۹۶۳ میں فلم فیئر ایوارڈمیں بہترین اداکارہ کے خطاب کے لئے مینا کماری کا مقابلہ خود سے ہی تھا۔تین فلمیں ایوارڈ کے لئے نامزد کی گئی تھیں’آرتی‘ ، ’میں چپ رہونگی‘ ، ’ صاحب،بیوی اور غلام‘ ان تینوں فلموں میں مینا کماری اہم کردار میں تھیں اور پھر بہترین اداکارہ کا یہ خطاب صاحب ، بیوی اور غلام کی چھوٹی بہو(مینا کماری) کو ملا۔اس فلم سے ’ ٹریجڈی کوئینی ‘یعنی ’’ملکہ جذبات ‘‘کا خطاب پانے والی مینا کماری کی زندگی بھی داستان الم رہی۔’چھوٹی بہو‘ شراب تک کیسے پہنچتی ہے یہ سچ ہر حساس انسان سمجھ سکتا ہے ۔یہ کردار مینا کماری کا اور مینا کماری اس کردار کی ترجمان ہیں۔

یکم اگست 1932  میں پیدا ہونے والی مہ جبیں(مینا کماری) کو پچپن  ہی سے بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔والدین کی بے توجہی،کم عمری سے ہی معاشی ذمہ داری کا بوجھ اور پردہ سیمیں کے خود غرض عناصرنے ان کو بہت دکھ پہنچایامگر ۲۰ سال کی عمر میں جب ان کی اداکاری کا آفتاب عروج پر تھاانھوں نے مشہور فلم ہدایت کار کمال امروہی سے ۱۹۵۲ میں شادی کر لی جو بعد میں ناکام ہوگئی اس حادثے نے مینا کماری کو بری طرح توڑ دیا۔
اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
جو ہوا، وہ نہ ہوا ہوتایہ غم باقی ہے

          مینا کماری کے سوانح نگار ونود مہتا لکھتے ہیں کہ کمال امروہی وہ پہلے مرد تھے جن کو مینا کماری نے بچپن سے دیکھا۔یہ پڑھا لکھا باتمیز اور مہذب انسان لیکن مرد جس میں مینا کماری  نے اپنی زندگی تلاش کی وہی ان کی موت کا سبب بن گیا۔کشیدہ رشتے کے درمیان بھی مینا کماری بے حد کامیاب فلمیں دیتی رہیں۔دن بہ دن بگڑتے رشتے کی وجہ سے ان کی صحت بھی خراب رہنے لگی نیند کی کمی کے سبب ڈاکٹروں نے انھیں برانڈی لینے کا مشورہ دیا۔۱۹۶۲ میں رشتوں میں بڑھتی کشیدگی سے تنگ آکر انھوں نے کمال امروہی کا گھر چھوڑ دیااور شراب کو انھوں دوا کے طور پر اپنا لیا۔شراب کی لت نے ان کی صحت کو خطرناک حد تک بگاڑ دیااور اسی دوران کمال امروہی کا فلم ’پاکیزہ‘ پوری کرنے کا اصرار بھی بڑھتا رہا جو کہ کبھی ان دونوں کا وعدہ تھا اور خواب بھی۔آخر کار ۱۹۷۲ میں مینا کماری نے اپنے کیرئیر کی آخری اور بے حد کامیاب فلم ’پاکیزہ‘ میں بیماری کی حالت میں ایک طوائف کا لافانی کردار اداکیا۔انھوں  نے تقریباََ  ۹۴ فلموں میں کام کیااور نو مرتبہ بہترین اداکارہ کے لئے نامزد ہوئیں جن میں سے چار بار انھیں بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
مینا کماری ایک عظیم اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتی تھیں ۔اور ’ناز‘ تخلص استعمال کرتی تھیں۔ انھوں نے شاعری کی  باقاعدہ کوئی تعلیم تو نہیں حاصل کی تھی  لیکن شاعری کے خدا دادفن پر وہ گلزار اور کیفی اعظمی سے اصلاح لیتی تھیں  ۔ مینا کماری نے اپنی وصیت میں اپنی نظمیں چھپوانے کا ذمہ گلزار کو دیا تھا جسے انہوں نے ’’ناز‘‘ تخلص سے چھپوايا۔ ہمیشہ تنہا رہنے والی مینا کماری نے اپنی ایک غزل کے ذریعے اپنی زندگی کا نظریہ پیش کیا ہے۔

چاند تنہا ہے آسماں تنہا

دل ملا ہے کہا ں کہاں تنہا

راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک

چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

ان کی شاعری میں ذاتی زندگی کا کرب بھی ہے  اور زندگی کی تلاش  بھی ہے جسے پڑھنے والا بھی ان کے لئے اس منزل کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتا ہے جسے ڈھونڈتے ہوئے الفاظ بھٹکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
پوچھتے ہو تو سنو کیسے بسر ہوتی ہے
رات خیرات کی صدقے کی سحر ہوتی ہے
قلیل عرصے میں مینا کماری نے کامیابی اور شہرت میں جو مقام حاصل کیا وہ کسی اور اداکار کے حصے میں نہیں آیاانھوں نے جہاں شہرت کی بلندیوں کو چھوا وہیں دکھوں کے اتھاہ ساگر میں غوطے بھی کھائے۔۳۱؍مارچ ۱۹۷۲ میں کثرت مے نوشی کے سبب ۴۰ سال کی قلیل عمر میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔مینا کماری کے یہ اشعار خود انھیں پر صادق آتے ہیں۔۔۔

راہ دیکھا کروگے صدیوں تک
چھوڑ جائیں گے جب جہاں تنہا

   وقت نے چھین لیا حوصلہ ٔضبط ستم

 اب تو ہر حادثہ ٔغم پہ تڑپتا ہے دل

ہر نئے زخم پہ اب روح بلکھ اٹھتی ہے

ہونٹ اگر ہنس بھی پڑیں آنکھ چھلک پڑتی ہے

                                                                   زندگی ایک بکھرتا ہوا دردانا ہے

                                                                   ایسا لگتا ہے کہ اب ختم پر افسانہ ہے

Facebook Comments