تحریر:فہیم اختر،لندن

سنیچر 31اگست کو برطانیہ کے تمام شہروں میں لوگوں نے جلوس نکال کر وزیر اعظم بورس جونسن کے پارلیمنٹ ملتوی کرنے کے اقدام کی پر زور مخالفت کی۔لندن میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل کر پارلیمنٹ کی ملتوی کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ یوں تو برطانیہ میں آئے دن گاہے بگاہے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن سنیچر 31اگست کا مظاہرہ ایک انوکھا اور اہم مظاہرہ تھا۔ جس میں زیادہ تر لوگوں کی ناراضگی اس بات سے تھی کہ وزیر اعظم بورس جونسن نے کس بنا پر پارلیمنٹ کو ایک مدت کے لئے پروگ کر دیا۔ دراصل پروگ ایک ایسا انگریزی لفظ ہے جو پارلیمنٹ کو ایک معینہ یا غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یا اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ برخاست کئے بغیر التوا میں ڈالنا۔پچھلے چالیس برسوں میں پارلیمنٹ کئی بار ملتوی ہوئی ہے جو کہ ایک روایتی بات ہوتی ہے۔ 2015میں پارلیمنٹ تین روز کے لئے ملتوی کی گئی۔ 2016میں پارلیمنٹ پانچ روز کے لئے ملتوی ہوئی اور 2017میں پارلیمنٹ کو چھ دن کے لئے ملتوی کیا گیا تھا۔
بدھ 28اگست کو برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے اعلان کیا کہ برطانوی پارلیمنٹ کو 13ستمبر سے 13اکتوبر تک ملتوی رکھا جائے گا۔ جس میں کل 23 دن پارلیمنٹ کا کام کاج چلے گا۔ 3ستمبر کو ممبر پارلیمنٹ اپنی چھٹیوں سے واپس آئے گے اور سات دن تک انہیں پارلیمنٹ میںکام کا موقع ملے گا۔ جس کے بعد 13ستمبرسے پارلیمنٹ کا کام کاج بند ہوجائے گا۔پھر 14اکتوبر کو پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگا جس میں ملکہ برطانیہ حکومت کی رپورٹ پڑھیں گی۔ اس کے بعد گیارہ دنوں تک پارلیمنٹ کام کرے گی۔ یہ اجلاس دوبارہ شروع ہوگا جو کہ 31تاریخ تک چلے گا جس دن برطانیہ کو یوروپین یونین سے بریکسٹ کرنا ہے۔ یعنی کہ برطانیہ 31اکتوبر کو یوروپین یونین سے باہر ہو جائے گا۔ان تاریخوں کو دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بورس جونسن بنا کسی بحث و مباحثہ کے 31اکتوبر کو برطانیہ کو یوروپین یونین سے باہر کرانے میں کامیاب کرنے کی سازش کررہے ہیں۔
دراصل بورس جونسن کی اسی سوچی سمجھی سازش کے خلاف لوگوں کا غصّہ بھڑکا ہواہے۔ زیادہ تر لوگ بورس جونسن کی اس قدم کو جمہوریت پر سیدھا سیدھا وار کہہ رہے ہیں۔ تبھی تو مظاہرے میں لوگوں نے نعروں کے ساتھ اپنے ہاتھ میں بینر لئے ہوئے تھے جس پر لکھا تھا ’ بورس جونسن ، تم پر شرم ہے‘۔کسی کے بینر میں لکھا تھا کہ’ جمہوریت کی موت‘۔تو کسی نے لکھا تھا’ بور س کو باہر کرو‘۔تو کوئی کہہ رہا تھا’ بغاوت کو روکو‘۔
زیادہ تر لوگ ناراض دِکھ رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی پارٹی اور فرد کی حمایت میں اپنا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کا مظاہرہ ملک کے حق میں ہے جو فی الحال نہایت نازک حالت میں ہے۔مظاہرین میں ہر عمر اور نسل کے لوگ شامل تھے جو اپنے اپنے طور پر بورس جونسن کے پارلیمنٹ کے ملتوی ہونے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
لندن کے اہم علاقے ویسٹ منسٹر سے لے کر مول، وائٹ ہال اور بکنگھم پیلس تک مظاہرین کی بھیڑ سے گاڑیوں کی آمد و رفت کو روک دینا پڑا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے لگ بھگ سبھی بڑے شہروں میں لوگوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ جن میں برمنگھم، لیڈز، لیور پول، مانچسٹر، آکسفورڈ،گلاسگو،کارڈف، بیلفاسٹ، نیو کاسل وغیرہ اہم ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے بورس جونسن کے خلاف کھل کر احتجاج کر رہے ہیں۔
لندن میں لیبر پارٹی کے لیڈر جون میکڈونل اور ڈایان ایبوٹ نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بورس جونسن کے ناپاک ارداے کو رد کرتے ہوئے اپنا مظاہرہ جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ دیگر تمام پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی مختلف شہروں میں مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ملتوی ہونے کے خلاف آواز کو بلند کی اور جمہوریت کو بحال رکھنے کی اپیل کی۔
