تحریر:ہما نسرین

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی

آج بالی ووڈ اور ٹی وی کے کئی اداکار یتیم ہو گئے جب ریما لاگو کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ۹۵ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔جی ہاں ریما لاگو جنھوں نے ماںکے رول میں فلم انڈسٹری میں اپنی پہچان بنائی۔انھوں نے اپنے کیریئر کی ابتدا ٹی وی سے کی جس میںگلزار کاسیریل کرداراس کے علاوہ تو تو میں میںاورشریمتی شریمان جیسے سیریل میں ماں کا باکمال کردار اداکیا۔۰۸۹۱ میںریما شیام بینگل کی فلم کل یگ سے بالی ووڈ میں داخل ہوئیں۔انھوں نے اسکرین پر ایک سلجھی اور پیار کرنے والی ماں کا کردار نہایت ہی خوبصورتی سے ادا کیا سلمان خان کے ساتھ ما ں کے روپ میں ان کی جو ڑی بے حد کامیاب رہی انھیں سلمان خان کی آن اسکرین ماںکے روپ میں جانا جاتا تھا۔سلمان خان کی فلم میں نے پےار کیا میں ان کے کردار کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اس فلم کے لئے انھیںفلم فئیر ایوارڈ بھی ملا۔سورج بڑجتیہ نے انھیں تقریبا اپنی ہر فلم میں ماں کا کردار دیا۔
فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں وہ ایک ماڈرن ماں کے روپ میں نظر آئیں لیکن کینسر جیسی خطرناک بیماری سے لڑ رہے اپنے بیٹے شاہ رخ خان کے لئے کس طرح جذباتی ہو کر اس کی دلجوئی کرتی ہیں۔فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ میں ینھوں نے اپنے گھر کو باہری سازشوں سے محفوظ رکھ کر ایک مثالی گھر بنایا۔انھوں نے نہ صرف ہیرو کی ماں کا رول ادا کیا بلکہ ہیروئین کی ماں کے روپ میں ’ہم آپ کے ہیں کون ‘کی مادھوری کو کس سنجیدگی سے شادی اور اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سمجھاتی ہیں۔’کچھ کچھ ہوتا ‘میںبیٹی کے دل و دماغ میں چل رہی ہر بات کو سمجھ لیتی ہے اور اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انھوں نے ماں کے روپ میںصرف اپنا پےار ہی نہیں لٹایا بلکہ اولاد کے غلط کا موں پر جو رویہ اختیار کیا اس سے ان کی ایک نئی امیج ابھری ۹۹۹۱ میں آئی سنجے مانجیکر کی فلم ’ہتھیارا‘میں انھوں نے اپنے گینگسٹر بےٹے کو مارنے سے دریغ نہیں کیا اس کردار کی کشمکش کو انھوں نے جس طرح پیش کیاوہ دل کو چھو لینے والا تھایہ فلم ان کے کیرئیر کی بے حد کامیاب فلم رہی۔مہیش بھٹ کی فلم ’واستو‘ میں بھی ریما لاگو نے ماں کا ایک انوکھاروپ پیش کیا اس فلم میں ان کے بیٹے کے کردار میں سنجے دت تھے جو آہستہ آہستہ جرم کے دلدل میں پھنستے جا رہے تھے آخر کار ان کی ماں(ریما لاگو) ہی ان کو گولی مار دیتی ہے۔سنجے دت سے ریما صرف ایک سال بڑی تھیں۔اس فلم میںبھی انھیں فلم فئیر اوارڈ سے نوازا گیا۔
ریما لاگو نے تقریبا ہر بڑے اسٹار کی ماں کا کردار ادا کیا۔ریل اور ریئل لائف میںماں کی جو امیج ہے ریما نے اس روایت سے خود کو الگ رکھا اور پریکٹیکل ماں کے ایک نئے روپ کو پیش کیا۔نروپا رائے نے فلم انڈسٹری کو جو ماں کا کبھی ایک انوکھا روپ دیا تھا ریما نے اس روپ کو مزید نکھارا۔فلم ’دیوار‘ میں جہاں نروپا رائے اپنے بیٹے امیتابھ سے کہتی ہے کہ’بیٹا تو ابھی اتنا امیر نہیں ہوا ہے کہ اپنی ماں کو خرید سکے‘ وہیں ریما فلم ’ہتھیارااور ’واستو‘ میںاپنے مجرم بیٹے کو جان سے مار دیتی ہے۔ریما کے کچھ کردار ’مدر انڈیا‘ کی ماں کی ےاد دلاتے ہیں۔ان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنی عمر سے کچھ ہی سال چھوٹے اداکاروں کی ماں کا رول نبھایا۔
ان کے حصے میں کئی کامیاب فلمیں آئیں جیسے ’قیامت سے قیامت ،ساجن،رنگیلا،جے کشن،گمراہ،جڑواں جیسی فلموں میں انھوں نے ماں کا بے حد کامیاب اور خوبصورت کردار ادا کیا کچھ فلمیں تو ایسی بھی رہیں کہ جو فلاپ ہو گئیں لیکن ماں کے کے روپ میں ریما کے کردار کو سراہا گیا۔ان کو چار بار فلم فئیر اوارڈ ملا ۔تقریبا چار دہائی تک انھوں نے کامیاب اداکاری کی۔آج کل وہ اسٹار پلس کے سیریل ’نامکرن‘ میں کام کر رہی تھیں۔
ریما لاگو کا اصل نام ریما کھد بڑے تھاوہ۸۵۹۱ میں ممبئی میں پیدا ہوئیں تھیں ان کی ماںمنداکنی کھد بڑے مشہور مراٹھی اداکارہ تھیں۔انھوں نے مراٹھی اداکار وویک لاگو سے شادی کی بعد میں یہ لوگ الگ ہو گئے۔ریما نے پونے میں تعلیم حاصل کی دوران تعلیم ہی ان کو اداکاری میں دلچسپی پیدا ہوئی اور ہائی اسکول کے بعد ہی۹۷۹۱ میں انھوں نے مراٹھی فلم ’سنگھاسن‘سے اپنی اداکاری کے سفر کا آغاز کیااور پھر ماں اور ساس کے رول کا ایک کامیاب سلسلہ چل پڑا۔انھوں نے ماں کے رول میںاسکرین پر جو خوش مزاجی،محبت،انصاف کا پیکر تراشا وہ لاجواب ہے ان کی موت سے اداکاری کے روپہلے آنگن میں سناٹا سا طاری ہوگیا ہے۔
غنچے خموش،گل پریشاں،چمن اداس
کیا کہہ گئی ہے موج صبا سوچنا پڑا

Facebook Comments