تحریرہ:ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ

لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد شہریت ترمیمی بل پر صدر جمہوریہ نے بھی دستخط کردیاہے ،اس طرح سے اب یہ قانون بن چکاہے جس کے مطابق پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آئے مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہرحال میں شہریت دی جائے گی جبکہ مسلمانوں کو شہریت حاصل کرنے کا حق بھی نہیں ہوگا۔لیکن ان سب کے درمیان ایک بڑی خبر یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال،پنجاب،کیرلا کے بعد اب مہاراشٹرانے بھی اس قانون کو اپنی ریاست میں نافذکرنے سے انکارکردیاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019ہندوستانی آئین کی دفعہ 14 کی بنیادی روح کے خلاف ہے ، جو مساوات کے حق کی بات کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیاگےاہے۔لیکن مرکزی حکومت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتی کہ قانون بن جانے کے بعد کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس بل کے نفاذ سے انکارکرے۔حالانکہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے واضح اعلان کردیاہے کہ جیل چلی جاوں گی لیکن اس غیر جمہوری ملک کو اپنی ریاست میں نافذ نہیں کروں گی۔ اس متعصبانہ اور مسلم مخالف قانون کے خلاف جہاں ایک طرف مسلمان خاموش اور پرامن مظاہرے کررہے ہیں وہیں آئین کی طرف سے دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آسام اور تریپورہ میں لوگ مودی کی پالیسی کے خلاف اپنے غصہ کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔پرتشدد مظاہروں کی کبھی بھی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن جس طرح کا سلوک مرکزی حکومت سکیولر عوام کے ساتھ کررہی ہے ،اور جس طرح آر ایس ایس کے انتہاپسندانہ نظریات کو ملک کے 130کروڑ لوگوں پر تھوپنے کی سازش رچی جارہی ہے ،اسے کسی بھی صورت میں جائز نہیں قراردیاجاسکتا۔ایسے میں حکومت کے خلاف آوازبلند کرنا ہرہندوستانی شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے جس کا استعمال کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا پسندیدہ ملک ہندوستان میں آزادانہ سانس لینا ضروری ہے۔اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے جمعیة علمائے ہند(م) نے پورے ہندوستانی مسلمانوں سے خاموش احتجاج او ر مظاہرے کی اپیل کی ۔جس کا اثر جمعہ کی نمازکے بعد پورے ملک میں دیکھنے کو ملا جہاں مسلمانوں نے مرکزی حکومت کے اس متعصبانہ قانون کے خلاف اپنے غصہ کا اظہارکیا۔البتہ جمعیة علماءسے یہ سوال ضرور کیاجانا چاہئے کہ جمہوری ملک میں تشدد کی اجازت نہیں ہے لیکن آواز بلند کرنے کا حق تو ہرشہری کو ہے ۔

ایک جمہوری ملک میں اپنے غصہ کا اظہار نعرے لگاکر،کبھی سڑک جام کرکے تو کبھی اجلاس کرکے کیا جاتاہے ۔بسااوقات ان مظاہروں سے بڑے بڑے سورماو ¿ں کے قلعے منہدم ہوجاتے ہیں۔مستحکم اور مظبوط سرکاریں گرجاتی ہیں ۔ایسے میں جہاں شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک کے تمام سکیولر اور ملک کی جمہوریت پسندوں نے بآوار بلند مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا وہاں پر خاموش احتجاج،چہ معنیٰ دارد؟ آسام اورتریپورہ سمیت ملک کی اکثر و بیشتر ریاستوں میں ہورہے پرامن مظاہرے اور احتجاج اب ریاستی اورمرکزی حکومتوں کے اڑیل رویہ کی وجہ سے پرتشدد ہوتے جارہے ہیں۔آسام میں 2لوگوں کی موت ،غیر اعلانیہ کرفیو اور انٹرنیٹ کی معطلی کے فرمان نے مظاہرین کو مزید مشتعل کردیاہے،جس کے سبب مختلف مقامات پر کئی گاڑیاں نذرآتش کردی گئیں تو کہیں گھنٹوں سڑکیں جام رہیں ۔اتنے مظاہرے کے باوجود مودی حکومت اپنا فیصلہ بدلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں کہ ہندتوا کے فروغ کیلئے کام کرنے والی تنظیم آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی سیاسی پارٹی بی جے پی اقتدار میں برقرار رہنے کیلئے ایسے ہتھیار کا استعمال کررہی ہے جس سے ہندوستان میں رہنے والے اکثریتی طبقہ کی بھرپورحمایت حاصل ہو،جس کا بھرپور فائدہ بھی اسے مل رہاہے۔

انسانی لاشوں پر قلعہ بنانے والوں کو انسانی لاشوں کے علاوہ کچھ بھی قبول نہیں ۔5برسوں تک ہرمحاذ پر ناکامی کے باوجود 2019میں زبردست کامیابی کے بعد پارٹی کو پورے طورپر یقین ہوگیاہے کہ عوام اس کے ہندتوا اور خودساختہ حب الوطنی کی شبیہ کے پیش نظر ملک کے تمام انتخابات میں اسے ہی ووٹ دے کر اقتدار پر پہنچائیں گے۔حالیہ مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کم سیٹیں ملی تھیں ، لیکن پارٹی کا انتخابی ایشولوک سبھا انتخابات کی طرح قوم پرستی اور ہندوتوا تھا ، لہٰذا بی جے پی دونوں ریاستوں میں پہلے نمبر کی پارٹی کے طور پر ابھری۔یہ ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ عرصہ دراز سے ہندوو ¿ں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت ، بغض و حسد اورکینہ کپٹ کی جو چنگاری لگائی گئی تھی آج وہ جوالا مکھی کی طرح پھٹتی جارہی ہے جسے بجھانے کی کسی بھی زمانہ میں کوشش نہیں کی گئی۔آج بھی وقت ہے کہ بردران وطن کے سامنے جمہوریت کو تارتار کرنے والوں اور ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کو ختم کرنے والوں کے چہروں کو بہت ہی اچھی حکمت عملی کے ساتھ بے نقاب کیاجائے ۔تاکہ ہندوستان کی جمہوریت محفوظ رہ سکے اور یہاں کسی خاص مذہب کا فروغ نہ ہوسکے۔

Facebook Comments