نئی دہلی:بابری مسجد رام مندر معاملے پر مسلسل ۴۰ دنوں کی سماعت کے بعد آج سپریم کورٹ میں تمام فریقوں کے دلائل پورے ہوگئے ہیں ۔تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد آج سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔اور آئندہ تین دنوں کی مہلت تمام فریق کو تحریری بیان جمع کرنے کیلئے دیا ہے،اس بیچ اگر کسی فریق کو کوئی دلیل یا کوئی ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے وہ تحریری طور پر سپریم کورٹ میں جمع کرسکتے ہیں ۔

آپ کو بتادیں کہ سپریم کورٹ نے آج سماعت کیلئے شام پانچ بجے تک کا وقت مقرر کیا تھا لیکن مقررہ وقت سے ٹھیک ایک گھنٹہ قبل ہی سماعت پوری ہوگئی ہے۔ایسے میں مانا جارہا ہے کہ آئندہ تین ہفتوں میں بابری مسجد رام مندر معاملے میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ صادر کرسکتا ہے۔عدالت عظمی کی آج کی کارروائی بھی کافی دلچسپ رہی ،چونکہ ہندو فریق کی طرف سے سپریم کورٹ میں آج رام مندر کا نقشہ پیش کیا گیا جس کو مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے پھاڑ دیا،جس پر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔اب ۴۰ دنوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے اور آئندہ ۲۳ دنوں کے اندر یہ فیصلہ آنے کی امید ہے کہ وہاں مسجد باقی رہے گی یا مندر کی تعمیر ہوگی۔

Facebook Comments