نئی دہلی:بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ۔آج کی سماعت اس حوالے سے تھی کہ مسئلے کا حل عدالت کی نگرانی میں کسی ثالثی کی مدد سے آپسی مفاہمت سے کرائی جانی چاہیے یا نہیں،چونکہ عدالت نے اس سے پہلے ۲۶ فروری کی سماعت میں کہا تھا کہ اگر ایک فیصد بھی آپسی مفاہمت سے مسئلے کے حل کی گنجائش ہے تو ایسی کوشش ہونی چاہیے۔عدالت نے ثالثی کی تجویز پر آج تمام فریقوں کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا اور سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم اس معاملے میں جلد سے جلد سماعت چاہتے ہیں اس کیلئے عدالت نےتمام فریقین سے کہا کہ وہ آج ہی ثالثی کا نام سپریم کورٹ میں پیش کرے تاکہ کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔بتادیں کہ ثالثی کی تجویز پر مسلم فریق تیار ہے البتہ ہندو مہا سبھا کو اس پر سخت اعتراض ہے۔چیف جسٹس رنجن گگوئی والی پانچ ججوں کی بینچ نے آج معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریق اس مسئلے پر آج ہی ثالثی کا نام پیش کرے تاکہ جلد از جلد اس پر آگے سماعت کی جاسکے۔عدالت کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کیس کے سب سے اہم نام اقبال انصاری نے کہا کہ سرکار جو بھی فیصلہ کرے ہم اس کے ساتھ ہے چونکہ پورا ملک اس وقت بابری مسجد کیس میں الجھا ہوا ہے،بات چیت سے جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔وہیں سبرامنیم سوامی نے کہا ایودھیا کی زمین سرکار کی ہے اور ثالثی کی تجویز بےکار کوشش ہے۔

Facebook Comments