نئی دہلی:آج بابری مسجد معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے اپنے فیصلہ میں متنازعہ زمین کی ملکیت رام للا کو دی ہے جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں دوسری جگہ پر پانچ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ہندو فریق ضرور خوش ہیں لیکن مسلم فریق میں کافی مایوسی ہے ،یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن وہ اس فیصلے سے متمئن نہیں ہیں چونکہ جن بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا ہے انہیں بنیادوں پر فیصلہ مسجد کے حق میں جاتا ہے ایسے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔اور اب وہ اس پر نظرثانی کی عرضی داخل کریں گے۔وہیں اس پورے معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی تبصرہ کیا ہے۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ فیصلہ حقائق کے اوپر عقیدے کی جیت ہے اور یہ کسی بھی طرح سے انصاف کے دائرے میں نہیں آتا ،انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے تھے لیکن آج حقائق پر عقیدہ بھاری پڑگیا ۔انہوں نے کہا ہمیں ہندوستانی آئین میں پورا بھروسہ اور ہم سپریم کورٹ کا پورا احترام کرتے ہیں لیکن پھربھی یہ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوا ہے۔

Facebook Comments