اس دوران وزیر اعظم بورس جونسن کے اعلان کے خلاف ایک پیٹیشن لوگوں کے دستخطی مہم سے شروع کی گئی جس میں اب تک 1.5ملین لوگوں نے دستخط کئے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم جون میجر نے بھی بیان دیا ہے کہ وہ بریکسٹ مخالف مہم چلانے والی جینا میلر کے ساتھ مل کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔جس میں بورس جونسن کے پارلیمنٹ ملتوی کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔جینا میلر ایک بزنس خاتون ہیں جنہوں نے بریکسٹ کے سلسلے میں چندسال قبل عدالت سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔
3 نومبر2016 کو ہائی کورٹ نے حکومت کو یہ آرڈر دیا تھاکہ بر یکسٹ کی کاروائی کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے۔ اس فیصلے میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ بر یکسٹ کے سلسلے میں پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ برطانیہ کو یورپ چھوڑنے کی تاریخ کب اور کس طرح مقرر کرنی چاہئے۔یہ کیس جینا میلر ایک انوسٹمنٹ منیجر نے بر یکسٹ کی کاروائی اور حکومت کے خلاف دائر کیا تھا۔ جس کا نتیجہ آتے ہی برطانیہ کی سیاست میں ایک بار پھر بھونچال سا آگیا تھا اور سابق وزیر اعظم تھریسا مے کی کوششوں سے بریکسٹ کی تاریخ کو یوروپین یونین سے اپیل کر کے 31اکتوبر 2019مقرر کر دی گئی تھی۔
لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کوربین نے وزیر اعظم بورس جونسن کو چیلنج کرتے ہوئے ان کے خلاف اعتماد کا ووٹ لانے کی مانگ کی ہے۔ بریکسٹ کے متعلق لیبر پارٹی نے ہمیشہ کہا ہے کہ ’ اگر ان کی حکومت بنی تو وہ بریکسٹ پلان کو ختم کر دیں گے۔تین ملین یوروپین جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں ان کو برطانیہ میں رہنے کے لئے قانونی درجہ دیا جائے گا۔ ایک ملین برطانوی شہری جو یورپ میں رہ رہے ہیں ان کے لئے یوروپین یونین سے گفت و شنید کی جائے گی۔ ایک ایسا معاہدہ کیا جائے گا جس میں برطانیہ سمیت یوروپین یونین کی بھی بھلائی ہو۔ اس کے علاوہ آئیر لینڈ سے منسلک بارڈر کو بحال رکھا جائے گا۔
بورس جونسن نے اپنے جارحانہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ملک کی ترقی کے لئے ایسا قدم اٹھا رہے ہیں تا کہ برطانیہ یوروپین یونین سے الگ ہو کر ایک نئے باب کا آغاز کرے۔ لیکن بورس جونسن شاید اس بات کو بھول رہے ہیں کہ برطانیہ ایک جمہوری ملک ہے جس کی آزادی، رواداری اور انسانی حقوق کی مثال دنیا بھر میں دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ کا پارلیمانی نظام کی اپنی ایک منفرد پہچان ہے جہاں دنیا بھر کے مسائل پر بحث ہوتی ہے اور جس کی آواز دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں اثر انداز ہوتی ہے۔
دراصل بورس جونسن اس چالک لومڑی کی چال چل رہے ہیں جو اپنے شکار کے لئے ہمیشہ چاک و چوبند رہتا ہے۔ لیکن شاید بورس جونس اس بات کو بھول گئے کہ شیر کی کھال پہننے سے گیدڑ شیر نہیں ہوجاتا ہے بلکہ وہ اپنی آواز اور حرکت سے گیدڑ ہی جانا جاتا ہے۔بورس جونسن بد قسمتی سے لوگوں کے منتخب وزیر اعظم نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ اپنی پارٹی کے چنے ہوئے لیڈر کی حیثیت سے برطانیہ کے وزیر اعظم بنے ہیں۔ جوشاید ان کے زوال کا ایک سبب بن سکتا ہے۔
فی الحال برطانیہ کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ بتانا مشکل ہو رہا ہے۔ کیونکہ یوروپین یونین سے نکل جانے کے ریفرنڈم نے برطانیہ کے لوگوں کو گہرے طور تقسیم کر دیاہے۔ جس کی لپیٹ میں آکر اب تک دو وزیر اعظم مستعفی ہو چکے ہیں اس کے علاوہ کئی دوسرے وزراءبھی بریکسٹ کی زد میں آکر اپنے عہدے سے یا تو نکالے جا چکے ہیں یا استعفیٰ دے دیا ہے۔
میں بورس جونسن کے اس قدم کو ایک بزدلانہ قدم مانتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے عظمت کو بحال رکھنے کے لئے ان کے پارلیمنٹ کے ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ عدالت بورس جونسن کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو پوری مدت تک بحال رکھے گا اور جمہوریت کی آبرو پر کوئی آنچ نہ آنے دے گا۔

www.fahimakhter.com

Facebook Comments