نئی دہلی:بابری مسجد رام مندر معاملے پر عدالت نے آج ثالثی کی مدد سے مسئلے کا حل نکالنے کی تجویز پر مہر لگادی ہے۔سپریم کورٹ نے آج ثالثی کے معاملےپر سماعت کرتے ہوئے تین ایسے نام منتخب کئے ہیں جن کو بطور ثالثی سپریم کورٹ نے  نامزد کیا ہے۔ان میں چیف جسٹس خلیف اللہ،مذہبی گرو شر شری  روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پنجو کا نام شامل ہے۔اس ٹیم کی قیادت  جسٹس خلیف اللہ کریں گے اور عدالت کے فرمان کے مطابق ایک ہفتے کے اندر میں مصالحت کا کام شروع ہوجانا چاہیے۔عدالت نے ثالثی سے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر مصالحت کے عمل کو شروع کیا جائے ،چار ہفتے کے اندر صورتحال سے سپریم کورٹ کو باخبر کیا جائے اور آٹھ ہفتے میں عدالت کو فائنل رپورٹ سونپے۔بتادیں کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق مصالحت کا تمام عمل خفیہ رکھا جائے گا ،اس کی میڈیا رپورٹنگ نہیں ہوگی،فیض آباد میں بند کمرے کے اندر مصالحت کی کوشش ہوگی اور اس پورے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی۔

وہیں دوسری طرف  ہندو مہا سبھا اور نرموہی اکھاڑہ کے ممبران نے شری شری روی شنکر کے نام پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی کے طور پر شری شری روی شنکر ہمیں منظور نہیں ہے۔ہندو مہا سبھا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ثالثی سے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے،البتہ ہندو مہاسبھا اور اکھاڑہ کے اعلیٰ ذمہ داران کی طرف سے ایسا کوئی بیان اب تک سامنے نہیں آیا ہے،البتہ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے روی شنکر کے انتخاب پر اعتراض جتایا ہے،انہوں نے کہا ہے کہ رو شنکر ایک غیر جانبدار انسان ہیں ،انہوں نے پہلے کہا تھا کہ اگر مسلمان ایودھیا پر اپنا من نہیں بدلیں گے تو ہندوستان ملک شام جیسا بن جائے گا،اس طرح کے اور کئی متنازعہ بیان روی شنکر دے چکے ہیں ،وہ غیر جانبدار نہیں ہیں بلکہ وہ ایک پارٹی کے نمائندے ہیں۔اویسی نے یہ بھی کہا کہ اب چونکہ عدالت نے انہیں ثالثی بنایا ہے تو انہیں سمجھا ہوگا کہ وہ اب ثالثی ہیں اور ایک ذمہ دار عہدے پر بحال کئے گئے ہیں،اس لئے غیر جانبداری سے کام لینا ہوگا۔وہیں ایک دوسری خبر یہ بھی ہے کہ ثالثی کے پینل میں مزید ارکان کی اضافے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور ممکن ہے کہ کچھ اور ناموں کو اس پینل میں شامل کیا جائے۔وہیں جسٹس خلیف اللہ نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ اس معاملے کا پوری طرح سے پرامن حل نکلے،ہم اس کے حل کیلئے پوری کوشش کریں گے،عدالت کے ہم مشکور ہیں کہ انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔

Facebook Comments